عوامی ریلیف کے حکومتی وعدے اور بڑھتی مہنگائی

ایڈیٹوریل  منگل 2 اکتوبر 2018
عوام پریشان ہیں کہ نئی حکومت کے اقدامات ان دعوؤں کی نفی کررہے ہیں جو قبل از انتخابات کیے گئے تھے۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

عوام پریشان ہیں کہ نئی حکومت کے اقدامات ان دعوؤں کی نفی کررہے ہیں جو قبل از انتخابات کیے گئے تھے۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ عوام سے کیے گئے تمام وعدے پورے کریں گے، انھوں نے وزراء کو عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت کی ۔ اتوار کو بنی گالہ میں ہونے والے اجلاس میں وزیراعظم نے وزراء سے 100 روزہ حکومتی پلان پر بھی مشاورت کی اور اس پر عملدرآمد کے حوالے سے معاملات جلد نمٹانے کی ہدایت کی۔

بلاشبہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جانا اس وقت کی اہم ضرورت ہے، انتخابات سے قبل سہانے خواب دکھانے اور وعدوں کی روایت پرانی ہے لیکن عوام نے پی ٹی آئی کو مینڈیٹ اس امید پر دیا تھا کہ وہ دیگر ’’آزمائی ہوئی‘‘ پارٹیوں سے الگ ثابت ہوگی، اور اب وقت آگیا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت عوام کو مایوس نہ کرے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عوام کی قوت خرید میں کمی کے باعث متوسط اور نچلا طبقہ شدید متاثر ہے، عوامی حلقوں میں اضطراب پایا جاتا ہے جب کہ حکومتی سطح پر عوامی ریلیف کے دعوے اور وعدے روز اول کی طرح ’’سب اچھا ہے‘‘ اور ’’سب ٹھیک ہوجائے گا‘‘ کی راگنی سنا رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ٹیکسوں میں اضافے، ڈالر کی قیمت بڑھنے، شرح سود اور امپورٹ ڈیوٹی میں اضافے کے باعث اوپن مارکیٹ میں مہنگائی کا طوفان آگیا ہے۔ آڑھتیوں نے تاجروں کو مزید 10 سے 20 فیصد مہنگائی کی ’’نوید‘‘ سنا دی ہے۔ تمام امپورٹڈ اشیا کی قیمتوں میں 25 فیصد اضافہ کردیا گیا۔ دوسری جانب اسٹیٹ بینک کے بیان کے مطابق مہنگائی میں اضافے اور جاری حسابات میں خساروں کی بنا پر معاشی صورتحال کے بارے میں خدشات برقرار ہیں، امکان ہے کہ اس سے حقیقی معاشی نمو کی پائیداری متاثر ہوگی۔

مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، خصوصاً مارچ 2018 سے اب تک مالی سال 19 کے ابتدائی دو مہینوں میں عمومی صارف اشاریہ قیمت مہنگائی (CPI) 5.8 فیصد کی اوسط سطح پر رہی جب کہ مالی سال 2018 کی اسی مدت میں یہ 3.2 اور پورے مالی سال 2018 میں اس کی 3.9 فیصد تھی۔ مالی سال 19 کے اسٹیٹ بینک کی مہنگائی کی پیشگوئیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اوسط عمومی مہنگائی 6.5 تا 7.5 فیصد کی بالائی حد کے قریب رہنے کی توقع ہے۔

عوام پریشان ہیں کہ نئی حکومت کے اقدامات ان دعوؤں کی نفی کررہے ہیں جو قبل از انتخابات کیے گئے تھے۔ بلاشبہ ملک کو قرضوں کے بوجھ سے نجات دلانے اور مہنگائی کے بے قابو جن کو بوتل میں بند کرنے کے لیے حکومت کو سخت اور ناپسندیدہ اقدامات بھی کرنا ہوں گے لیکن خیال رہے کہ ٹیکسوں کا بوجھ اس طبقے پر نہ پڑے جو پہلے ہی گزشتہ حکومتوں کی پالیسیوں کا شکار ہوکر مرغ بسمل کی طرح تڑپ رہا ہے۔

مہنگائی اور خودساختہ بڑھتی ہوئی قیمتوںکو کنٹرول کرنے میں پرائس کنٹرول کمیٹیاں اور پرائس مجسٹریٹ مکمل ناکام ہوچکے ہیں، حکومت کو ان عناصر کا فوری محاسبہ کرنا چاہیے جو گراں فروشی کے فروغ میں ملوث ہیں۔ عوام حکومتی وعدوں کے ایفا ہونے کے منتظر ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔