پی ایس ایل فرنچائزز کا بینک گارنٹی جمع کرانے سے گریز

سلیم خالق  جمعرات 4 اکتوبر 2018
ٹیموں نے پنجاب حکومت کے ٹیکس پراعتراض اٹھادیا،حکام معافی دلانے کیلیے کوشاں۔ فوٹو:فائل

ٹیموں نے پنجاب حکومت کے ٹیکس پراعتراض اٹھادیا،حکام معافی دلانے کیلیے کوشاں۔ فوٹو:فائل

کراچی: پی ایس ایل کی بیشتر فرنچائزز نے نئی ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود بینک گارنٹی جمع نہ کرائی جب کہ اب تک صرف2ہی ٹیموں نے ایسا کیا ہے۔

بیشتر پی ایس ایل فرنچائززکی جانب سے2ماہ گزرنے کے باوجود  بینک گارنٹی جمع نہ کرانے پر گزشتہ دنوں پی سی بی نے مزید14 دن کا وقت دیا تھا جوچند روز قبل ختم ہو گیا۔

ذرائع نے بتایا کہ صرف 2 ہی فرنچائزز نے  بینک گارنٹی جمع کرائی ہے، ان میں سے بھی ایک نے  ابتدائی مقررہ تاریخ میں ہی ایسا کر لیا تھا، چند روز قبل جب میٹنگ میں یہ بات سامنے آئی کہ دیگر نے بینک گارنٹی نہیں دی تو مذکورہ ٹیم نے بھی اسے واپس مانگ لیا تھا، بورڈ نے دیگر فرنچائزز کو مزید وقت دیا مگر بیشتر نے اسے سنجیدگی سے نہ لیا،چیئرمین پی سی بی کی تبدیلی کے سبب پی ایس ایل کے معاملات ابھی اتنے  اچھے انداز میں نہیں چل رہے ہیں، نئے سربراہ  کی دیگر ترجیحات اور وہ انہی میں مصروف ہیں۔

واضح رہے کہ فرنچائزز کو ہر ایونٹ سے 6 ماہ قبل سالانہ فیس کے مساوی رقم بطور بینک گارنٹی بورڈ کے پاس جمع کرانا ہوتی ہے، رواں ماہ کے آخر میں انھیں انوائس جاری ہوگی جس کے بعد15 نومبر تک فیس ادا کرنے کا وقت دیا جائے گا،مقررہ وقت میں جس نے ادائیگی نہ کی تو اس کی بینک گارنٹی کیش کرا لی جائے گی، سیزن 2میں ایک ٹیم کے ساتھ ایسا ہو بھی چکا ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ گزشتہ ماہ میٹنگ میں فرنچائزز نے بورڈ سے حسابات مانگے تھے اور تاخیر کی وجہ اسی کو قرار دیا تھا،بعض کو اس بات پر بھی اعتراض ہے کہ پنجاب میں رجسٹرڈ نہ ہونے کے باوجود  ان کی کمپنی کو ہر سال صوبائی حکومت کو خطیر رقم بطور ٹیکس دینا پڑتی ہے،واضح رہے کہ ہر فرنچائز کو16 فیصد سیلز ٹیکس اور10 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔

اس بار پی سی بی نے کہا کہ ٹیکس کی جو رقم بنتی ہے اس کا چیک دے دیں، ٹیکس معاف کرانے کی کوشش کی جائے گی، کامیابی پر چیک واپس کر دیں گے۔

دریں اثنا رابطے پر بورڈ کے ترجمان نے کہا کہ اب تک 2 سے3 فرنچائزز نے بینک گارنٹی جمع کرا دی ہے، دیگر بھی جلد ایسا کر لیں گے، یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے، انھوں نے اس سوال کا کوئی جواب نہ دیا کہ بار بار کی ڈیڈ لائنز کے باوجود کیوں بورڈ کی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔