چلتے ہو تو ’سوئٹزر لینڈ‘ کو چلیے

عبدالصمد سید  جمعرات 11 اکتوبر 2018
حکومت اور سرمایہ کار اگر سنجیدگی سے کام کریں تو پاکستان کی سیاحت بھی سوئٹزر لینڈ کی طرح اپنا نام بناسکتی ہے۔ (تصاویر بشکریہ بلاگر)

حکومت اور سرمایہ کار اگر سنجیدگی سے کام کریں تو پاکستان کی سیاحت بھی سوئٹزر لینڈ کی طرح اپنا نام بناسکتی ہے۔ (تصاویر بشکریہ بلاگر)

دنیا بھر کے سیاحوں کےلیے سوئٹزر لینڈ خوابوں کی ایک سرزمین کی حیثیت رکھتا ہے؛ اور ایسا کیوں نہ ہو کہ اس سرزمین کے طول و عرض مبہوت کردینے والی قدرتی خوبصورتی سے مزین ہیں۔ مختلف سہولیات جو سیاحوں کی آسانی کےلیے مہیا کی گئی ہیں، سونے پہ سہاگہ ہیں۔ سوئٹزر لینڈ یورپ کے باقی ممالک سے تھوڑا منفرد اور بہتر ہے کیوں کہ اس میں وہ ساری باتیں تو ہیں ہی جو یورپ کے باقی ملکوں میں ہیں، مگر اس کی قدرتی خوبصورتی اسے باقی جگہوں سے ممتاز بناتی ہے۔

اگر اپ گوگل پر تلاش کریں تو ایسی بہت ساری جگہیں ملیں گی جنہیں اپنی خوبصورتی کے حوالے سے سوئٹزر لینڈ کے بہترین مقامات میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان ہی میں سے ایک انٹرلاکن (Interlaken) کا علاقہ ہے۔ اپنا تھیسس لکھنے کی جان جوکھم مصروفیات سے جونہی فرصت ملی، ہم نے انٹرلاکن کا رخت سفر باندھا۔ اس کی ترغیب ہمیں فریدہ خانم صاحبہ کی غزل سنتے ہوئے ملی جس میں وہ گا رہی تھیں کہ:

وقت کی قید میں زندگی ہے مگر
چند گھڑیاں یہی ہیں جو آزاد ہیں
ان کو کھو کر میری جان جاں
عمر بھر نہ ترستے رہو!

گو کہ اگلے اشعار ’پہلو میں بیٹھے رہنے‘ کی طرف اشارہ کر رہے تھے مگر ہم نے انہیں مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے ٹرین کا ٹکٹ کٹوالیا۔

سوئٹزر لینڈ جرمنی کا پڑوسی ملک ہے اور تیز رفتار ٹرین کی بدولت جرمنی کے مخالف کونے سے سوئٹزر لینڈ تک پہنچنا چنداں مشکل نہیں۔ ٹرین میں ایک شب بسری کے بعد صبح سویرے ہم انٹرلاکن وارد ہوئے۔ اس علاقے کی خوبصورتی نے ہمیں دوران سفر ہی اپنے کیمرے بیگ سے باہر نکالنے پر مجبور کر دیا تھا۔

یورپ میں شاید ہی کوئی ایسی جگہ ہو جس کی بالخصوص سیاحت کے حوالے سے معلومات اپنی مکمل ترین تفصیلات کے ساتھ انٹرنیٹ پر میسر نہ ہوں۔ گھر بیٹھے انسان ساری تفصیلات، بشمول ٹرین اور بس کے اوقات کار، دیکھ سکتا ہے۔ ہر مخصوص جگہ پر کیا دلچسپیاں ہیں اور کتنا وقت ان پر گزارا جانا چاہیے، یہ سارے مشورے بھی دستیاب ہوتے ہیں۔ گویا سفر کے آغاز سے پہلے ہی سفر کا ایک تفصیلی خاکہ مرتب ہوجاتا ہے۔ گو کہ یہ ریسرچ کا کام بھی وقت طلب ہے مگر اس کی مدد سے منزل پر پہنچنے کے بعد بہت وقت بچایا اور اصل جگہ سے محظوظ ہوا جا سکتا ہے۔

ایک ہفتے کی مشقت سے ہم نے بھی اپنا سفری منصوبہ تشکیل دے دیا تھا۔ یاد رہے کہ سوئٹزرلینڈ ایک بہت ہی مہنگا ملک ہے۔ اندازہ کچھ ایسے لگا لیجیے کہ انٹرلاکن میں ہوٹل کے ایک کمرے کا کرایہ برلن میں کسی ایسے ہی ہوٹل کے کمرے سے چار گنا مہنگا تھا۔ ذرائع آمد و رفت اور کھانے پینے کی صورت حال بھی کچھ ایسی ہی تھی۔

انٹرلاکن پہنچنے کے بعد پہلا پڑاؤ ’’ینگ فراؤ‘‘ (Jungfrau) کا پہاڑی علاقہ تھا۔ ینگ فراؤ جرمن زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ’’جوان عورت‘‘ ہے۔ یہ علاقہ مختلف پہاڑوں پر مشتمل ہے جن میں سے ایک پہاڑ یورپ کا سب سے اونچا مقام ہے اور یورپ کی چھت کہلاتا ہے۔ اسے ینگ فراؤ یوخ کا نام دیا گیا ہے۔ سطح سمندر سے اس کی بلندی تقریباً تین ہزار چار سو میٹر ہے۔

سیاحتی شعبے کو اس ملک نے جس قدر سنجیدگی سے لیا ہے، اس کا ثبوت یہ علاقہ ہے۔ یوخ تک پہنچنے کےلیے پہاڑوں کے اندر سرنگ تعمیر کی گئی۔ ٹرین ان سرنگوں میں سے گزرتے ہوئے مسافروں کو یورپ کی چھت تک لے جاتی ہے اور یوں ایسے نظاروں کو عام آدمی کی بصارت تک لے آتی ہے جنہیں بصورتِ دیگر دیکھنے کےلیے اس کا کوہ پیما ہونا ضروری ہوتا۔ انجینئرنگ کا شاہکار یہ منصوبہ آج سے 106 سال قبل، سن 1912 میں مکمل ہوا، تب سے سیاحوں کی بڑی تعداد یہاں کا رخ کرتی ہے اور سوئس حکومت کےلیے نہ صرف آمدنی کے حصول کا بڑا ذریعہ ہے بلکہ اس ملک کے مثبت تاثر کو اجاگر بھی کرتی ہے۔

یہاں پہنچ کر اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ ہمارا ملک ان سارے قدرتی نظاروں سے مالا مال ہے مگر جو کام سوئٹزرلینڈ ایک صدی پہلے کر گزرا، اسے ہم اب بھی انجام دینے سے قاصر ہیں۔ سیاحتی صنعت کا فروغ ہماری ضرورت اور ہمہ جہت فائدے کا سبب ہے۔ یہ ایک طرف کاروبار کے فروغ اور نوکریوں کے حصول کا بڑا ذریعہ ہے تو دوسری طرف دنیا میں پاکستان کی بابت پائے جانے والے منفی تاثر کو زائل کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔


یورپ کا بلند ترین مقام


یوخ پر سارا سال ہی برف باری جاری رہتی ہے جس کی وجہ سے یہ برف کی چادر اوڑھے رکھتا ہے۔ سنا تھا کہ ایک اچھے موسم میں اس بلندی سے نیچے موجود وادیوں کا نظارہ مبہوت کر دینے والا ہوتا ہے۔ جس موسم کا سامنا ہمیں کرنا پڑا وہ کچھ زیادہ اچھا نہ تھا۔ دھند میں لپٹے ہونے کی وجہ سے نیچے کی طرف کا نظارہ کچھ واضح نہیں تھا، مگر پھر بھی یہ نظارہ متاثر کن تھا۔ شدید برف باری کی وجہ سے الٹش گلیشیئر کا سفر بھی ترک کرنے پر مجبور ہوئے جو الپس کے پہاڑی سلسلے کا سب سے بڑا گلیشیئر ہے۔ تاہم ایسے موسم میں جب نیچے وادیوں میں درجہ حرارت بیس ڈگری سینٹی گریڈ تھا، برف باری کا مشاہدہ ایک پر لطف تجربہ رہا۔

برف کی سفید چادر میں لپٹا ہوا ینگ فراؤ یوخ (Jungfraujoch)


اس بات کا خیال رکھتے ہوئے کہ ایک خراب موسم میں بھی یہاں آنے والے مایوس ہوکر واپس نہ جائیں، تفریح کے اندرون خانہ ذرائع بھی بنائے گئے ہیں جن میں ایک سرنگ ایسی ہے جو اس علاقے کی تاریخ بیان کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک سرنگ مکمل طور پر برف سے بنائی گئی ہے جس میں برف ہی سے بنے ہوئے فن پارے اور مجسمے موجود ہیں۔ مختلف ریسٹورانٹس اور مشہور سوئس گھڑیوں کی دکانیں بھی یہاں موجود ہیں۔

یوخ میں بنائی ہوئی سرنگیں اس علاقے کی مکمل تاریخ بتاتی ہیں۔ یہ تصویر ایسی ہی ایک سرنگ کے آغاز میں لی گئی


یہ سرنگ آئس پیلس کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس میں برف سے بنے ہوئے ان گنت فن پارے اور مجسمے ہیں


صرف یوخ ہی نہیں، ینگ فراؤ کے علاقے میں کئی اور مقامات بھی قابل دید ہیں۔ اس پہاڑی علاقے کی خوبصورتی ہر جگہ مختلف زاویئے رکھتی ہے۔ انسانی کاوشوں نے اسے مزید پر کشش بنا دیا ہے۔ کہیں پہنچنے کےلیے عمودی ٹرین ہے تو کہیں کیبل کار۔ ایک قابل ذکر علاقہ فرسٹ کے نام سے ہے۔ یہاں تک رسائی کیبل کار کے ذریعے ممکن ہے۔ دلچسپی کے دیگر سامان کے ساتھ یہاں کی خاص بات ایک جھولتی ہوئی راہداری ہے۔ یہ راہداری ایک طرف پہاڑ سے منسلک ہے تو دوسری طرف سیکڑوں فٹ کی پستی میں خوبصورت وادی ہے جہاں آبشار اور سبزہ ہے۔ اس راہداری پر کوئی دس سے بارہ منٹ کا سفر آپ کو اس کے کنارے تک لے جاتا ہے۔ یہاں پہنچ کر اپنے بازو پھیلائیے اور اس لمحے اور نظارے کو اپنی یادداشت میں محفوظ کرلیجیے۔ ایک بار پھر اچھا موسم یہاں بہت اہمیت کا حامل ہے اور اگر آپ خوش قسمت ہیں تو ایک چمکدار موسم آپ کے سفر کی تفریح کو کئی گنا بہتر کرسکتا ہے۔ مگر یورپ میں رہ کر بارش کا شمار ایسے عوامل میں ہوتا ہے جیسے ہم سب کی زندگیوں میں غم… نہ چاہنے کے باوجود بھی کثرت سے اور بار بار۔

فرسٹ میں جھولتی ہوئی راہداری


بخالپ (Buchalp) نام کی جھیل فرسٹ کے قریب ہے مگر یہاں پہنچنے کےلیے ایک گھنٹے کا پیدل سفر لازم ہے۔ موسم کی اٹکھیلیاں نظر انداز کرتے ہوئے ہم نے فیصلہ کیا کہ اب یہاں تک پہنچے ہیں تو جھیل بھی ضرور دیکھیں گے۔ جھیل تک پہنچتے پہنچتے ہم نے سارے موسم برداشت کرلیے۔ کہیں بادلوں کے درمیان سے گزرے تو کبھی شدید بارش کا سامنا کیا۔ کبھی ہوا کے طوفانی جھکڑ سہے تو کبھی نرم اور سخت برف کا مزہ لوٹا۔ جھیل تک پہنچے تو آبی مزاحمت رکھنے والی جیکٹوں سے بارش کا پانی رس کر اندرونی کپڑوں تک پہنچ چکا تھا۔ وہاں لکڑی کا ایک ہٹ ہماری پناہ گاہ ثابت ہوا جہاں پہنچ کر جیکٹ اتاری اور اسے خشک کرنے کی کوشش کی۔ کچھ لوگ پہلے سے اس ہٹ میں موجود تھے اور کچھ ہمارے بعد پہنچے۔ یہاں ایک سوئس خاتون کی دی ہوئی پروٹین بار سے لطف اندوز ہوئے۔

ہائیکنگ کے شوقین سیاحوں کےلیے بنے ہوئے راستے


اس پورے علاقے کی ایک اور دلچسپ بات یہاں پر مٹرگشت کرنے والی گائیں تھیں جن کے گلے میں گھنٹیاں بندھی ہوئی تھیں۔ ان کی حرکت سے گھنٹی کی سریلی آوازیں پوری وادی میں گونجتی رہتی تھیں۔ سارا دن گھاس چرنے کی وجہ سے ان کے پپوٹے ایسے بھاری محسوس ہورہے تھے جیسے ہمیں بریانی کی تین پلیٹیں معدے میں اتارنے کے بعد محسوس ہوتے ہیں۔ اپنی خمار زدہ آنکھوں سے ہر گزرنے والے کو یہ قطار میں ٹکٹکی باندھ کر دیکھتی رہتیں، مگر بے ضرر اور دوستانہ رویّے کے ساتھ۔ ان کی تہذیب کا عملی نمونہ اس وقت دیکھا جب ہم ایک تنگ راستے سے گزر رہے تھے۔

اس تنگ راستے کے دونوں طرف عمودی ڈھلوانیں تھیں جو ایک جانب اوپر اور دوسری جانب نیچے کی طرف تھیں۔ سامنے سے ایک گائے صاحبہ تشریف لارہی تھیں۔ ہم ایک طرف ہوکر کھڑے ہوگئے کہ برابر سے گزر جائیں گی، مگر انہوں نے قریب آ کر دیکھا تو اس تنگ راستے سے گزرنے کے بجائے نیچے کی طرف قدم بڑھائے۔ جیسے ہی احساس ہوا کہ ڈھلوان عمودی ہے، اپنے پاؤں کو پیچھے کھینچ لیا اور راستے میں ہی کھڑی ہوگئیں۔ اب ہم دونوں آمنے سامنے ساکت کھڑے تھے۔ کچھ ساعتوں میں احساس ہو گیا تھا کہ ’ایسے نہیں چلے گا‘ سو ہم نے کوشش کرکے ایک قدم عمودی ڈھلوان پر رکھ کر راستہ خالی کیا تو پھر وہ وہاں سے روانہ ہوئیں۔ باقی راستہ ہم گائے صاحبہ کے اسی مہذبانہ رویّے کو یاد کرتے رہے۔ پاکستان میں ایسی صورت حال پیش آنے پر لوگوں کو کندھے مار کر گزرتے ہوئے ہی دیکھا تھا۔

لاؤٹر برونن (Lauterbrunnen) میں ایک آبشار کا منظر


لاؤٹر برونن کی وادی کا دلکش منظر کیمرے کی آنکھ سے


فرسٹ کے علاوہ بھی کئی جگہیں ایسی ہیں جنہیں دیکھنا لازم ہے؛ اور ساری اپنی اندرونی دلچسپی کے مختلف سامان اور نظاروں کے منفرد رخ رکھتی ہیں۔ لاؤٹر برونن (Lauterbrunnen) کا علاقہ خوبصورت آبشاروں کا مسکن ہے تو گرنڈل والڈ (Grindelwald) کا سبزہ آنکھوں کےلیے نہایت ہی فرحت بخش ہے۔ میورن (Muerren) اور کلائین شائڈگ (Kleine Scheidegg) بھی کچھ قابل ذکر مقامات میں شامل ہیں۔

جی ہاں! یہ ایک ’’قبرستان‘‘ ہے


بادلوں میں ڈوبے ہوئے گرنڈل والڈ کا دلکش منظر


ینگ فراؤ میں تین دن تفریح کے بعد اگلا پڑاؤ ہارڈر کلم (Harder Kulm) کا علاقہ اور جھیل برینز (Brienz) تھی۔

پانی شاید وہ واحد چیز ہے جو بغیر پیسے خرچ کیے یہاں مل سکتا ہے


ہارڈر کلم ایک ویو پوائنٹ ہے جو سطح سمندر سے 1300 میٹر بلند ہے۔ اس تک پہنچنے کےلیے ایک فیونی کلر ٹرین بنائی گئی ہے جو آٹھ منٹ میں زمین سے اس بلندی تک لے جاتی ہے۔ زمین سے کوئی چالیس درجے کا زاویہ بنانے والی اس ٹرین کا سفر بھی ایک یادگار تجربہ تھا۔ ہارڈر کلم پر پہنچ کر انٹرلاکن شہر کا ایک طائرانہ جائزہ لیا جا سکتا ہے جو دو جھیلوں برینز اور تھن کے درمیان واقع ہے۔ پانی کے دو قدرے تنگ راستے انٹرلاکن کے بیچ سے گزرتے ہوئے ان دونوں جھیلوں کو جوڑتے ہیں۔

ہارڈر کلم کی عمودی ٹرین کا ٹریک


ہارڈر کلم سے انٹرلاکن شہر کا ایک منظر


ہارڈر کلم سے نظر آنے والے پانی کے دو راستے جو دو جھیلوں کو آپس میں جوڑتے ہیں


ہارڈر کلم سے پورے انٹرلاکن شہر کا ایک طائرانہ جائزہ لیا جاسکتا ہے


جھیل برینز کے نظارے بھی دل موہ لینے والے ہیں۔ ایک اچھے دن جب دھوپ چمک رہی ہو، اس جھیل کی خوبصورتی کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔ اس کے پانی کا رنگ فیروزی ہے۔ اگر بوٹ سے سفر کریں تو جا بجا سفید بادلوں میں گھرے ہوئے ینگ فراؤ کے خوبصورت سرمئی پہاڑ، ہلکے سبز رنگ کی گھاس اور گہرے سبز رنگ کے اونچے درختوں پر مشتمل وادی (جس میں لکڑی کے رنگوں والے، فاصلہ رکھ کر بنائے ہوئے دلکش گھر شامل ہیں) فیروزی رنگ والے پانی کے پس منظرمیں رنگوں کی ایسی حسین دنیا تشکیل دیتے ہیں کہ اس پر جنت کا گمان ہوتا ہے – صرف حوروں کی کمی شدت سے محسوس ہوئی۔

جھیل برینز سے وادی کا خوبصورت نظارہ


جھیل برینز میں ایک پل اور اس کا خوبصورت عکس


جھیل میں ایک کنارے پر بنا ہوا خوبصورت محل


برینز شہر میں لکڑی سے بنا ہوا ایک مجسمہ


یہاں جاکر جو بات خصوصی توجہ کا مرکز بنی، وہ دنیا کے کونے کونے سے لوگوں کا یہاں پہنچنا تھا۔ امریکا، جاپان، چین، انڈیا، اور عرب سے آئے ہوئے لوگ کثرت سے تھے۔ ٹرینوں پر اعلانات بھی ان زبانوں میں ہوتے تھے۔ ہندوستانی اپنی ثقافت کا پرچار اپنے ریسٹورانٹس سے کرتے ہیں۔ بالی ووڈ کے نام کا ریسٹورانٹ ہم نے یورپ کی چھت یعنی یوخ پر دیکھا۔ اس کے علاوہ بھی انٹرلاکن میں جا بجا انڈین ریسٹورانٹس نظر آتے ہیں۔ ایک ٹرین پر امریکن جوڑا ملا جو کروز شپ کے ذریعے یورپ کے مختلف ممالک سے ہوتا ہوا یہاں پہنچا تھا۔ ٹرین میں سے گزرتے ہوئے دونوں طرف کی کھڑکیوں سے نظر آنے والے خوبصورت مناظر ہمیں اور انہیں ایک خوش کن الجھن میں مبتلا کر دیتے تھے کہ کونسی طرف کو آنکھوں اور کیمرے میں محفوظ کیا جائے۔ ان کے نزدیک یہ خوبصورت ترین مناظر تھے۔ انہیں بتایا کہ پاکستان میں بھی بے شمار ایسی جگہیں ہیں جو خوبصورتی میں اس علاقے کے ہم پلہ ہیں، بس سہولیات اور تشہیر کی کمی کے سبب دنیا کی نظروں سے اوجھل ہیں۔

حکومت اور سرمایہ کار اگر سنجیدگی سے کام کریں تو پاکستان کی سیاحت بھی سوئٹزر لینڈ کی طرح اپنا نام بناسکتی ہے۔ انٹرنیٹ کی ترقی نے آن لائن بکنگ کے رجحان کو فروغ دیا ہے۔ قطار میں لگ کر لوگ اپنے قیمتی وقت کا ضیاع نہیں چاہتے۔ یہ چیز حکومت کو جلد سے جلد یقینی بنانی ہوگی کہ ہوٹل اور ٹرین کی بکنگ کا حصول انٹرنیٹ کے ذریعے ممکن ہو۔ نقشوں کے ساتھ دلچسپی کے تمام مقامات مکمل تفصیل کے ساتھ میسر ہوں۔ سیاحت کی تیز رفتار ترقی کےلیے یہ اقدامات نہایت ضروری ہیں۔

چار دن کا اختتام پلک جھپکتے ہو گیا تھا اور نہ چاہتے ہوئے بھی ہمیں واپس لوٹنا تھا۔ بہت ساری یادوں اور تصاویر کے ساتھ ٹرین سے جرمنی واپسی کی راہ لی مگر اپنا دل وہیں انٹرلاکن میں چھوڑ آئے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

عبدالصمد سید

عبدالصمد سید

بلاگر جرمنی میں رہائش پذیر ہیں اور فزکس میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں جو اپنے اختتامی مراحل پر ہے۔ فوٹوگرافی کا شوق ہے، سیاحت اور بلاگ لکھنا بھی مشاغل میں شامل ہیں۔ دس ملین یورو کا جیک پاٹ جیتنے کی خواہش ہے مگر ٹکٹ کبھی نہیں خریدا۔ ان سے ای میل [email protected] یا فیس بک آئی ڈی ASamadSyed پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔