احمد شہزاد کیس، پوری دال ہی کالی ہے

سلیم خالق  ہفتہ 6 اکتوبر 2018
اب بھی اگر کمزور کو سزا اور طاقتور کو بچا لینے کی پالیسی پر عمل ہو رہا ہے تو پھر فائدہ کیا ہوا . فوٹو : فائل

اب بھی اگر کمزور کو سزا اور طاقتور کو بچا لینے کی پالیسی پر عمل ہو رہا ہے تو پھر فائدہ کیا ہوا . فوٹو : فائل

’’تم نے ممنوعہ دوا کیوں استعمال کی‘‘

’’میں چاہتا تھا کہ قوت بخش جز کی مدد سے اپنی کارکردگی میں اضافہ کروں اس لیے‘‘

کیا آپ یہ توقع کر سکتے ہیں کہ کوئی کھلاڑی کبھی ایسا اعتراف کرے گا؟ ہمارے ملک میں فکسنگ کرنے والے بھی رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے باوجود برسوں اپنی بے گناہی کا ڈھنڈورا پیٹتے رہتے ہیں، ایسے میں ڈوپنگ پر کون اپنی غلطی مانے گا، مگر آفرین ہے اس سسٹم پر جو جانتے بوجھتے ہوئے بھی قصوروار مگر طاقتورشخص کو وہ سزا نہیں دیتا جو دینی چاہیے، اسی لیے متواتر ایسے کیسز سامنے آتے رہتے ہیں، احمد شہزاد کی مثال سامنے ہے۔

جب چند ماہ قبل مجھے پتا چلا کہ ان کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت آیا ہے تو فوراً خبر بریک کردی، عمر فاروق کولسن اور سہیل عمران جیسے صحافی گواہ ہیں کہ میں نے ان سے اسی وقت کہہ دیا تھا کہ اگلی خبر یہ سامنے آئے گی کہ ’’غلطی سے کسی رشتہ دار کی دوائی کھا لی اس لیے مشکل میں پڑ گیا، جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا تھا‘‘ اور اب ایسا ہی ہوا، اس ملک میں اگر آپ کے پاس پیسہ ہے اور اعلیٰ حلقوں میں تعلقات ہیں تو بڑے سے بڑا جرم کر کے بچنا بھی ممکن ہے تو ڈوپنگ تو معمولی بات تھی۔

احمد شہزاد کا کرکٹ میں دماغ کام نہیں کر رہا مگر وکیل کے انتخاب اور سوشل میڈیا ٹیم کی حد تک وہ جینئس ہیں، انہوں نے خوبصورتی سے اپنے کارڈز شو کیے، پی سی بی ابتدا ہی سے اس کیس میں انجانے دباؤ کا شکار رہا، نجم سیٹھی جب تک چیئرمین رہے ان کی پوری کوشش تھی کہ احمد شہزاد کے بارے میں خود کوئی فیصلہ نہ کریں، شاید اوپنر کے کسی ’’چاہنے والے‘‘ کو وہ ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے، نئے چیئرمین احسان مانی کے دور میں بھی کافی دنوں تک فیصلے کا اعلان نہ ہوا، اگر میڈیا اس ایشو کو زندہ نہ رکھتا تو شاید ایک دن پابندی کا دورانیہ مکمل ہونے کا ہی اعلانیہ سامنے آتا۔

اس کیس کو بورڈ نے ابتدا سے ہی مس ہینڈل کیا،3 مئی کو فیصل آباد میں پاکستان کپ کے دوران احمد شہزاد کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت آیا،20 جون کو میں نے یہ خبر بریک کی تو بورڈ کو بھی اعتراف کرنا پڑا، پھر حکام چین کی نیند سوتے رہے،10 جولائی کو چارج شیٹ جاری کرتے ہوئے اوپنر کو عبوری طور پر معطل کیا گیا اور اب5 اکتوبر کو چار ماہ پابندی کی سزا کا اعلامیہ سامنے آیا، یوں وہ آئندہ ماہ دوبارہ کھیل میں واپس آ جائیں گے، کیا کوئی جج مجرم سے پوچھتا ہے کہ ’’ بیٹا کتنی سزا دوں‘‘ اور جواب میں کیا وہ کہتا ہے کہ ’’اگر زیادہ سزا دی تو مجھے مالی نقصان ہوگا اس لیے علامتی سزا سنا دیں‘‘ مگر اس کیس میں ایسا ہوا، بورڈ نے احمد شہزاد سے کہا کہ غلطی مان لو کم سزا دے دیں گے، ورنہ کیس لڑا تو چار سال کی پابندی کا شکار بھی ہو سکتے ہو۔

اوپنر پہلے تو انکار کرتے رہے مگر پھر چار ماہ پر اتفاق ہو گیا، حیرت کی بات ہے کہ جو بورڈ اسپاٹ فکسنگ کا کیس برسوں لڑتا رہا وہ ڈوپنگ کے کیس میں کیوں گھبرا رہا تھا، احمد شہزاد نے ڈوپ ٹیسٹ کیلیے سیمپل دیتے ہوئے فارم میں کوئی دوا نہ کھانے کا لکھا تھا بعد میں بورڈ کے سامنے کہا کہ کینسر میں مبتلا ایک قریبی عزیزہ کی گولی غلطی سے کھا لی تھی، اب اگر اس غلط بیانی کو سامنے رکھتے ہوئے واڈا اور آئی سی سی کم سزا پر اعتراض اٹھا دیں تو بورڈ کیا کرے گا؟ ابھی خطرہ ٹلا نہیں سزا میں اضافہ ہوا تو حکام کو سبکی کا سامنا کرنا پڑے گا کیوں کہ میں نہیں سمجھتا کہ احمد شہزاد کی اتنی پہنچ ہے کہ وہ آئی سی سی اور واڈا پر بھی دباؤ ڈال سکیں۔

اس کیس میں ان پر کم سے کم ایک سال کی پابندی تو لگانی چاہیے تھی تاکہ دیگر کھلاڑیوں کو کوئی تو سبق حاصل ہوتا، ماضی میں میچ فکسنگ کرنے والوں کو بھی ہم نے کوئی سزا نہیں دی اور وہ آج بھی ہیرو بن کر ٹھاٹھ سے گھوم رہے ہیں، بعض لوگوں نے لبادوں کے پیچھے اپنے اصل چہرے چھپائے ہوئے ہیں، انہیں دیکھ کر نئی نسل کے کرکٹرز نے سوچا کہ یہ سب کچھ کر کے ہیرو ہیں تو ہم بھی ایسا کر سکتے ہیں،اس کا نقصان پاکستان کو ہی اٹھانا پڑا، اب ڈوپنگ میں بھی ’’زیروٹولیرنس‘‘ کے کھوکھلے نعرے لگا کر عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے، ہر بار جو پکڑا جائے وہ کوئی جواز دے کر بچ جاتا ہے سخت سزا نہیں دی جاتی، اسی لیے پھر نئے کیسز سامنے آ جاتے ہیں، نجانے ہم لوگ کب سدھریں گے۔

ویسے ایک بات ماننے کی ہے کہ احمد شہزاد نے اسکرپٹ بہترین تیار کرایا، ’’ماری وانا‘‘ واقعی مذکورہ دوا میں استعمال بھی ہوتی تھی، امریکی ڈاکٹرز نے اس کی تصدیق بھی کر دی،البتہ ٹیسٹ میں زیادہ مقدار صرف ایک گولی سے ہی کیسے سامنے آگئی اس کا جواب جاننے کی کسی نے کوشش نہ کی یا دانستہ اس نکتے کو نظر انداز کیا گیا، ویسے بھی ماضی میں وسیم اکرم، وقار یونس، مشتاق احمد اور عاقب جاوید بھی ویسٹ انڈیز میں ’’ ماری وانا‘‘ استعمال کرتے ہوئے گرفتار تک ہو چکے۔

لہذا پاکستانی کرکٹرز کیلیے یہ کوئی نئی چیز نہیں تھی ، یقین مانیے اگر یہی غلطی کوئی غیرمعروف کھلاڑی کرتا تو کئی ماہ پہلے ہی اس پر ایک، دو سال کی پابندی لگا دی جاتی مگر قصوروار کرکٹر کا نام چونکہ احمد شہزاد تھا جو بااثر ہونے کے ساتھ دولتمند بھی ہے لہذا صاف بچا لیا گیا، اگر وہ قومی ٹیم میں شامل ہوتے تو نیوزی لینڈ سے سیریزکے اختتامی میچز بھی کھیل جاتے مگر اب ٹی ٹین لیگ، امارات لیگ پھر پی ایس ایل سب ہی کھیل پائیں گے یوں انہیں ’’کروڑوں‘‘ کا نقصان نہیں ہوگا، بورڈ میں کیا یہ تبدیلی آنی تھی، اب بھی اگر کمزور کو سزا اور طاقتور کو بچا لینے کی پالیسی پر عمل ہو رہا ہے تو پھر فائدہ کیا ہوا،اگر ایسا ہی ہوتا رہا تو پھر کسی بہتری کی امید نہ رکھیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔