پاکستان‘ امریکا اور افغان عسکری قیادت کا اجلاس

ایڈیٹوریل  اتوار 9 جون 2013
پاکستان سے سرحد کی دوسری جانب ایساف فورسز تعینات ہیں‘ اس لیے سرحد پر نگرانی کی ذمے داری ایساف اور افغان فوج پر بھی عائد ہوتی ہے۔ فوٹو: فائل

پاکستان سے سرحد کی دوسری جانب ایساف فورسز تعینات ہیں‘ اس لیے سرحد پر نگرانی کی ذمے داری ایساف اور افغان فوج پر بھی عائد ہوتی ہے۔ فوٹو: فائل

ہفتے کو راولپنڈی میں پاکستان‘ افغانستان اور امریکا کی عسکری قیادت کا اجلاس ہوا جس میں پاک افغان سرحد پر رابطے مزید مربوط اور مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا جب کہ سرحد پر کنٹرول بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اس وقت پاک افغان سرحد پر نگرانی کا عمل پاکستان کے لیے نہایت اہمیت اختیار کر چکا ہے۔طویل افغان سرحد کا زیادہ حصہ پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہونے کے باعث بعض مقامات پر دشوار گزار رستے ہیں۔ اگرچہ یہاں پاکستان نے نگرانی کا نظام قائم کر رکھا ہے مگر دشوار گزار علاقوں میں اسے بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔سرحد پر آباد قبیلے صدیوں سے آرپارآ جا رہے ہیں اور تمام خفیہ راستوں سے بھی بخوبی آگاہ ہیں۔ موجودہ صورتحال میں جب سرحد کے دونوں جانب مسلح انتہا پسند بڑی تعداد میں موجود ہیں ان کے لیے ان دشوار گزار راستوں کا استعمال معمول کی بات ہے۔

پاکستان سے سرحد کی دوسری جانب ایساف فورسز تعینات ہیں‘ اس لیے سرحد پر نگرانی کی ذمے داری ایساف اور افغان فوج پر بھی عائد ہوتی ہے۔ نیٹو آرمی کے پاس جدید ترین اسلحہ اور ٹیکنالوجی موجود ہے لہذا وہ سرحد کی نگرانی کا نظام زیادہ موثر بنا سکتی ہے۔  یہ تشویشناک امر ہے کہ پاک افغان سرحد پر بعض اوقات کشیدگی کے واقعات بھی رونما ہوتے رہے ہیں۔ نیٹو آرمی کی جانب سے کئی بار پاک افغان سرحد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گولہ باری اور فائرنگ کی گئی، سلالہ چیک پوسٹ کا واقعہ بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا۔ لہذا مستقبل میں ان واقعات کے انسداد اور  پاک افغان سرحد پر نگرانی کا نظام بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان‘ افغانستان اور نیٹو  کے درمیان معلومات کے تبادلے کا نظام بہتر بنایا جائے۔ جب تک ان تینوں فریقین کے درمیان معلومات کا نظام بہتر نہیں ہو گا تب تک ان کے درمیان غلط فہمیاں جنم لیتی رہیں گی اور بروقت معلومات نہ ہونے کے سبب کوئی بھی المناک واقعہ رونما ہو سکتا ہے۔

جی ایچ کیو راولپنڈی میں ہونے والے سہ ملکی اجلاس میں پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی‘ ایساف کے کمانڈر جنرل جوزف  ڈنفورڈ اور افغان نیشنل آرمی کے سربراہ جنرل شیر محمد کریمی شریک ہوئے۔ اجلاس میں خطے کی مجموعی صورتحال‘ علاقائی سلامتی اور افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلا کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ امریکا 2014ء میں افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلا کا اعلان کر چکا ہے۔ اس انخلا کے بعد افغانستان میں پیدا ہونے والی صورتحال نے امریکی تھنک ٹینک کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا افغان حکومت تنہا طالبان گوریلوں کا مقابلہ کر سکے گی، کہیں طالبان دوبارہ کابل پر قابض نہ ہو جائیں گے۔ مسلح طالبان اب بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں جو وقتاً فوقتاً نیٹو افواج پر حملے کر کے اپنی قوت کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔

یہی وہ خطرہ ہے جس سے نمٹنے کے لیے امریکی حکام منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ایک جانب انھوں نے تین لاکھ کے لگ بھگ افغان نیشنل آرمی تیار کی ہے تو دوسری جانب وہ یہاں سے مکمل انخلا نہیں کر رہے‘ ان کے جنگی طیاروں‘ اسلحہ اور افواج کا ایک حصہ یہاں موجود رہے  گا اور کسی بھی خطرہ سے نمٹنے کے لیے نیٹو افواج افغان آرمی کا فوری ساتھ دے گی۔ دوسری جانب حکومت پاکستان نے امریکی سفارتخانے کے ناظم الامور رچرڈ ہوگلینڈ کو دفتر خارجہ طلب کر کے ڈرون حملے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ امریکا کو ڈرون حملوں کے بارے میں اپنی حکمت عملی بدلنا ہو گی۔ نئی حکومت نے ڈرون حملوں کی فوری شدید مذمت کرتے ہوئے امریکا پر واضح کر دیا ہے کہ ڈرون حملے امریکا اور پاکستان کے تعلقات پر منفی اثرات ڈال رہے ہیں اور خطے میں استحکام کے لیے امریکا کو پاکستان میں ڈرون حملے بند کرنا ہوں گے۔

ڈرون حملے پاکستان کی خود مختاری‘ علاقائی سالمیت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اب تک ہونے والے امریکی ڈرون حملوں میں القاعدہ اور طالبان کی اہم شخصیت جاں بحق ہو چکی ہیں مگر یہ امر مدنظر رہنا چاہیے کہ ان حملوں میں بے گناہ افراد کی بھی ایک بڑی تعداد جاں بحق ہو رہی ہے۔ بے گناہ افراد کی ہلاکتوں سے علاقے میں اشتعال پھیلتا ہے اور وہاں موجود مسلح  گروہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیاں شروع کر دیتے ہیں۔ سابق حکومت نے بھی امریکی ڈرون حملوں کے خلاف کئی بار اعلیٰ سطح پر احتجاج کیا مگر امریکا نے پاکستانی حکومت کا احتجاج مسترد کرتے ہوئے ڈرون حملے جاری رکھنے کا اعلان کر دیا۔ اس وقت بعض حلقوں کی جانب سے یہ اعتراضات بھی سامنے آتے رہے کہ حکومت اندرون خانہ امریکا کے ساتھ ہے اور ڈرون حملوں کی حمایت کر رہی ہے۔ سابق حکومت کی کارکردگی پر ڈرون حملے بھی سوالیہ نشان بنے رہے۔ اب نئی حکومت کے سامنے ڈرون حملے ایک چیلنج ہیں۔

یہ حکومت ڈرون حملوں سے کیسے نمٹتی ہے اس کا فیصلہ تو مستقبل میں ہو گا۔ اگر امریکا نے ایک بار پھر موجودہ حکومت کا احتجاج مسترد کر دیا اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری رکھا تو نئی حکومت کی کارکردگی بھی عوام میں سوالیہ نشان بن جائے گی۔ بہر حال حکومت کے لیے امریکا سے معاملات کرنا خاصا مشکل ہو گا‘ یہ امر خوش آیند بھی ہے کہ پاکستان‘ امریکا اور افغانستان کی عسکری قیادت ایک دوسرے سے رابطے میں ہے‘ یہ روابط زیادہ مضبوط ہونے چاہئیں‘ اگر تینوں ملکوں کے درمیان بروقت معلومات کا تبادلہ ہو تو عسکریت پسندوں پر قابو پایاجا سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں ڈرون حملوں میں کمی آ سکتی ہے۔ پاکستان اور امریکا کو ایک دوسرے کے مسائل اور مشکلات کو سمجھتے ہوئے افغان پالیسی تشکیل دینی چاہیے تاکہ یہ خطہ دہشت گردی سے محفوظ ہو جائے اور پاک امریکا تعلقات میں بھی خرابی نہ پیدا ہو۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔