غربت سعودی عرب میں بھی ڈیرے جمانے لگی

محمد اختر  اتوار 9 جون 2013
تیل کی دولت سے مالامال سلطنت کو مستقبل میں زندگی کے تلخ حقائق کا سامنا کرنا  پڑ سکتا ہے۔ فوٹو: فائل

تیل کی دولت سے مالامال سلطنت کو مستقبل میں زندگی کے تلخ حقائق کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ فوٹو: فائل

تیل کی دولت سے مالامال سعودی عرب دنیا کے ا میر ترین ملکوں میں سے ایک ہے اور اکثر لوگ اس کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ وہاں عوام بھی بہت امیر ہوں گے۔

لیکن ایسا نہیں ہے۔سعودی عرب کے امیرترین ملک ہونے کے  باوجود   وہاں پر لاکھوں کی تعداد میں لوگ  غربت کی زندگی گذار رہے ہیں۔دنیا کے دیگر غریب ملکوں کی طرح وہاں بھی کچی آبادیاں اور چھوٹے چھوٹے گھر ہیں جن میں لوگ کسمپرسی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔

فاطمہ کا خاندان

فاطمہ ہزازی کا گھر  بھی ایسا ہی ہے۔ان کے حالات بہت خراب ہیں حتیٰ کہ بجلی کا بل آتا ہے تو وہ پریشان ہوجاتے ہیں کہ بل دینے کے لیے پیسے کہاں سے آئیں گے۔فاطمہ کا گھر سعودی دارالحکومت ریاض کے غریب ترین علاقے میں واقع ہے۔ فاطمہ بتاتی ہے :’’بچوں کی ضروریات بہت زیادہ ہیں۔لیکن ہمارے لیے تو زندہ رہنا مشکل ہے۔جب بل آتے ہیں تو میرا دل ڈوبنے لگتا ہے۔‘‘

فاطمہ کا خاوند  ایک سرکاری محکمے میں ملازمین کو کافی پلانے کا کام کرتا ہے اور اس کی تنخواہ انتہائی تھوڑی ہے۔اس کی تنخواہ سے بمشکل گھر کا کرایہ پورا ہوتا ہے۔بجلی ، گیس اور پانی کے بل دینا تو بہت مشکل ہوجاتا ہے۔فاطمہ کا خاندان کئی مرتبہ فاقوں پر مجبور ہوتا ہے ۔ مہینے میں ایک بار گھر میں گوشت پک جائے تو غنیمت سمجھا جاتا ہے۔اس طرح بعض اوقات تو انہیں یہ خدشہ ہوتا ہے کہ کہیں وہ پانی سے بھی محروم نہ ہوجائیں۔بارش کے دنوں میں ان کے گھر کی چھت ٹپکنے لگتی ہے  لیکن ان کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں ہوتے کہ بازار سے جاکر پلاسٹک کی شیٹ لے آئیں جسے اوپر بچھاکر چھت کو ٹپکنے سے بچایا جائے۔آج کل ان کا فریج خراب پڑا ہے لیکن اسے مرمت کرانے کے لیے بھی ان کے پاس پیسے نہیں۔تاہم ان تمام چیزوں کے باوجود بجلی ایک ایسی چیز ہے ، جس سے محروم ہونے کے وہ بالکل بھی متحمل نہیں ہوسکتے۔

فاطمہ کے بستر کے پائے کے ساتھ ایک سفید رنگ کی مشین پڑی گھررگھرر کررہی ہے۔اس  مشین کے ساتھ ایک باریک پلاسٹک کا پائپ لگا ہوا ہے جو ایک نلکی کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور یہ نلکی فاطمہ کے پیٹ میں دھنسی ہوئی ہے۔یہ ہوم ڈائلاسس کی مشین ہے جو فاطمہ کے لیے بہت ضروری ہے۔اس تکلیف دہ طریقے کے ذریعے اس کے خون کی صفائی کی جاتی ہے کیونکہ اس کے گردے خراب ہیں اور یہ کام کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔فاطمہ بتاتی ہے:’’اگر میں بجلی کا بل نہ دوں تو بجلی چلی جاتی ہے۔ بجلی چلی جائے تو میری مشین رک جاتی ہے۔اور اگر مشین رک جائے تو۔۔۔۔۔‘‘ فاطمہ جملہ مکمل نہ کرسکی۔ اس کی آواز رندھ گئی۔فاطمہ اگر اس قابل ہوکہ گردوں کا ٹراسپلانٹ کراسکے  تو اس کی تکلیف دور ہوسکتی ہے  لیکن اس کے لیے جتنی رقم کی ضرورت ہے ، وہ اس کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ بصورت دیگر اگر اس کے پاس اتنے پیسے آبھی جائیں تو گردوں کے عطیہ کے لیے اسے کئی سال انتظار کرنا ہوگا۔

چالیس لاکھ لوگ غریب

سعودی عرب  دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہیں جہاں محلات جیسے گھر ہیں اوران میں سے کچھ گھر تو اربوں روپے مالیت کے ہیں لیکن اس کے باوجود سعودی عرب کی بیس فیصد آبادی یا چالیس لاکھ کے قریب لوگ فاطمہ ہزازی جیسی زندگی جیتے ہیں جس کا کنبہ  آٹھ افراد پر مشتمل ہے جبکہ مہینے کی آمدن لگ بھگ صرف ایک ہزار ڈالر ہے۔اس طرح سعودی عرب کے معیار کے مطابق چالیس لاکھ سعودی شہری  خط غربت سے نیچے زندگی گذار رہے ہیں۔اس طرح سعودی عرب کے مقررکردہ معیار کے مطابق جو افراد  ساڑھے چار سو ڈالر مہینہ سے کم پر گذارہ کررہے ہیں ، وہ خط غربت سے نیچے کی زندگی گذارنے والوں میں شمار ہوتے ہیں۔

سعودی ادارے نیشنل سٹرٹیجی ٹو کومبیٹ  پاورٹی کے مطابق سعودی عرب کی کل آبادی کے  1.63  فیصد افراد ا خط غربت سے  انتہائی نیچے زندگی گذار رہے ہیں۔یاد رہے کہ سعودی حکومت نے ملک میں غربت کا پتہ چلانے کے لیے حال ہی میں ایک  منظم سروے کا آغاز کیا ہے جس کے تحت   لوگوں اور ان کی آمدنی کے بارے میں پتہ چلایا جارہا ہے۔ 2003ء میں شروع کیا جانے والا یہ اپنی نوعیت کا اب تک کا پہلا سروے ہے۔اس کے نتائج کو آئندہ تین ماہ تک  عوام کے سامنے پیش کردیا جائے گا۔دوسری جانب امدادی کارکنوں اور فلاح عامہ کے کام کرنے والے اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی حقیقی تعداد سرکاری اعداد وشمار یعنی بیس فیصد سے کہیں زیادہ ہے اور ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری،  افراط زر  ،کرایوں میں اضافے اور  تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث اس میں مزید اضافہ ہوگا۔

سعودی عرب میں غربت نہیں ، حکومت کا خیال

ادھر حکومت کاکہنا ہے کہ ملک میں صحت اور تعلیم کی مفت سہولیات اور سبسڈائز نرخوں پر ایندھن کی فراہمی(حالانکہ بوتل بند پانی 35 ریال فی لٹر ملتا ہے جو کہ ایندھن کے نرخوں سے بھی زیادہ ہے) کا مطلب ہے کہ سعودی عرب میں حقیقی معنوں میں غربت  کا وجود نہیں۔تاہم اگر یہ کہا جائے کہ حکومت اس جڑ سے نمٹنے سے  قاصر ہے جو غربت کی اصل وجہ ہے تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ سعودی حکومت مستقبل کے لیے مناسب طور پر تیار نہیں جب ملک کی آبادی اور بھی  بڑھ چکی ہوگی اور تیل کے ذخائر میں کمی آچکی ہوگی۔لہٰذا ایک ایسا خطہ جہاں بے روزگاری ، غربت اور دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم کے باعث انقلاب آچکے ہوں ، وہاں سعودی عرب میں موجود بادشاہت کا نظام بھی خطرے سے دوچار ہوسکتا ہے۔وہی شاہی خاندان جو  مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا اہم ترین حلیف اور ایران کی توسیع کے خلاف ایک اہم فصیل کی حیثیت رکھتا ہے۔

پٹرول کا معجزہ

1930ء کی دہائی میں جب سعودی عرب میں پٹرول دریافت ہوا تو سعودی عرب اس قابل ہوگیا کہ اپنے عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں مہیا کرے۔اس  سارے قصے کو یوں سمجھا گیا کہ جیسے سعودی شاہی خاندان پر خدا کی رحمت ہے اور یوں شاہی خاندان کو ایک جائزحیثیت دی جانے لگی۔ لیکن اب یہ تصور خطرے میں ہے۔تھامس ڈبلیو  لپ مین اپنی کتاب Saudi Arabia on the Edge: The Uncertain Future of an American Ally میں لکھتے ہیں کہ غربت اس بات کا ثبوت ہے کہ سعودی عرب ایک اسلامی یوٹوپیا نہیں رہا جو یہ بننے کی کوشش کرتا رہا ہے۔اب سعودی عرب کے حکمران یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کا معاشرہ بہترین ہے  جس کا مطلب ہے کہ خدا ان کے ساتھ ہے۔اب وہ حقیقی مشکلات میں گھر رہے ہیں۔

80 سال سے بھی کم عرصے میں سعودی عرب ایک غریب ترین صحرائی خطے سے تیل پیدا کرنے والا امیر ترین ملک بن چکا ہے جس کی جی ڈی بی 740 ارب ڈالر ہے لیکن خوشحالی کی طرح اس کی آبادی بھی اسی رفتار سے بڑھی۔ یہ آبادی جو 1970 تک صرف ساٹھ لاکھ تھی اب دوکروڑ ستر لاکھ تک پہنچ چکی ہے جس کی وجہ بلند شرح پیدائش اور غیرملکی کارکنوں کی آمد ہے جو کہ سعودی عرب کی کل آبادی کا ایک چوتھائی ہیں۔روزگار کی سکیمیں اور دیگر فلاحی پروگرام ناکام ہوچکے ہیں۔سعودی عرب کی دو تہائی سے زیادہ  آبادی تیس سال کی عمر سے کم ہے۔اس آبادیاتی شماریے میں سب سے تشویش ناک بات یہ ہے کہ کل بے روزگار آبادی میں سے تین چوتھائی بیروزگار سعودی باشندے بیس سال سے کم عمر کے ہیں  جبکہ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق بے روزگاری کی شرح  بارہ فیصد ہے۔

اس طرح جہاں تک سعودی عرب کے تیل کے ذخائر کا تعلق ہے ، جو کہ اس ملک کی خوشحالی کی  سب سے بڑی وجہ ہیں،  وہ بھی تیزی سے کم ہورہے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ ملک میں تیل کی اندرونی کھپت بڑھ رہی ہے اور اس صدی کے وسط تک سعودی عرب کے تیل کے ذخائر خاصی حد تک ختم ہو چکے ہوں گے۔اس طرح اگر موجودہ رجحان جاری رہا تو سعودی عرب  میں ایکسپورٹ کے مقابلے میں تیل کی اندرون ملک کھپت بڑھ جائے گی  اور یوں ملک کی معشیت خطرے میں پڑ جائے گی جس کا زیادہ تر انحصار واحد وسیلے تیل پرہی ہے۔

شہزادہ طلال کے خیالات

شہزادہ الولید  بن طلال  جو ملک کے امیر ترین شخص ہیں  اور سعودی عرب کی ہولڈنگ کے سربراہ ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ ان کے بجٹ کا بانوے فیصد تیل سے آتا ہے۔یہ بہت خطرناک ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ ہم ایک معاشی ٹائم بم پر کھڑے ہیں۔

آٹھ ماہ قبل فاطمہ کے بارے میں تشخیص ہوئی کہ اس کے گردے ناکام ہوچکے ہیں اور وہ ہسپتال میں داخل ہوئی۔وہ ایک ماہ سے زائد عرصہ ہسپتال میں داخل رہی۔بعدازاں ڈاکٹروں نے ایک جدید ترین ڈائلاسس مشین دے کر اسے ہسپتال سے ڈسچارج کردیا۔اس مشین کی مالیت بائیس ہزار ڈالر ہے۔مشین کو چلانے کے لیے اس کی چوبیس سالہ بیٹی کو تربیت دی گئی۔ایک طرح سے فاطمہ خوش قسمت تھی۔ صحت کی وہ سہولت جو کہ  کسی بھی ایسے امریکی کو کنگال کرسکتی ہے  جس کی میڈیکل انشورنس نہ ہو، وہی فاطمہ کو ایک پائی ادا کیے بغیر مل گئی۔   وہ اس پر شکرگذار ہے لیکن  فاطمہ کو تاحال اس بات پر پریشانی ہے کہ  ریاست اس کو زندہ رکھنے پر بہت زیادہ اخراجات کررہی ہے  ، لیکن اس سے آگے وہ کچھ نہیں کررہی۔اس کا گھر کاکروچوں سے بھرا پڑا ہے جو اس کی ڈائیلاسس کی مشین پربھی چڑھ جاتے ہیں۔فاطمہ کہتی ہے: ’’ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر میں نے اپنے آس پاس کے ماحول کو صاف نہ رکھا تو میں ایک بار پھر بیمار پڑسکتی ہوں۔لیکن کیسے؟ ذرا دیکھیں کہ میں کس ماحول میں رہ رہی ہوں۔ذرا میرے گھر کی حالت دیکھیں۔‘‘

فاطمہ کے دو بیڈ رومز پرمشتمل گھر میں کوئی کھڑکی نہیں ۔ دوکمروں میں سے ایک میں وہ اپنے خاوند اور دوسرے کمرے میں اس کے آٹھ بچے رہتے ہیں۔گھر کی فضا میں سڑی ہوئی سبزیوں اور دیگر کھانے پینے کے سامان کی  باس پھیلی ہوئی  ہے جو کہ خراب  فریج میں پڑی ہوئی ہیں۔ مٹی سے بنی دیواروں میں سے خاک اڑ اڑ کر گھر کے سامان پر تہہ بچھا رہی ہے۔مٹی کی یہ تہہ اس کی دوائوں اور ڈائیلاسس کے دیگر سامان پر بھی بچھی ہوئی ہے۔یہ دوائیں اور سامان فرش پر بستر کے ساتھ بکھرا پڑا ہے۔فاطمہ کہتی ہے: ’’کوئی میرے اور میر ے خاندان کا خیال نہیں رکھتا۔ وہ صرف میری بیماری کاخیال رکھتے ہیں۔‘‘

جامع فلاحی نظام کی عدم موجودگی

سعودی حکومت جو کچھ بھی مفت تعلیم اور صحت کی سہولیات پر خرچ کرتی ہے (گذشتہ سال یہ خرچ بجٹ کا 37 فیصد تھا)، اس کے حوالے سے  سعودی حکومت کے پاس کوئی جامع فلاحی نظام نہیں۔بے روزگار افراد جن کی عمر 35 سال سے کم ہے ایک سال کے لیے 553 ڈالر ماہانہ بیروزگاری الائونس لے سکتے ہیں لیکن اس کے لیے انہیں ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ سرگرمی سے ملازمت تلاش کررہے ہیں۔فاطمہ کی بیٹی لیلیٰ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ جب وہ اپنی ماں کی ڈائلاسس کی مشین چلانے کی ذمہ داری سے فارغ ہوئی تو  ملازمت تلاش کرے گی۔اس وقت تو اس کا سارا دن اپنی ماں کی دیکھ بھال پر لگ جاتا ہے۔’’اس وقت میں اپنی ماں کی کل وقتی ڈاکٹر ہوں۔‘‘ لیلیٰ بجھی بجھی مسکراہٹ کے ساتھ بتارہی تھی۔

بتایا جاتا ہے کہ بیوہ اور طلاق شدہ عورتوں کو حکومت کی جانب سے بہت کم امداد ملتی ہے جو اڑھائی سو ڈالر سے پانچ سو ڈالر ماہانہ تک ہوتی ہے۔معمر افراد کو بھی اتنی ہی امداد ملتی ہے۔تاہم ایسے لوگ جو اس زمرے میں نہیں آتے ، مثال کے طور پر وہ عورتیں جن کے خاوند ملازمت کرتے ہیں ، چاہے انہیں کتنی ہی کم تنخواہ ملتی ہے،انہیں حکومت کی جانب سے کسی قسم کی امدادنہیں ملتی۔ریاض میں رہائش بہت مشکل سے ملتی ہے جبکہ وہاں  پر رہنے والوں میں سعودی شہریوں کی شرح 23 فیصد ہے۔کرائے آسمانوں کو چھورہے ہیں۔حتیٰ کہ جو انتہائی خراب علاقے ہیں وہاں بھی کرائے بہت زیادہ ہیں۔ریاض کے خراب ترین علاقے میں بھی دو کمروں کے گھر کا کرایہ تین سو ڈالر ماہانہ  ہے۔فاطمہ کے خاوند کی تنخواہ کا ایک تہائی کرائے میں چلاجاتا ہے جبکہ مالک مکان اگلے سال کرایہ مزید بڑھادیتا ہے۔

رہائش کا بحران

سعودی عرب میں ہائوسنگ کابحران بھی بڑھتا جارہا ہے  جو سعودی معاشرے کو بہت متاثر کررہا ہے۔سعودی حکومت اس بحران سے نمٹنے کے لیے کوشاں ہے۔ملک کی وزارت ہائوسنگ کا کہنا ہے کہ ملک کی 65 فیصد آبادی کو رہائش کے لیے ایسے گھرکی تلاش ہے جس کے وہ متحمل ہوسکیں۔2011ء میں سعودی عرب کے شاہ عبداللہ نے عزم ظاہر کیاکہ ملک میں ستر ارب ڈالر کی لاگت سے پانچ لاکھ نئے گھر بنائے جائیں گے۔یہ گھر کن لوگوں کو دیے جائیں گے ، اس کے لیے ابھی ترجیحات طے نہیں کی گئیں۔ایسے گھروں کی تشہیر کی جارہی ہے لیکن فاطمہ کا کہنا ہے کہ اسے تو یہ خواب ہی لگتا ہے کہ وہ کبھی ایسے کسی گھر میں رہائش اختیار کرسکے گی۔اس کے پاس اس سلسلے میں کوئی ’’واسطہ‘‘ نہیں ہے یعنی وہ ایسی کسی سفارش سے محروم ہے جس کے ذریعے وہ حکومت کی کسی ایسی سکیم سے فائدہ اٹھاسکے۔فاطمہ کا کہنا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ یہی امید رکھ سکتی ہے کہ کوئی مخیر شخص آئے اور اس کے گھر کاکرایہ ہی دیدے۔اس نے بتایا کہ یہ کوئی انوکھی خواہش نہیں بلکہ اس کے محلے میں ایک دو گھروں کے ساتھ یہ خوش قسمتی ہوچکی ہے۔

خیرات اور ’’بھکاریوں کی گلی‘‘

خیرات اسلام کے پانچ تقاضوں میں سے ایک ہے جو وہ اپنے پیروکاروں سے کرتا ہے۔یہ ان چند وجوہات میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے سعودی عرب میں خیرات و فلاح کے رسمی اور باقاعدہ طریقے کی مزاحمت کی جاتی ہے۔اس کے بجائے معاشرے سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ آگے آئے گا۔شہزادہ طلال کہتے ہیں کہ مغرب میں خیرات ایک اختیاری معاملہ ہے لیکن مسلمانوں میں نہیں۔اسلامی شرع اور روایات کی رو سے  مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اپنی دولت میں سے ایک حصہ  غریبوں کو دیں۔قران پاک کے مطابق اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو آخرت میں انہیں ہمیشہ کے لیے سزا کا سامنا کرنا ہوگا۔فاطمہ کے محلے کی طرح دیگر علاقوں میں بھی غریب لوگ اس مذہبی فریضے پر انحصار کرتے ہوئے امداد حاصل کرتے ہیں۔ان میں سے ایک سبالہ سٹریٹ بھی ہے جسے مقامی طور پر ’’بھکاریوں کی گلی‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔یہ فاطمہ کے محلے کے ساتھ ہی واقع ہے۔ہر جمعے کی نماز کے بعد یہاں پر بوڑھے مرد اور عبایہ میں ملبوس عورتیں قطاروں میں کھڑی ہوجاتی ہیں۔یہاں سے آڈس ، پورشے  اور چیوی جیسی مہنگی گاڑیاں گزرتی ہیں۔ ان کی کھڑکیوں سے ہاتھ باہر نکلتے ہیں  جن میں چاول اور گوشت سے بھرے ہوئے تھیلے ہوتے ہیں۔طلب گار اور حاجت مند  فوری طو رپر آگے بڑھتے ہیں اور یہ تھیلے پکڑنے لگتے ہیں۔

انوکھا خیراتی نظام

شہزادہ طلال جن کے اثاثوں کی مالیت بیس ارب ڈالر کے قریب ہے اور وہ  اس سال دنیا کے پچیس امیر ترین افراد کی  ’’فوربس‘‘ کی سالانہ فہرست میں شامل ہوتے ہوتے رہ گئے ہیں۔خیرات کے لیے ان کا طریقہ ذرانوکھا ہے۔وہ ہر بدھ کو ریاض میں اپنے محل سے ایک گھنٹے کے فاصلے پر ایک صحرا میں عالیشان خیمہ لگاتے ہیں۔ یہاں ضرورت مند لوگوں کا خیر مقدم کیا جاتا ہے۔اصل میں یہ ایک روایتی طریقہ ہے جو اٹھارویں صدی سے سعودی عرب کے شاہی سعود خاندان میں رائج ہے ۔شہزادہ طلال اسی سعود  خاندان کے فرد ہیں۔چنانچہ مفلس اورغریب لوگ اس کیمپ میں آتے ہیں  جہاں شہزادہ طلال صحرا میں بچھے ایک دبیز قالین پر آتشی الائوکے قریب کھڑے ان غریبوں کے منتظر ہوتے ہیں۔ان کے دائیں ہاتھ پر بیٹھا سفید عقاب ان کی شان اور جلال میں اضافہ کرتا ہے۔ایک رات میں کوئی ہزار کے قریب مفلس اور ضرورت مند افراد اپنی حاجتوں جیسے  قرض  کی ادائیگی ، کار کی خریداری ، شادی کے اخراجات وغیرہ کے لیے ان سے مدد لیتے ہیں۔اس طرح یہاں پر لوگوں کی موقع پر ہی امداد کردی جاتی ہے۔ایسے لوگوں کی مدد کے لیے شہزادہ طلال نے پورا ایک دفتر بنارکھا ہے۔

لوگوں کی اس طریقے سے مدد کرنے میں اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس میں غربت کی اصل جڑ یعنی روٹ کاز سے نہیں نمٹا جاتا۔ شہزادہ طلال کا کہنا ہے کہ وہ گذشتہ تیس سال کے دوران دنیا بھر میں تین ارب ڈالر سے زائد کی رقم خیرات کرچکے ہیں، یہ اسی طرح ہے جیسے سعودی عرب تمام تر انحصار تیل کی دولت پر کررہا ہے ، غریب لوگ تمام انحصار خیرات پرکریں۔تیل کے ذریعے آسانی سے کمائی جانے والی دولت پر یہی انحصار ہے جس کی وجہ سے سعودی عرب میںپیچیدہ معاشی اصلاحات پر توجہ نہیں دی جاتی اور نہ اس سلسلے میں مراعات دی جاتی ہیں۔شہزادہ طلال کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے ملک میں دوباتوں پر خاصی تشویش ہے ، اول بیروزگاری اور دوئم تیل پر انحصار۔ان دونوں مسائل سے نہ نمٹا گیا تو اس کے نتائج بہت سنگین ہوں گے۔ان کاکہنا ہے کہ عرب ممالک میں آنے والا انقلاب ہمارے لیے اشارہ ہے کہ ملک میں لاکھوں بے روزگار نوجوانوں کو روزگار دیاجائے۔اس کے لیے اہم ترین قدم یہ ہے کہ معیشت کو متنوع بنایا جائے۔

’’سب سے پہلے سعودی عرب۔۔۔۔‘‘

سعودی حکومت نے بیروزگاری میں کمی کے لیے  گذشتہ دوسال کے دوران کئی اقدامات کیے ہیں۔ اس نے تعلیمی اصلاحات اور فنی تربیت کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے اور ساتھ ہی ’’سب سے پہلے سعودی عرب‘‘ یعنی ’’سعودائزیشن‘‘جیسی پالیسی  تشکیل دی ہے۔اس پالیسی کے تحت ایسے آجروں کو سزا دی جاتی ہے جنہوں نے ایک خاص شرح سے زیادہ غیرملکی کارکنوں کو ملازمت دے رکھی ہو۔اس پالیسی کا مقصد ملک میں غیرملکی کارکنوں کی تعداد میں کمی کرنا ہے۔اس وقت سعودی عرب میں ہر تین میں سے دو ملازمتیں غیرملکیوں کے پاس ہیں۔

سعودی عرب میں ایک اور مسئلہ خواتین کی بے روزگاری کا ہے ۔ ملک میں خواتین میں بے روزگاری کی شرح 34 فیصد ہے جس میں مزید اضافہ ہورہا ہے حالانکہ 2011 میں حکومت نے ایک سرکاری پروگرام کے تحت خواتین کے لیے روزگار میں اضافہ کرنے کے لیے ان کے ریٹیل کے سیکٹر کو اوپن کیا تھا ۔کم آمدنی والے خاندانوں ،جیسے فاطمہ کا خاندان ، کے لیے یہ ایک  اہم ایشو ہے جہاں ایک فرد کی تنخواہ سے گھر کا چلانا بہت مشکل ہوتا ہے۔سعودی عرب جیسے ملک میں خواتین کے لیے ملازمت  کی راہ میں رکارٹوں کی بھی کوئی کمی نہیں جہاں خواتین اور مردوں کو الگ الگ رکھنے کے لیے سخت قسم کی پالیساں موجود ہیں اورحکومت کوئی بھی ایسا قدم اٹھانے سے ڈرتی ہے جس کے ذریعے اس پالیسی میں کچھ نرمی کی جائے کیونکہ اسے اس حوالے سے قدامت پسند علماء کے ردعمل کا خوف ہوتا ہے۔

مثال کے طورپر اگر لیلیٰ ہزازی ملازمت کے لیے جائے تو اسے ایسی ملازمت درکارہوگی جہاں خواتین اور مرد الگ الگ کام کرتے ہوں ۔ ان کے دفاتر الگ الگ ہوں ۔ان کے داخلی راستے ، غسل خانے ، کیفے ٹیریا  یا کھانے کے کمرے الگ ہوں۔یوں ان شرائط کے ساتھ اس کے لیے ملازمت کا حصول اور بھی مشکل ہوجائے گا۔اس طرح سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت نہیں جبکہ ریاض میں پبلک ٹرانسپورٹ کا کوئی نظام موجود نہیں جس کی وجہ سے اگر کوئی عورت ملازمت کرنا چاہتی ہے تو اسے ملازمت پر جانے کے لیے ایک گاڑی اور  ڈرائیور کی ضرورت ہوگی اور یوں اسے اپنی تنخواہ سے زیادہ پیسہ اس کام پرلگانا پڑے گا۔

شہزادہ طلال کہتے ہیں کہ ہم عورتوں کے بارے میں جس طرح سوچتے ہیں ، اس سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ریاض میں شاہ سعود یونیورسٹی کی پروفیسر اور انسانی حقوق کی کارکن فوزیہ البکر کا کہنا ہے کہ ہمارا اصل مسئلہ  یہی ہے کہ روزگار کی دنیا میں خواتین کو مکمل طور پر کس طرح شریک کیا جائے۔ غربت کو کم کرنے کے لیے دنیا بھر میں خواتین کو روزگار دیا جارہا ہے اور سعودی عرب باقی دنیا سے مختلف نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جب عورت کام کرتی ہے تو دنیا بھر کو اس سے فائدہ ہوتا ہے۔تاہم خیرات کرنے کی طرح  خواتین اور مردوں کو الگ الگ رکھنے کی روایت  بھی مذہب سے جڑی ہوئی ہے۔شاہی خاندان یعنی سعودی حکومت کے لیے  اس عقیدے کو چیلنج کرنا قدامت پرست علماء سے عداوت مول لینے کے مترادف ہے۔

غربت، منشیات اور فحاشی

سعودی عرب میں ایک ایسا طبقہ بھی ہے جو اپنے ملک کے تاریک پہلوئوں کو تیل کی دولت کے ذریعے چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔سعودی عرب کے کئی مڈل کلاس اور اپر مڈل کلاس کے لوگوں کو 2002تک یہی پتہ نہ تھا کہ ان کے ملک میں بھی غربت ہے جب اس وقت کے ولی عہد شہزادہ عبداللہ نے جنوبی ریاض میں واقع کچی آبادی کا دورہ کیا تھا جو میڈیا میں بہت مشہور ہوا تھا۔وہ وہاں کے خراب حالات دیکھ کر حیران رہ گئے تھے اور انہوں نے عزم ظاہر کیا تھا کہ وہ غربت کوختم کردیں گے۔تاہم یہ ایشو سرد خانے میں چلا گیا حتیٰ کہ 2011 میں ایک نوجوان دستاویزی فلم ساز فراس بگنا کی محض نو منٹ کی فلم ’’یو ٹیوب‘‘ کے ذریعے منظر عام پر آئی جس میں ریاض میں شدید ترین غربت کو بے نقاب کیا گیا تھا۔فلم میں اس نے غریب اور مفلس ترین لوگوں سے ملاقات اور ان سے بات کی جن میں ایک امام مسجد بھی شامل تھا۔امام مسجد سے غربت کے بارے میں رائے لی گئی تو اس نے غربت جیسے سماجی مسئلے کو منشیات اور فحاشی کے ساتھ جوڑنا شروع کردیا۔اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ سعودی حکومت کو چیلنج نہ کرے۔اس کے نزدیک مسئلے کا حل یہ تھا کہ لوگ زیادہ سے زیادہ خیرات کریں ۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ معاشرہ ہی معاشرے کی مدد کرے اور یہ کہ ہمیں حکومت کی مدد کی ضرورت نہیں۔اس ویڈیو کو دنیا بھر میں چوبیس لاکھ سے زائد افراد نے دیکھا۔

پرانی نسل سے مایوسی

سعودی حکومت نے اس فلم کو اپنے لیے خطرہ سمجھا اور فلم ساز کو دو ہفتوں کے لیے قید میں ڈال دیا۔بگنا کو کہا گیا کہ اس نے اس فلم کے ذریعے ’’ریڈ لائن‘‘ کو عبور کیا تھا۔لیکن بگنا کو اب تک نہیں پتہ کہ آخر اس نے کون سی ریڈ لائن عبور کی۔ بگنا کا کہنا ہے کہ ہمارے معاشرے میں بے شمار مسائل ہیں اور اس کا نہیں خیال کہ پرانی نسل ان مسائل کو حل کرسکتی ہے۔’’ہمیں نئے آئیڈیاز کی ضرورت ہے۔‘‘ بگنا کا کہنا تھا۔’’ہمیں مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے اس نے کئی ایپس apps تیار کی ہیں تاکہ غربت سے نمٹنے میں ہم وطنوں کی مدد کی جاسکے۔ایک میں رضاکاروں کو مہنگے منصوبوں کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔دوسری مستقبل میں ملازمت کی ضروریات کی فہرست مرتب کرکے اور ہنر سکھا کر ہائی سکول کے طلباء کو گریجویشن سے پہلے کام کے لیے تیار کرتی ہے ۔وہ کہتا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ حکومت اس کی ایپس خریدے اور وہ لوگوں کی زندگی آسان بنانے میں اپنا کردار ادا کرسکے۔

اگر سعودی حکومت بگنا جیسے افراد کی اختراعات کا خیرمقدم کرے تو اس سے غربت کو کم یا ختم کرنے کی کوششوں میں مدد مل سکتی ہے۔لیکن آنے والی نسلوں کی مدد سے پہلے ان لوگوں کی بھی مدد کرنا ہوگی جو تاوقت مصیبت میں پھنسے ہوئے ہیں۔لیلیٰ ہزازی کی جلد شادی ہوجائے گی ، اس کے بعد ماں کی ڈائلاسس مشین کو چلانے کی ذمہ داری اس کی تیرہ سالہ بہن حواتف کے ذمے ہوگی۔اس مقصد کے لیے اسے اپنی تعلیم کو ادھورا چھوڑنا ہوگا اور یوں اس کے لیے مستقبل میں ملازمت کا امکان اور بھی کم ہوجائے گا۔اس طرح غربت ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہونے کا خدشہ بڑھ جائے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔