ڈریم گرل

عابد میر  ہفتہ 8 جون 2013
khanabadosh81@gmail.com

[email protected]

میٹروپولیٹن سے کاسموپولیٹن کا روپ دھارتے، دنیا کے چند بڑے شہروں کی فہرست میں نمایاں، روشنیوں کا شہر کہلوانے والے کراچی میں جہاں کہیں آپ کو ’سلم ایریاز‘ (جھونپڑ پٹیاں) نظر آئیں، جان لیجیے کہ وہاں کوئی بلوچ آبادی ہی ہوگی۔ ہر وہ علاقہ جہا ں بنیادی سہولیات کے فقدان کا رونا رویا جارہا ہو، کوئی بلوچ علاقہ ہی ہوگا۔ بھلے کسی زمانے میں مائی کلاچی نامی بلوچ خاتون نے مچھیروں کی اس بستی کو آباد کیا ہو، لیکن فی زمانہ اس نسل کے لوگ اس بستی کے تیسرے درجے کے شہری ہیں۔ ان کے طرز رہائش اور معیار زندگی کا اندازہ نہ ہو تو ذرا لیاری کی لی مارکیٹ، شیرشاہ یا مواچھ گوٹھ کا ایک چکر لگا لیجیے، اور پھر ذرا ایک نظر کلفٹن اور ڈیفنس کی طرف بھی دوڑائیے، سرمائے کے ارتکاز والے طبقاتی سماج کی اصل اوقات نظر آجائے گی۔

وہ لیاری جو کسی زمانے میں فٹ بال کے عالمی سطح کے کھلاڑیوں کے لیے مشہور تھا، جہاں ایک سے ایک اعلیٰ سیاسی ذہن نمو پذیر تھا، اور اب جس کی وجہ شہرت محض گینگ وار ہے، یہیں سے ہوتا ہوا سندھ بلوچستان کے سنگم پہ واقع حب کی جانب جانے والا روڈ لے لیں، تو کوئی دس کلومیٹر کے فاصلے پر مواچھ گوٹھ نام کی ایک بستی آتی ہے۔ یہ کراچی کے معروف سلم ایریاز میں سے ہے۔ یہاں کی اکثریتی آبادی بلوچ ہے۔ مردوں کی اکثریت معمولی کام کاج سے وابستہ ہے یا پھر کراچی پورٹ ٹرسٹ جیسے اداروں میں درجہ چہارم کی ملازمت میں مگن۔ تنگ و تاریک سیلن زدہ گلیوں میں سے گزرتے ہوئے آپ ایک میدان میں پہنچتے ہیں، جہاں آپ کو ڈریم ٹرسٹ فائونڈیشن اسکول کی نیم نوتعمیر شدہ عمارت کا ڈھانچہ نظر آتا ہے۔ اردگرد کے کچے اور تنگ و تاریک مکانوں کے بیچ اسکول کی بننے والی یہ عمارت یوں فخر سے سر اٹھائے کھڑی ہے، جیسے چینیوں کے لیے دیوار چین حفاظتی حصار بنائے ہوئے ہے۔

یہ اسی علاقے کی ایک ایسی لڑکی کے خواب کی تعبیر ہے، جس نے تاریکیوں کے ایک مسلسل و مستقل سلسلے سے بغاوت کرتے ہوئے علم کی روشنی کا خواب دیکھا۔ ایک ایسی جگہ جہاں مرد کمانے کی مشین ہو، عورت کا بچے پیداکرنے والی مشین بن جانا فطری امر ہوجاتا ہے (حالانکہ یہ نہایت غیرفطری عمل ہے) اور پھر ایسی کمیونٹیز پر عقائد کی ایسی تشریح تھوپ دی جاتی ہے، جس کی رو سے عورت پردے کی دیوار میں چن دی جاتی ہے۔ یہ عمل رفتہ رفتہ روایت کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ اور ایسے بنیاد پرست سماج میں روایت سے بغاوت کی کم ترین سزا موت ہوتی ہے۔ ان تمام تر خطرات کے باوجود ایک لڑکی نہ صرف علم کا خواب دیکھتی ہے، بلکہ پردے کی دیوار کو گرا کر اس کی تعبیر کے لیے نکل کھڑی ہوتی ہے تو اس کے جذبے، ہمت ، جرأت اور خلوص کی داد نہ دینا کم ظرفی اور اس کا ساتھ نہ دینا بزدلی ہی کہلائے گا۔

حمیرا بچل کی یہ کہانی تین برس قبل جب ایک این جی او کے لیے کام کرنے والے ہمارے کچھ دوست ڈاکیومنٹری کی صورت میں ہمیں دکھا رہے تھے، تو ہم نے اپنے روایتی استہزا میں یہ جان کر اسے درخورِ اعتنا نہ جانا کہ یہ سارا ڈرامہ محض ایک پراجیکٹ کے لیے ہے۔ اس لڑکی کی کہانی کو پراجیکٹ کے حصول کے لیے استعمال کر کے اسے استعمال شدہ ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیا جائے گا اور پھر کوئی نئی کہانی ڈھونڈی جائے گی۔ این جی اوز شاید ایسا ہی کرتیں، اگر یہ جواں ہمت لڑکی اپنے خواب کی تعبیر کے لیے مسلسل جدوجہد کی کٹھن راہ پہ نہ چل پڑی ہوتی۔

اپنی بستی سے کئی کلو میٹر دور جا کر لڑکیوں کے اسکول میں تعلیم حاصل کرنے والی حمیرا نے تبھی شاید تہیہ کر لیا کہ وہ اپنی ہم جنس سہیلیوں کو اس قدر کٹھنائیوں کا شکار نہ ہونے دے گی۔ اس نے ایک ایسے تعلیمی ادارے کا خوا ب دیکھا، جو اس جیسی ضرورت مند بچیوں کو ان کے گھروں تک مفت تعلیمی سہولیات پہنچائے۔ اور پھر 2003 میں اس خواب نے ڈریم ٹرسٹ فاؤنڈیشن کی شکل اختیار کی۔ دس برس قبل شاید خود حمیرا نے بھی نہ سوچا ہوگا کہ جو بیج وہ اپنی خواہشوں کی سرزمین میں بو رہی ہے، اس کا ثمراس قدر جلد اور اتناحوصلہ افزا ہو گا۔ وہ حمیرا، جس کے اسکول پڑھنے کی اولین مخالفت خود اس کے باپ اور بھائیوں نے کی، اپنے عزم اور استقلال کے باعث اپنے اردگرد کے لیے ایک ایسی رول ماڈل ثابت ہوئی کہ بستی کے سبھی والدین اپنی بچیوں کو حمیرا بنانے کے خواب دیکھنے لگے۔ بنیاد پرست معاشرے میں پروان چڑھے سبھی مردوں کی مخالفت کے دوران بھی ایک ماں ہی تھی، جو اس کی ہمت کا دامن وسیع کرتی رہی، جو خود اسے نہ مل سکا، وہ سب اس نے اپنی بچیوں، اپنے اردگرد کی سبھی بچیوں کے لیے سوچا۔ اس بغاوت پر مردوں کی مار کھائی، طعنے برداشت کیے، دشنام سہے، پر اپنی بچیوں کو کمزور نہ ہونے دیا اور مائوں کی دعائیں بھلا کب پوری نہ ہوئیں… سو ماں کی دعا اور حمیرا کی شبانہ روز محنت رنگ لائی۔

حمیرا نے سب سے پہلے اپنے خواب کی تعبیر کا آغاز گھر سے کیا۔ اس نے اپنی چھوٹی بہنوں اور ہمسائے کی بچیوں کو گھر پہ پڑھانا شروع کردیا۔ یہ سلسلہ بڑھا تو اسے اسٹریٹ اسکولز کی شکل دے دی گئی۔ گلی، محلوں میں جہاں ممکن ہوتا حمیرا اور اس کی ٹیم بچیوں کو پڑھانے پہنچ جاتی۔ یوں دیکھتے ہی دیکھتے بستی میں ان کی ٹیم نے اپنی جگہ بنا لی اور پھر ایک ایک جگہ بھی لے لی۔ باضابطہ اسکول کا آغاز ہوا۔ اس کی ٹیم میں شامل سبھی لڑکیاں رضاکارانہ طور پر بچیوں کو تعلیم دیتی رہیں۔ یہ معاملہ لیاری کے کچھ ہم خیال نوجوانوں تک پہنچا، جو لیاری میں اسی نوعیت کے اسٹریٹ اسکولز کئی برس سے چلا رہے تھے۔ باہمی رابطے کی صورت پیدا ہوئی۔ خواب، خوابوں سے آملے۔ باہمی تعاون کا آغاز ہوا۔ خوابوں کو تعبیر دینے والے کچھ اداروں کی تلاش شروع ہوئی۔ کچھ اداروں نے ہاتھ آگے بڑھائے، یوں حمیرا اور اس کی ٹیم کا خواب تعبیر کی اَور بڑھنے لگا۔گزشتہ تین برسوں میں حمیرا کو کچھ ایسے دوستوں کی رفاقت میسر آئی جنہوں نے ادارے کی تشہیر میں دن رات ایک کیے۔

اس کے نتیجے میں وہ بعض عالمی اداروں تک پہنچ پائے۔ جنہوں نے ان کے اسکول کے لیے انھیں ذاتی پلاٹ خرید کر دیا۔ اسی پلاٹ پر اب اس غریب بستی میں بچیوں کو مفت تعلیم دینے والا ڈریم ٹرسٹ فاؤنڈیشن کا اسکول زیر تعمیر ہے۔ جس کی تعمیر کے چندے کے لیے حمیرا اس وقت دنیا کے دورے پر ہے۔ اس دورے میں اسے خواتین پر تیزاب پھینکنے کے خلاف ’سیونگ فیس‘ کے نام سے بنانے والی ڈاکیومینٹری پر آسکر ایوارڈ جیتنے والی پہلی پاکستانی خاتون شرمین عبید چنائے کی قابل رشک  رفاقت حاصل ہے۔ یہ ٹیم پہلے امریکا گئی جہاں انھیں دیگر اداروں سمیت سی این این پر بھی پیش کیا گیا۔ اب حالیہ دنوں میں اس نے لندن کے ایک اسٹیڈیم میں میڈونا کے ہمراہ پچاس ہزار افراد کے سامنے اپنا کام پیش کیا۔ پاکستانی خواتین کے لیے باعث فخر شرمین عبید چنائے اور یورپین موسیقی کی لتا منگیشکر سمجھی جانے والی میڈونا کے پہلو میں کھڑی سانولے نین نقش والی، مواچھ گواٹھ کی ایک بلوچ لڑکی عزم و استقلال کی ایک ایسی تصویر نظر آتی ہے، جس پر بجا طور پر فخر کیا جا سکتا ہے۔

وہ الہڑ جوانی کہ جس عمر میں دوشیزائیں دور دیس سے آنے والے کسی شہزادے کے خواب دیکھا کرتی ہیں، تاریک مکانوں کی باسی اس بلوچ لڑکی نے اپنی آنکھوں کے سبھی خواب علم کے نام کیے۔ ہماری خواہش ہوگی کہ اس کا ڈریم ٹرسٹ فائونڈیشن اسکول، ایک ایسی نرسری ثابت ہو جہاں حمیرا جیسی جرأت مند، باحوصلہ اور پر عزم لڑکیوں کی ’کلوننگ‘ ہوسکے۔ اس جیسی سیکڑوں حمیرائیں پیدا ہوں، جنھیں تعلیم کو ترسے ہوئے بلوچستان کے کونے کونے میں بیج کی مانند بو دیا جائے۔ ایک عرصے سے جنگ میں نہائے ہوئے بلوچستان کو ایسی ’ڈریم گرل‘ کی سخت ضرورت ہے، جو یہاں کی ہر بچی کی آنکھوں میں علم کا خواب بو سکے۔ اس لیے حمیرا کی کامیابی ہم سب کی کامیابی ہوگی، اس کی فتح میں ہم اپنے خوابوں کی فتح دیکھتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔