خیبرپختونخوا، کالعدم لشکر اسلام نے کارروائیاں روکنے کا اعلان کردیا

فیضان حسین  پير 10 جون 2013
بدترین ناکامی کے بعد امریکا افغانستان سے جارہا ہے لہٰذا ان حالات میں وہ بھی جنگ کے حق میں نہیں، نئی حکومت کی پالیسی دیکھ رہے ہیں، سیزفائرعارضی ہے،سربراہ لشکر اسلام. فوٹو:فائل

بدترین ناکامی کے بعد امریکا افغانستان سے جارہا ہے لہٰذا ان حالات میں وہ بھی جنگ کے حق میں نہیں، نئی حکومت کی پالیسی دیکھ رہے ہیں، سیزفائرعارضی ہے،سربراہ لشکر اسلام. فوٹو:فائل

پشاور: خیبرایجنسی کی تحصیل باڑہ میں سیکیورٹی فورسز کے خلاف برسرپیکار مذہبی شدت پسند تنظیم کالعدم لشکر اسلام نے خیبر پختونخوا کی حکومت کی رٹ چیلنج نہ کرنے اور اپنی کارروائیاں روکنے کا اعلان کیاہے۔

یہ اعلان کالعدم لشکر اسلام کے امیرمنگل باغ نے اتوار کو خیبر ایجنسی میں اپنے ایف ایم ریڈیو پر خطاب کے دوران کیا۔ذرائع کے مطابق اپنے تقریر میں منگل باغ نے تنظیم کے ارکان کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ بدترین ناکامی کے بعد افغانستان سے امریکا جارہا ہے لہذا ان حالات مں وہ بھی جنگ کے حق میں نہیں۔ انھوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں بننے والی تحریک انصاف کی حکومت، پولیس اور دیگر سیکیورٹی فورسز کے اداروں پر کسی قسم کا حملہ یا کوئی ایسی کارروائی نہ کی جائے جس سے لوگوں، حکومتی اداروں یا حکومتی رٹ کو نقصان پہنچے۔ سیکیورٹی فورسزکی جانب سے گزشتہ کئی سالوں سے لشکر اسلام اور ان کے حامیوں کے خلاف آپریشن جاری ہے تاہم اس کے باجودکالعدم تنظیم کے سربراہ منگل باغ  اکثر شام کو ریڈیو پر تنظیم کے ارکان سے خطاب اور تنظیمی امور کی ہدایات جاری کرتے ہیں۔

پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کا نام لیے بغیر منگل باغ نے کہاکہ جو سیاسی جماعتیں ملک میں اسلامی شریعت کے نفاذ کے خلاف تھی انتخابات میں ان کا تو صفایا ہوگیا ۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ دن اپنے خطاب میں منگل باغ نے کہاکہ خیبرپختونجوا میں جو نئی حکومت آئی ہے اس کو ہم دیکھ رہے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کس طرح کی پالیسی اپناتی ہے۔ انھوں نے اپنے پیروکاروں پر واضح کیا کہ فی الحال ایسی کوئی کارروائی نہ کی جائے جس سے صوبائی حکومت کیلیے مشکلات پیدا ہوںتاہم انھوں نے واضح کیا کہ یہ پیشکش کچھ عرصہ کیلیے ہے اور جلدمستقبل کے لائحہ عمل کا اعلان کرینگے۔اسلامی حکومت تسلیم نہ کرنے والوں کا خاتمہ ہوچکا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔