تعلیم یافتہ نوجوان بھی جرائم کا حصہ؟

ظہیر اختر بیدری  جمعرات 4 اکتوبر 2018
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

[email protected]

ایک اخباری خبر کے مطابق کالجز میں زیر تعلیم نوجوان کھلے عام جرائم کا ارتکاب کرنے لگے ہیں۔ یہ کوئی پہلا موقع ہے نہ کوئی نئی بات اس سے قبل بھی کئی بار کالجوں میں زیر تعلیم طلبا عوام سے لوٹ مار کی وارداتیں کرتے رہے ہیں یہی نہیں بلکہ اس حوالے سے المیہ یہ ہے کہ جرائم پیشہ نوجوانوں کو کالجوں کے ہاسٹلز میں رکھا جاتا ہے جن میں دہشت گرد اور مذہبی انتہا پسند نوجوان بھی شامل رہے ہیں۔

اخباروں میں شایع ہونے والی ایک خبر کے مطابق زمان ٹاؤن پولیس کراچی نے کارروائی کرتے ہوئے گھروں میں ڈکیتیوں اور اسٹریٹ کرائم میں ملوث 3 رکنی ڈکیت گروہ کو گرفتار کیا ہے جن کے قبضے سے اسلحہ اور موٹرسائیکلیں برآمد ہوئی ہیں گرفتار ڈکیت گروہ درجنوں وارداتوں میں ملوث بتایا جاتا ہے۔ ان ڈاکوؤں میں سرکاری کالجوں میں زیر تعلیم دو ڈکیت بھی شامل ہیں ۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ ان مجرموں کے والد سرکاری محکموں میں ملازمت کرتے ہیں۔

نوجوانوں میں جرائم کی ایک بڑی وجہ غربت ہے جب یہ تعلیم یافتہ نوجوان اشرافیہ کی اولاد کو قیمتی گاڑیوں میں بے دھڑک سفر کرتے دیکھتے ہیں تو فطری طور پر ان کے دلوں میں بھی یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ وہ بھی قیمتی گاڑیوں میں سائلنسر نکال کر گھومتے رہیں۔ طبقاتی معاشروں کا المیہ یہ ہے کہ اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک نوجوان بھوک، بے کاری، غربت کے شکار رہتے ہیں اور جب وہ لٹیرے اور رشوت خور سرکاری ملازمین کی اولادوں کو اعلیٰ قسم کی زندگی گزارتے اور سڑکوں پر قیمتی گاڑیاں دوڑاتے دیکھتے ہیں تو فطری طور پر ان کے دلوں میں بھی ایسی شان و شوکت کی زندگی گزارنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے لیکن یہ نوجوان عموماً غریب ماں باپ کی اولادیں ہوتی ہیں اس لیے وہ اشرافیہ اور کرپٹ سرکاری افسران کی اولاد کی طرح شان و شوکت کی زندگی گزارنے کی سکت نہیں رکھتے اور اپنی ناآسودہ اور جائز خواہشوں کی تکمیل کے لیے جرائم کے راستے پر چل نکلتے ہیں ، بہ ظاہر تو یہ نوجوان مجرم نظر آتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اصل مجرم وہ طبقاتی معاشرہ ہے جو امیروں کی نااہل اولاد کو عیش و عشرت کی زندگی گزارنے کے سارے مواقعے فراہم کرتا ہے اور غریب طبقات کے اہل بیٹوں کو غربت کی تاریکیوں میں دھکیل دیتا ہے۔

اس معاشی ناانصافی کے شکار نوجوان اپنی جائز خواہشات پوری کرنے کے لیے جرائم کے راستے پر چل پڑتے ہیں۔ اس کا حل گرفتاریاں اور سزائیں نہیں بلکہ طبقاتی معاشرے کو ختم کرکے اہل نوجوانوں کو ان کے خوابوں کے مطابق ایک آسودہ زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔

نوجوان طبقات کو محرومیوں سے نکالنے کے لیے سیمینار کیے جاتے ہیں ،کانفرنسیں کی جاتی ہیں ، اخلاق حمیدہ اور نیک راہ پر چلنے کے درس دیے جاتے ہیں لیکن ان کوششوں کا کوئی مثبت نتیجہ اس لیے نہیں نکلتا کہ طبقاتی ناانصافیوں کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی جو محرومیت کے شکار نوجوانوں کو آسودہ زندگی گزارنے کے مواقعے فراہم کرنے سے قاصر رہتی ہے۔ اقتصادی ناانصافیاں سرمایہ دارانہ نظام کا لازمہ ہیں اور جب تک دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام باقی ہے یہ ناانصافیاں جاری رہیں گی اور تعلیم یافتہ نوجوان بھی جرائم کا حصہ بنے رہیں گے۔ کوئی وعظ کوئی نصیحت نیکی کا کوئی درس محروم نوجوانوں کو راہ راست پر نہیں لاسکتا۔

پاکستان کا شمار پسماندہ ترین ملکوں میں ہوتا ہے یہاں اشرافیائی لوٹ مار کا عالم یہ ہے کہ اعلیٰ سطح بیورو کریسی حکمرانوں کے فرنٹ مین کا کردار ادا کر رہی ہے پکڑے جانے والے بیوروکریٹس کے قبضے سے اربوں روپے اور اربوں روپوں کی جائیداد برآمد ہو رہی ہے ۔

اس حوالے سے بدقسمتی یہ ہے کہ اربوں روپوں کی لوٹ مار کرنے والوں کو مظلوم اور انتقام کا شکار بتایا جا رہا ہے۔ یہ وہی اربوں روپے ہیں جن کی منصفانہ تقسیم ہو تو محروم طبقات کی محرومیاں ختم ہوسکتی ہیں اور جن معاشروں میں حق داروں کو ان کا جائز حق ملتا ہے ، ان معاشروں میں جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ ہمارے ملک کے غریب طبقات محنت کش طبقات دن رات محنت کرکے جو اربوں کی دولت پیدا کرتے ہیں اس پر موروثی اشرافیہ قبضہ کرلیتی ہے جس کا مشاہدہ آج کل پاکستانی عوام کر رہے ہیں۔

ہماری عدلیہ کرپشن اور لوٹ مارکے خلاف جو سخت اقدامات کر رہی ہے اس کے خلاف لٹیرے گروہ شور مچا رہے ہیں کہ ملک میں جمہوریت کو تباہ کیا جا رہا ہے یہ نقارے باز اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ بھاری کرپشن اربوں روپے کی کرپشن کا جمہوریت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ اشرافیہ کی کھلی لوٹ مار ہے جو 71 سالوں سے بلا روک ٹوک جاری ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ غریب، غریب تر اور امیر، امیر تر ہو رہا ہے اور اسی نامنصفانہ کلچر کی وجہ سے کالجوں کے نوجوان اپنی ناآسودہ خواہشات کی تکمیل کے لیے جرائم کے راستے پر چل رہے ہیں لیکن دراصل یہ مجرم نظر آنے والے نوجوان مجرم نہیں بلکہ لوٹ مار کا وہ نظام مجرم ہے جو اہل نوجوانوں کو جرائم کی طرف دھکیلتا ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ 200 ارب روپے غیر ملکی بینکوں میں پاکستان کی اشرافیہ نے چھپا رکھے ہیں۔ میڈیا میں برسوں سے یہ خبریں آرہی ہیں کہ پاکستانی اشرافیہ نے بینکوں سے کھربوں روپوں کے قرض لے کر معاف کرا لیے ہیں، ان کھربوں روپوں کی منصفانہ تقسیم ہو تو کالج کے ہونہار نوجوان اسٹریٹ کرائم کا ارتکاب نہیں کرسکتے۔

اقتصادی ناانصافی اور اشرافیائی لوٹ مار نے غریب طبقات سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو ان کے بہتر مستقبل سے مایوس کردیا ہے جب کسی ملک کے نوجوان اقتصادی انصاف سے محروم ہوجاتے ہیں اور جائز ذرایع سے اپنی خواہشیں پوری کرنے سے محروم کردیے جاتے ہیں تو پھر وہ فطری طور پر ناجائز راستوں پر چل پڑتے ہیں دنیا کے اندھے لوگ ان نوجوانوں کو مجرم سمجھتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ اپنے جائز حقوق سے محروم نوجوان مجرم نہیں بلکہ وہ نامنصفانہ نظام مجرم ہے جو اہل نوجوانوں کو محرومیوں سے دوچار کردیتا ہے اور نااہلوں اور کرپٹ لوگوں کو عوام کی محنت کی کمائی کا مالک بنا دیتا ہے۔

محرومیوں کے شکار ان نوجوانوں کی اصلاح، گرفتاریوں اور سزاؤں سے ممکن نہیں بلکہ اس طبقاتی نظام کی پیدا کردہ معاشی ناانصافیوں کا خاتمہ ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب سیاست اور اقتدار پر یہی کرپٹ عناصر قابض ہوں تو نوجوان طبقات کو معاشی انصاف کون فراہم کرے گا؟ عدلیہ اور نئی حکومت معاشی لوٹ کھسوٹ کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن یہ کام اتنا آسان نہیں کیونکہ  ملک پر قابض اشرافیہ اتنی آسانی سے لوٹی ہوئی اربوں کی دولت سے دستبردار نہیں ہوگی جو عوام کی کمائی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔