الزائمر دماغی صلاحیت اور زندگی کم کرنے والا مرض ہے، ماہرین طب

اسٹاف رپورٹر  منگل 2 اکتوبر 2018
سیمینار سے پروفیسر اقبال آفریدی ، ڈاکٹراعجاز احمد ،ڈاکٹرشاہین، اوردیگرکاخطاب۔ فوٹو : سوشل میڈیا

سیمینار سے پروفیسر اقبال آفریدی ، ڈاکٹراعجاز احمد ،ڈاکٹرشاہین، اوردیگرکاخطاب۔ فوٹو : سوشل میڈیا

 کراچی: ماہرین طب کا کہنا ہے کہ الزائمر دماغی صلاحیت اور زندگی کو کم کرنے والا مرض ہے۔

نیورولوجی اویئرنس اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن کے زیراہتمام الزائمرمرض سے آگاہی کیلیے سیمینارکا انعقاد کیاگیا جس کے مہمان خصوصی ڈنمارک کے سفیر رولف مائیکل پریرا ہولموبے اور کراچی میں فلپائن کے قونصل جنرل ڈاکٹر عمران محمد تھے، پروفیسر اقبال آفریدی ،پروفیسر فرید اے منہاس،ڈاکٹر اعجاز احمد وہرہ، ڈاکٹر شاہین حئی، ڈاکٹرسہیل احمد،ڈاکٹر عبدالمالک و دیگرنے لیکچرز دیے۔

طبی ماہرین پروفیسر اقبال آفریدی، پروفیسر غلام رسول، پروفیسر اعجاز احمد وہرہ اور ڈاکٹر عبدالمالک کاکہناتھا کہ پاکستان میں حافظے کی کمزوری (الزائمر ) کو بڑھاپے کی علامت سمجھا جاتا ہے حالانکہ یہ ایک دماغی اور زندگی کوکم کرنے والا مرض ہے۔

محتاط اندازے کے مطابق ملک میں تقریباً 5لاکھ افراد اس مرض میں مبتلا ہیں لیکن لوگوںکی اکثریت اس بیماری سے لاعلم ہے،اس کی ابتدائی علامات میں حافظہ کی کمزوری یادداشت کی کمی و روزمرہ سرگرمیوں کابھول جانا شامل ہے جب مرض بڑھتا ہے تو مریض کھانا کھانا، کپڑے پہننااور گھرکے پتے سمیت اپنے بچوں اورقریبی عزیزواقارب تک کوبھولنا شروع ہو جاتا ہے،ایسی صورت میں مریضوں کا بہت زیادہ خیال رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ماہرین نے مزید کہاکہ الزائمر وٹامن بی 12کی کمی، بلند فشار خون، شوگر ، نیند کی کمی اور صحت مندانہ سرگرمیوں کی کمی کی وجہ سے لاحق ہو سکتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔