کرپشن اور سزا

علی احمد ڈھلوں  بدھ 3 اکتوبر 2018
ali.dhillon@ymail.com

[email protected]

یقین مانیں بطور معاشرتی رکن کے ہمیں اُس وقت شرم محسوس ہوتی ہے جب دنیا ہماری کرپشن کو آشکار کرتی ہے، جب عالمی رینکنگ میں ہماری کرپشن کی داستانیں رقم ہوتی ہیں، جب قوم کا کھربوں روپیہ کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے، جب یہ علم ہوتا ہے کہ کرپشن ختم کرنے والا ادارہ خود تنقید کا نشانہ بنا ہوا ہے۔

جب یہ الزام لگتا ہے کہ پاکستان میں جتنی مرضی کرپشن کر لو یہاں کے قوانین میں بہت لچک ہے، سب آزاد ہو جاتے ہیں، جب یہ سننے کو ملتا ہے کہ عدالتیں ٹھوس ثبوت مانگتی ہیں جو تفتیش کرنے والوں کے پاس نہیں ہوتے اور ملزمان بآسانی ناقص پراسیکیوشن سے آزاد ہو جاتے ہیں، جب یہ سننے کو ملتا ہے کہ ملزمان سیاسی اثرو رسوخ رکھتے ہیں اس لیے وہ بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

ایک بزرگ کہتے ہیں کہ جب ہم نے 60اور 70کی دہائی میں بڑے بڑے کام کیے، ڈیم بنائے، صنعتوں میں ترقی ہوئی، اس وقت احتساب کا ادارہ تھا نہ کوئی سوموٹو ایکشن لیا جاتا تھا۔ اس وقت حکمرانوں کی آنکھ میں بھوک نہ تھی۔ وہ سرکاری مال کو اپنی ذات اور اپنے خاندان پر خرچ کرنا حرام سمجھتے تھے۔

قائد اعظمؒ سے لے کر عبدالرب نشتر تک، لیاقت علی خان سے لے کر چوہدری محمد علی تک، ایوب خان سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو تک۔ کسی پر کرپشن کا الزام نہ تھا۔ چونکہ حکمران دیانت دار تھے اس لیے بیورو کریسی میں بھی خیانت کی جرأت تھی نہ رواج۔ وفاقی سیکریٹری، سرکاری گاڑی ذاتی استعمال میں لاتا تھا تو کرایہ سرکاری خزانہ میں جمع کراتا تھا۔

سب سے بڑی بات یہ تھی کہ سیکریٹری خزانہ یا وزیر خزانہ اگر انکار کر دیتا تھا تو اسے وزیر اعظم یا گورنر جنرل، یا صدر فیصلہ بدلنے پر مجبور نہیں کر سکتا تھا! غضب کا مالیاتی ڈسپلن تھا۔ سربراہ حکومت کے منہ سے نکلا ہوا ہر لفظ قانون نہیں بن جاتا تھا۔ یہ باتیں کہہ کر میں اپنے تئیں یہ بات سوچنے پر ضرور مجبور ہو اکہ آخر کوئی نہ کوئی تو خامی ہوتی ہے کہ جس سے ادارہ یا شخصیت ناکام ہوتی ہے۔

جب آپ نے چوروں سے کھربوں روپے وصول کرنے کے دعوے کرنے ہیں تو پھر تیاری بھی پوری کریں، کیوں کہ جو شخص آپ پکڑتے ہیں اُس کا تو سب کچھ دائو پر لگا ہوتا ہے، بالکل اُسی طرح جس طرح ایک قاتل شخص پھانسی سے بچنے کے لیے سب کچھ دائو پر لگا دیتا ہے۔لہٰذا ملزم کے خلاف کیس لڑنے والوں کی پرسیکیوشن کی وہ کلاس ہی نہیں ہوتی جو ملزم کی کلاس ہوتی ہے یا جو ملزم کے دفاعی وکیل نے اختیار کی ہوتی ہے۔

ملزم کے خلاف بڑے بڑے وکیل کھڑے کریں تاکہ کیس کا رخ ہی تبدیل نہ ہو سکے اور ملزمان کٹہرے میں کھڑے ہوں تو انھیں ڈر ہو خوف ہو۔ چھوٹے وکیل کھڑے کرنے سے آج تک کیا کوئی نتیجہ نکلا؟ ایان علی کا کیس آپ کے سامنے ہے، جس انسپکٹر نے اسے گرفتار کیا وہ ہی مارا گیا، پھر بابر ولی قتل کیس میں سارے گواہ مار دیے گئے۔ ایسے حالات میں کس کی جرأت ہے کہ وہ بڑے چوروں پر ہاتھ ڈالے یا چھوٹے وکلاء خود ہی پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔

خیر یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے اداروں نے وہ کارکردگی نہیں دکھائی جو دکھانی چاہیے تھی۔ ادارے نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف ٹھوس شہادتوں کو سامنے نہ لاسکے۔ فرض کیجیے کہ استغاثہ نے واقعتا وہی کیا جو ذرایع ابلاغ میں موجود افواہوں نے کہا، مگر سوال یہ ہے کہ کیا استغاثہ نے ازخود ایسا کیا؟جب یہ علم تھا کہ اتنا بڑا کیس اسلام آباد ہائیکورٹ میں چل رہا ہے تو عام وکلاء کے بجائے ملزم کے وکلاء کے برابر وکلاء کو ہائیر کیوں نہ کیا گیا۔

افسوس یہ ہے کہ اب بھی پاکستان میں کسی بھی بدعنوان کو قانون کا کوئی ڈر نہیں۔اول تو پکڑے نہیں جاتے اگر گرفتار ہوتے ہیں تو ناقص تفتیش سے باعزت بری ہوکر ساری زندگی اپنی ایمانداری کا اعلان کرتے پھر لوٹ مار پر لگ جاتے ہیں۔بظاہر اس کی تمام تر ذمے داری احتساب اداروں پر عائد ہوتی ہے کہ تسلی بخش کارکردگی دکھائیں۔ اس کیس کی پراسیکیوشن نیب جیسا آزاد و خود مختار ادارہ کررہا تھا جس کی ذمے داری ہے کہ وہ بدعنوان عناصر کا احتساب کرے۔ ایون فیلڈ ریفرنس میں نیب پراسیکیوٹر جرم ثابت کرنے میں ناکام کیوں رہا ؟ نیب اس کا بھی جائزہ لے۔

نیب کو اب چاہیے کہ اپنی تمام تر توجہ العزیزیہ اور فلیگ شِپ ریفرنسز پر مرکوز کر دے کیونکہ ایون فیلڈ ریفرنس میں کچھ باقی نہیں بچا۔ ایک بات یہ بھی غور کرنے والی ہے کہ نیب کے ملزمان کی یہ عجیب و غریب منطق بہت ہی کمزور ثابت ہوتی ہے کہ ’’ملزم ‘‘ یہ کہے کہ کوئی کرپشن ثابت نہ ہو سکی۔

سوال یہ ہے کہ الزام کیوں لگا؟ ثابت نہ ہو سکنے کا مطلب یہ کیسے ہو گیا کہ کرپشن نہیں کی۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ کرپشن ثابت نہیں ہوئی۔ دھواں وہیں سے اٹھتا ہے جہاں آگ ہو! آخر کرپشن کا الزام قائد اعظم پر کیوں نہیں لگا۔ عدالتوں میں لیاقت علی خان کیوںنہ گھسیٹے گئے۔ عبدالرب نشتر۔ مولوی تمیزالدین خان۔ نور الامین۔ فضل القادر چوہدری، صبور خان، ان سب پر کرپشن کے الزامات کیوں نہ لگے؟ ذوالفقار علی  بھٹو پر کرپشن کا الزام کیوں نہ لگا۔ نصیر اللہ بابر پر کیوں نہ لگا؟ قمر زمان کائرہ، راجہ ظفر الحق پر کرپشن کے الزامات کیوں نہ لگے؟

اس لیے کہ کرپشن کے الزامات انھی پر لگتے ہیں جو کرپشن کرتے ہیں! رہی جماعتوں کی اجتماعی کرپشن کی تو کسی بھی سیاسی جماعت کا منشور اُٹھا کر دیکھ لیں، زمین آسمان کے قلابے ملاتا، پاکستان کو جنت نظیر بناتا نظر آئے گا لیکن نتیجہ ہمیشہ ’’صاحب نے کھایا پیا کچھ نہیں، گلاس توڑا، بارہ آنے‘‘۔ اب تو قوم بھی سمجھ چکی کہ منشور ،ونشور کچھ نہیں، یہ محض ووٹوں کے حصول کے بہانے ہیں۔

میرے خیال میں اس فرسودہ نظام پر ایک نظر ڈالیں توجعلی بینک اکاونٹس کیس، بلدیہ فیکٹری کیس، ڈاکٹر عاصم حسین کیس، ماڈل ٹاون کیس، آشیانہ ہائوسنگ اسکیم اور صاف پانی کرپشن کیس پر پیش رفت نہ ہونا انتہائی مایوس کن ہے۔ہمیں نظام کو مضبوط کرنے کے لیے کام کرنا ہوگا۔ احتساب کا ایسا نظام بنانا ہوگا کہ ہر کرپشن کرنے والا شخص اس کے بارے میں سوچ کر بھی اپنے مذموم ارادوں کو ترک کر دے اور پاکستان کی ترقی کا پہیہ بھی تبھی چلے گا جب مضبوط احتساب ہوگا ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔