یہ کیسی خود مختاری ہے

نصرت جاوید  جمعرات 16 اگست 2012
nusrat.javeed@gmail.com

[email protected]

صحافی خود کو عقل کُل سمجھنے کے خبط میں مبتلا ہوا کرتے ہیں۔ ہر موقعے کی غزل انھیں منہ زبانی یاد ہوتی ہے۔ کسی بھی موضوع پر بس سوال کیجیے اور ان کی سنتے چلے جائیے۔ 1975ء سے میں بھی صحافت کے پیشے سے وابستہ چلا آ رہا ہوں۔ جو کمایا اور لٹایا، وہ اسی دھندے کی بدولت تھا۔ مگر اب بھی بہت سارے ایسے معاملات و مضامین ہیں جن کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ مثال کے طور پر علم معاشیات ہماری روزمرہّ زندگی سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ مجھے یہ تو پتہ ہے کہ GDP اور GNP کونسے چھ لفظوں پر مشتمل ہیں۔ مگر ان دونوں میں کیا فرق ہے؟ ابھی تک سمجھ نہیں سکا۔

چند ہفتے پہلے میں ایوان صدر میں ایک غیر رسمی کھانے میں موجود تھا۔ صدر زرداری وہاں بڑے غصے اور بے چینی سے یہ جاننے کی کوشش کر رہے تھے کہ ان کی جماعت کی حکومت اقتدار میں اتنے سال گزارنے کے باوجود بینکوں سے لیے گئے قرضوں کے منافع کی شرح کو کم کیوں نہیں کر پائی۔ مجھے ہرگز سمجھ نہ آئی کہ ان کی سوئی اس موضوع پر کیوں اٹک گئی ہے۔ ایک سیاسی رپورٹر کے طور پر میری بڑی خواہش تھی کہ وہ کسی نہ کسی طرح ہمیں یہ بتائیں کہ راجہ پرویز اشرف کی گیلانی کی طرح فراغت کے بعد وہ کونسی چال چلیں گے۔ کون سا مہرہ آگے بڑھائیں گے۔ وہ اس موضوع پر آئے ہی نہیں۔ بینکوں سے قرض والے معاملات پر اٹکے رہے۔

بالآخر گزشتہ ہفتے کے آغاز میں یہ خبر آئی کہ اسٹیٹ بینک نے تقریباََ وہی کچھ کر دیا ہے جو صدر زرداری چاہ رہے تھے۔ اسٹیٹ بینک کی طرف سے کیا گیا یہ اعلان اچھا ہے یا برا، مجھے اس کے بارے میں کچھ خبر نہیں۔ اپنے ٹی وی پروگرام کی ریٹنگ لینے کی خاطر البتہ میں ہر وقت تیار ہوں کہ کوئی میرے ساتھ بیٹھے اور دنیا کو بتائے کہ آصف علی زرداری اپنے یا اپنے کسی چمچے کے ’’کاروبار کے فروغ اور سہولت‘‘ کے لیے بینکوں کو قرضوں کے حوالے سے شرح منافع کم کرنے پر مجبور کر رہے تھے۔

اقتصادی اور مالیاتی امور کی طرح میں دفاعی معاملات کے بارے میں بھی بالکل کورا ہوں۔ ’’افغان جہاد‘‘ سے لے کر امریکا کے عراق پر حملے اور لبنان میں حزب اﷲ اور اسرائیل کے درمیا ن جنگ کو وہاں جا کر دیکھا ہے۔ رپورٹنگ کرتے ہوئے میری توجہ اگرچہ عام انسانوں کی ان مشکلات اور مجبوریوں پر مرکوز رہی جو متحارب فریقین کے درمیان وحشیانہ جنگیں مسلط کر دیا کرتی ہیں۔ سوات میں ہونے والے ملٹری آپریشن کو بھی میں نے انھی نظروں سے دیکھا۔

دفاعی معاملات کے بارے میں بالکل کورا ہونے کے باوجود میں پوری شدت سے اس بات پر زور دے سکتا ہوں کہ جنگوں میں وہی فریق زیادہ کامیاب ہوتے ہیں جو اپنی دفاعی حکمت عملی کو دشمن سے چھپاکر رکھتے ہیں اور اسے بے خبری کے عالم میں گھیر لیتے ہیں۔ اگر میری یہ سوچ درست ہے تو آج کی بزعم خود سپرطاقت۔ امریکا۔ بہت ہی بے وقوف ثابت ہو رہی ہے۔ پاکستان اور امریکا کے درمیان شدید تر ہوتے اختلافات کے طویل ہفتوں کے بعد بالآخر ہمارے وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے پاکستان کے صدر، وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سے بالا بالا امریکی وزیر خارجہ کے ایک معتمد کے ساتھ مذاکرات کیے۔

کئی ہفتوں تک پھیلے ان مذاکرات کے اختتام پر ایک دستاویز تیار ہوئی۔ پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف نے اس کی منظوری دی۔ پھر یہ دستاویز کابینہ کو بھی دکھا دی گئی۔ افغانستان میں مقیم نیٹو افواج کو پاکستانی راستوں کے ذریعے جانے والی رسد بحال ہوئی۔ امریکا نے ایک ارب ڈالر سے زیادہ کی وہ رقم ادا کر دی جو ہم اپنے خزانے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ پر پہلے ہی خرچ کر چکے تھے۔ یہ سب کچھ ہو گیا تو آئی ایس آئی کے سربراہ واشنگٹن چلے گئے۔ انھوں نے اس دورے کے دوران اپنے امریکی ہم منصبوں سے کیا طے کیا۔ مجھے کچھ خبر نہیں۔ میں تو خیر ایک ادنیٰ سا رپورٹر ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ غازیوں کی سر زمین گوجر خان سے آئے ہمارے وزیر اعظم کو بھی اس کی تفصیلی خبر نہیں۔

پاکستانی شہریوں اور نام نہاد منتخب حکمرانوں کی بے خبری کے برعکس امریکی سرمایہ داروں کے ترجمان’’وال اسٹریٹ جرنل‘‘ نے خبر دے دی ہے کہ امریکی اور پاکستانی فوجی حکام کے درمیان ہونے والی حالیہ ملاقاتوں کے بعد فیصلہ ہو گیا ہے کہ شمالی وزیرستان کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے لیے کارروائی کی جائے۔ اس خبر کے چھپنے کے چند دن بعد ہماری وزارتِ خارجہ نے اس کی تردید کر دی۔ مگر اب کوئی امریکی صحافی نہیں، امریکی وزیر دفاع، جو اس وقت سی آئی اے کے سربراہ ہوا کرتے تھے جب ایبٹ آباد پر حملہ کر کے اسامہ بن لادن کو مارا گیا، اخباروں میں خود آ گئے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستانی فوج اب شمالی وزیرستان جائے گی۔

یہ الگ بات ہے کہ اس کا نشانہ افغانستان میں ’’جہاد کرنے والا ‘‘ حقانی گروپ نہیں بلکہ وہ پاکستانی اور پنجابی طالبان ہوں گے جو پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ دفاعی امور کو مجھ سے کہیں بہتر سمجھنے کے دعوے دار سیانے اخبار نویس دعویٰ کر رہے ہیں کہ 13 اگست کی رات کاکول ملٹری اکیڈمی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ایسا ہی آپریشن کرنے کے اشارے دیے ہیں جس کا ذکر امریکی وزیر دفاع کر رہے ہیں۔

مجھے ایک بار پھر یہ اعتراف کرنے دیجیے کہ میں نہیں جانتا کہ شمالی وزیرستان میں کوئی آپریشن ہو رہا ہے یا نہیں۔ مگر ایک بات ضرور عیاں ہو گئی ہے اور وہ یہ کہ ’’فرزندِ راولپنڈی‘‘ سے اپنے تئیں ’’فرزندِ پاکستان‘‘ ہو جانے والے ہمارے لال حویلی کے مکین اس ممکنہ آپریشن کو روکنے کے لیے میدان میں آ گئے ہیں۔

موصوف کو ہمارے ملک کے بڑی ریٹنگ لینے والے بقراطی اینکرز اپنے پروگراموں میں گھنٹوں اکیلے بٹھا کر دفاعی امور کی باریکیوں کو سمجھا کرتے ہیں۔ ان حضرات نے 13 اگست کی رات راولپنڈی کے تاریخی لیاقت باغ میں ’’تبدیلی کے نشان‘‘ کو ساتھ بٹھا کر ایک ایمان افروز تقریر کی۔ وہاں انھوں نے جنرل اشفاق پرویز کیانی کو نام لے کر مخاطب کیا اور انھیں سمجھانے کی کوشش کی کہ پاکستان کے عوام اپنی فوج سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ’’چوروں کی رکھوالی‘‘ نہ کرے۔ سیدھے لفظوں میں ’’فرزندِ پاکستان‘‘ وزیرستان کے بجائے اسلام آباد میں فوجی آپریشن ہوتا دیکھنا چاہ رہے ہیں۔ اسی ضمن میں انھوں نے چیف جسٹس صاحب کو بھی تین بار متنبہ کیا کہ ’’اُس (یہاں ایک انگریزی گالی) کو مار دو ورنہ وہ تمہیں ماردے گا۔‘‘

پاکستانی فوج وزیرستان جائے یا نہ جائے۔ فرزندِ پاکستان‘‘ نے ستمبر میں ’’تبدیلی کے نشان ‘‘ کے لیے وہاں جانے کا بندوبست ضرور کر دیا ہے۔ ’’امیر المومنین ملاعمر‘‘ سے اس استدعا کے ساتھ کہ عمران خان کے وزیرستان جانے کے راستے کھول دیے جائیں۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی۔ عمران خان تو وزیرستان اس لیے جانا چاہ رہے تھے کہ ہماری خود مختاری کو پامال کرنے والے ڈرون حملوں کو روک سکیں۔ یہ کیسی ’’خود مختاری‘‘ ہے جسے وہ ’’فرزندِ پاکستان ‘‘ کی سفارش کے ذریعے ’’امیر المومنین ملاعمر‘‘ کی سرپرستی میں بحال کروانا چاہتے ہیں؟

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔