اور اب جواد نظیر بھی 

سعد اللہ جان برق  جمعـء 5 اکتوبر 2018
barq@email.com

[email protected]

ایسے بہت سارے رسمی اور مروجہ جملے ہیں جو ہم اس وقت لکھ سکتے ہیں اور جواد نظیر پر بعد از مرگ واویلا مچا سکتے ہیں لیکن ایسا کوئی جملہ نہیں بولیں گے کیونکہ جواد نظیر نہ ہمارے لیے عام تھے نہ رسمی اور نہ مروجہ ۔ حقیقتاً ہمیں ایسا لگتا ہے جیسے ہمارے دل سے اچھا خاصا ایک ٹکڑا کٹ کر گر گیا ہو اور اس اتھاہ بحر بیکراں میں کہیں حل ہو گیا ہو جہاں سے کبھی کوئی چیز کبھی واپس نہیں ملی ہے۔

جواد نظیر سے ہماری شناسائی رسمی تھی لیکن پھر تعلق جو لگ بھگ سال رہا وہ رسمی بالکل نہیں تھا۔ کیونکہ پہلی ملاقات ہی میں ایک دوسرے کو جان بھی گئے پہچان بھی گئے اور مان بھی گئے، جس طرح کہتے ہیں کہ ولی را ولی می شناسد، اسی طرح ہم بھی پاگل را پاگل می شناسد کے مصداق ایک دوسرے سے جڑ گئے، ایک دوسرے کے اندر گھس گئے اور ’’من تو شدم تو من شدی ‘‘ کا معاملہ ہو گیا تھا ۔ ہم لاہور جاتے وہی پھرنا بولنا اٹھنا ہو جاتا تھا اور وہ لاہور سے پشاور آتے تو بھی ہم کہیں منہ اٹھا کر چل دیتے ۔ اور وہی کرتے جو ہماری طبیعت میں تھا، مزاج میں تھا اور شاید ڈی این اے میں تھا ۔

احمقانہ قسم کے منصوبے بنانا اور پھر انھیں ادھورا چھوڑ کر کسی اور منصوبے کو شروع کرنا ہم دونوں کا مشترکہ شغل تھا، کبھی ہم سوات میں گائوں گائوں پھر کر زمین تلاش کرتے جہاں ہم سٹرابری کی پنیری اگا سکیں، کبھی سوات کے سلام پور میں بننے والی اون مصنوعات کی تجارت کا منصوبہ بناتے۔ ہم وہاں (لاہور) جاتے تو پتوکی جاکر پھل دار درختوں اور پھول دار پودوں کو ڈھونڈتے اور وہ آتے تو سوات میں ایک مخصوص ٹمپریچر کی زمین تلاش کرتے ۔ انھوں نے ایک منصوبہ بنایا کہ ایک خاص قسم کے ’’ یونانی پھول ‘‘ کو پاکستان میں کاشت کرنا چاہیے تو ہم دو دن سوات میں اس مخصوص ٹمپریچر والے علاقوں میں پھرتے۔ ایک دفعہ جب انھوں نے میاں فاروق کے ساتھ شراکت کرکے ان کی زمینوں پر سٹرابری کاشت کرنے کا منصوبہ بنایا تو سوات سے دو تین لاکھ کی نرسری خرید کر ٹرک میں بھروائی لیکن وہ ٹرک ہی میں بیکار ہوگئی ۔

کبھی کبھی ہم اپنی آدھی ادھوری منصوبہ بندیاں سوچ کر ایک دوسرے پر ہنستے ایک دوسرے پر فقرے کستے کہ احمقانہ منصوبے بنانا کوئی تم سے سیکھے اورہم دونوں سچ بولتے تھے کیونکہ دونوں ہی منصوبہ شروع کرنے اور پھر اسے ادھورا چھوڑنے میں ایک دوسرے سے بڑھ کر تھے ۔

ایسا بالکل نہیں کہ ہمارے سارے منصوبے غلط ہوتے تھے ہر منصوبہ کمال کا ہوتا تھا لیکن اپنی اس عادت کو کہاں جا کر مٹاتے کہ منصوبہ جب شروع ہو جاتا تو اچانک اس سے بھی زیادہ پرکشش کوئی اور منصوبہ ہم سے چمٹ جاتا، ورنہ اگر ایک کو بھی شروع کرتے اور نہ چھوڑتے تو یقیناً کامیاب بھی ہو جاتے لیکن کیا کرتے کہ شروع ہونے سے پہلے جو منصوبہ ہمیں بے مثال لگتا شروع کرتے ہی وہ اپنی کشش کھو دیتا اورکوئی دوسرا منصوبہ ہمیں آنکھ مار کر خود پر لٹوکرتا ۔

درویش آدمی تھے ۔ فون کرتے کہ میں پشاور آرہا ہوں تیار ہو جائو فلاں مقام جا کر فلاں فلاں کام کا جائزہ لیں گے ۔

آخری منصوبہ ان کا چارسدہ کے مقام رجڑ سے کھڈی کا سوتی کپڑا لے جا کر لاہور میں کوئی تجارت اپنانے کا تھا ۔ لیکن اس مرتبہ ہمیں اطلاع دیے بغیر سیدھے رجڑ گئے تھے ہمارے پاس آئے تو گاڑی رجڑ والے کپڑے سے بھری ہوئی تھی۔ اب ہمیں یہ اچھی طرح معلوم تھا کہ رجڑ میں یا سوات وغیرہ میں جس کپڑے کو مقامی دستی کھڈیوں کا بتایا جاتا ہے وہ پنجاب ہی کے فیصل آباد لاہور اور سرگودھا میں بنتا ہے لیکن یہ بات ہم انھیں بتانا نہیں چاہتے تھے لیکن اس منصوبے پر پھولے نہیں سما رہے تھے ویسے بھی ہمیں یقین تھا کہ خود ہی کچھ روز بعد اسے بدل دیں گے۔

ہم آج کل گائوں سے بھی بھاگ کر چار پانچ کلومیٹر دور کھیتوں میں ایک طرح جنگل کے باسی ہیں لیکن جواد نظیر یہ تکلیف دہ سفر کرکے بھی پہنچ جاتے اور ہم اپنی ہابی یعنی کچے پکے منصوبے بناتے رہتے ۔

ہماری زندگی میں شاید وہ آخری آدمی تھے جس سے ہماری طبیعت اتنی ہم آہنگ ہو گئی تھی کیونکہ اب اگر کوئی ملے بھی تو ہم منہ پھیر کر آگے بڑھ جائیں گے ایسے تعلق کا فائدہ کیا ؟

جو سوائے دکھ کے اور کچھ نہ دے ۔ ایسے ساتھی اور ہم سفر سے کیا فائدہ جو آدھے راستے بچھڑ جائے ۔ بقول قلندر مومند کہ ۔ اے قلندر تم ایسے بہت سارے ’’ دوستوں ‘‘ کو ہار دو گے کہ یہ راستہ جو تم نے چنا ہے یہ اس میں کوئی کسی کا ساتھ نہیں دیتا ۔

توقع تو ہمیں تھی کیونکہ انھوں نے زندگی کو جس غیر سنجیدگی سے لیا ہوا تھا ۔ اس میں یہ ہی ہونا تھا اور ہو گیا ۔ خود تو کہیں آرام سے جاکر بیٹھ گئے ہوں گے اور شاید منصوبہ بندی میں مصروف ہو گئے ہوں گے لیکن ہمیں بہت بڑے خسارے سے دوچار کر دیا جب جب جتنی جتنی یادیں آئیں گی رلا رلا کر رہیں گی ۔

لاکھ سمجھایا کہ یہ لاابالی پن چھوڑ کر اور صرف کالم نگاری کر۔ لیکن جو کام وہ بہترین بلکہ منفرد طریقے پر کر سکتے تھے صرف وہی نہیں کرتے باقی سب کچھ کرتے تھے ۔

ایکسپریس میں کہیں اکا دکا کالم لکھ ڈالتے تھے تو وہ کمال کا ہوتا تھا ۔ سکھ سرداروں کو اپنا ’’ میڈیم ‘‘ بنا کر جو جواہر پارے تخلیق کرتے تھے وہ اپنی مثال آپ ہوتے تھے، سرداروں کے لطیفے تو بہت سے لوگ بیان کرتے تھے لیکن وہ ہر لطیفے کو اتنی صحیح جگہ پر بٹھاتے تھے جیسے اس کی تخلیق ہی اس جگہ کے لیے ہوئی ہو ۔ جی تو چاہتا ہے کہ اس کم بخت لاہور سے تعلق ہی توڑ دیں کہ لوگ وہاں جا کر ’’ سدا ‘‘ ہو جاتے ہیں اور ہم دوستوں کو گم کر بیٹھتے ہیں، دلدار بھٹی، منو بھائی، حمید اختر، راجہ انور اور اب جواد نظیر بھی

بے کاری جنوں میں ہے سر پیٹنے کا شغل

جب ہاتھ ٹوٹ جائیں تو پھر کیا کرے کوئی

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔