روپے کی قدر میں مسلسل گراوٹ کے عوامل اور دجالی ڈالر

غلام مصطفیٰ حاذق  جمعرات 11 اکتوبر 2018
کمال کی بات تو یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے اب تک کوئی بیرونی قرضہ نہیں لیا بلکہ پہلے سے لیے ہوئے قرضے، جو سابقہ حکومتی ادوار میں لیے گئے تھے، انہی کو اتارنے کے چکر میں لگی ہوئی ہے۔ (فوٹو: فائل)

کمال کی بات تو یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے اب تک کوئی بیرونی قرضہ نہیں لیا بلکہ پہلے سے لیے ہوئے قرضے، جو سابقہ حکومتی ادوار میں لیے گئے تھے، انہی کو اتارنے کے چکر میں لگی ہوئی ہے۔ (فوٹو: فائل)

شاید ہمیشہ سے پاکستان کی قسمت ہی ایسی ہے کہ اشیاء کے نرخ کبھی مستحکم نہیں رہ سکے۔ اور اب ڈالر کی یکلخت اڑان کی مد میں جو قیامت پاکستانی معیشت پر ٹوٹی ہے، تو صاف بات ہے کہ اب مہنگائی کا طوفان تو بہر صورت آئے گا ہی آئے گا جبکہ نوزائیدہ حکومت پہلے سے موجود قرضوں کو اتارنے کی بھرپور کوشش کررہی ہے، خود بھی ٹف ٹائم لے رہی ہے اور عوام کو بھی ٹف ٹائم دیا ہوا ہے اور اوپر سے ڈالر نے ایک ہی جھٹکے میں حکومت کی محنت پر پانی پھیر دیا ہے۔

ڈالر نے اکثر اڑان بھری ہے لیکن اتنی بڑی اڑان، وہ بھی کچھ ہی ساعتوں میں، نہ صرف قابلِ حیرت ہے بلکہ قابلِ توجہ بھی (جب کہ بعض دانشور فرما رہے ہیں کہ ابھی ڈالر 140 کی حد عبور کرسکتا ہے)۔ حیرانی، پریشانی اور بے یقینی کی فضا میں جکڑے ان عوام کا بھی حوصلہ جواب دیتا دکھائی دے رہا ہے کیونکہ عوام کے ایک گروہ نے ہمیشہ موجودہ حکومت کے ہر اقدام کا بڑھ چڑھ کر دفاع کیا ہے۔

عام آدمی بھی جاننا چاہتا ہے کہ ڈالر میں یکمشت نو روپے کا اضافہ کیسے ممکن ہے؟ ایسا کیسے ہوا؟ اس کی وجہ کیا ہے؟ لیکن فی الحال کوئی صحیح جواب نہیں دے پا رہا، بلکہ ہر کوئی اپنی اپنی منطق کے مطابق بات کر رہا ہے۔ فواد چودھری کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف سے ڈالر ملنے کی صورت میں پاکستان میں ڈالر کی ریل پیل ہو جائے گی اور گراوٹ میں کمی آئے گی؛ سوداگر کہہ رہے ہیں کہ موجودہ حکومت نے کوئی اقتصادی پالیسی مرتب ہی نہیں کی جس کی وجہ سے وہ پاکستان میں پیسہ نہیں لگا سکے؛ کرنسی ڈیلرز کہہ رہے ہیں کہ روپے کی قدر میں کمی آئی ایم ایف کے دباؤ کا نتیجہ لگتی ہے کیونکہ آئی ایم ایف پہلے ہی روپیے میں پندرہ فیصد کمی کرنے کا مطالبہ کرچکا ہے۔

ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر کی وجہ سے غیریقینی صورت حال کا سامنا ہے جس کے باعث ڈالر، مارکیٹ میں مل ہی نہیں رہا کیونکہ ڈالر کی ڈیمانڈ بہت بڑھ گئی ہے۔ انٹر بینک مارکیٹ میں استحکام آنے کی صورت میں ہی ڈالر کی دستیابی ممکن ہے۔ موجودہ صورت حال کے ضمن میں ڈالر کی قدر میں اب بھی اتار چڑھاؤ کا امکان بتایا جارہا ہے۔

فی الحال ڈالر میں 9 روپے کا ہوشربا اضافہ ہونے سے ہی پاکستانی قرض میں 900 ارب کا بھیانک اضافہ ہوچکا ہے جو کسی اور کو نہیں، مجھے اور آپ ہی کو اتارنا ہے۔ متوسط طبقہ پہلے ہی تنگ ہے اور عام مزدور تو اب بالکل پس کر رہ جائے گا۔ پیٹرول اور گیس کے نرخ بھی بڑھ چکے ہیں جن کی مد میں ٹرانسپورٹرز حضرات من مانے کرائے وصول کررہے ہیں۔ لیکن اب تو شاید ان حالات کے ذیل میں پھر سے بائی سائیکلوں کا دور لوٹ آئے۔ اس طرح تیل کی بچت تو ممکن ہے ہی اور ہوسکتا ہے کہ سائیکل رکشوں کو بھی فروغ ملے جس کے باعث تیل کی بچت کے ساتھ ساتھ فضائی آلودگی بھی نہیں پھیل سکے گی اور ماحول بھی پاک صاف رہے گا۔

واہ! کمال ہے کہ ڈالر کی اڑان نے ہمیں کتنا کچھ سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ صحیح کہتے ہیں کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔

ہماری معیشت پہلے ہی جھٹکوں پر چل رہی ہے جس کے زرمبادلہ کے ذخائر بالکل موجود نہیں، اوپر سے ڈالر کی اڑان کی مد میں جو معاشی بم ہمارے سروں پر پھٹا ہے، اس کی تباہی ساری قوم تو جھیلے گی ہی لیکن ہمیشہ کی طرح سب سے زیادہ متاثر غریب طبقہ ہی ہوگا۔

کمال کی بات تو یہ ہے کہ ہم نے ابھی تک اس موجودہ حکومت میں کوئی بیرونی قرضہ نہیں لیا بلکہ پہلے سے لیے ہوئے قرضے، جو سابقہ حکومتی ادوار میں لیے گئے تھے، وہی اتارنے کے چکر میں لگے ہوئے ہیں جس کی بدولت سارے ملک میں ایک تناؤ کا ماحول بنا ہوا ہے اور ناخوشگوار سی فضا (حکومت اور عوام کے مابین) پنپ رہی ہے جسے دونوں فریق فی الحال مشکل سے ہی سہی، برداشت کیے ہوئے ہیں۔

ایسے میں روپے کا اس قدر بری حد تک گراوٹ کا شکار ہوجانا کسی بیرونی ہاتھ کے ملوث ہونے کا شاخسانہ لگتا ہے کیونکہ مزید مہنگائی کی صورت میں (جو ڈالر کی اڑان کی مد میں حکومت کو کرنی پڑے گی) پاکستان میں خانہ جنگی کا امکان ہے جو بہت بھیانک صورت حال ہوگی کیونکہ اس سے پہلے پاکستانی عوام نے اس حد تک مہنگائی نہیں جھیلی کہ پیٹرول اور گیس، دونوں کے نرخ اتنے زیادہ بڑھ جائیں۔ اب تو ان میں مزید اضافہ عوام کو موت کی صورت دکھائی دے رہا ہے کیونکہ یہ دونوں (پیٹرول اور گیس) کی مہنگائی کی وجہ سے باقی چیزیں بھی لازماً مہنگی ہوں گی۔ مثلاً ہر وہ چیز جسے خریدنے یا بیچنے کےلیے ایک شہر سے دوسرے شہر لے جانا پڑے، لازمی امر ہے کہ مہنگی ہوگی۔

راقم کا بھی ایک اپنا نقطہ نظر ہے: مذکورہ بالا عوامل کے علاوہ کسی بھی معیشت کو بیمار کرنے کا جو سب سے بڑا ذریعہ ہے، وہ ہے دجالی قوت۔ اگر میری بات عجیب اور غیر منطقی لگے تو راقم تھوڑی سی وضاحت کرنا چاہے گا۔ کیا کوئی بتاسکتا ہے کہ افغانستان کی ایسی کونسی برآمدات ہیں یا وہاں ایسی کونسی صنعتیں ہیں جن کی بدولت وہ معاشی طور پر ہم سے دن بدن بہتر ہو رہا ہے؟ کیا افغانستان میں فیصل آباد کے مقابلے کا کوئی شہر ہے جسے دنیا دوسرا مانچسٹر کہتی ہے؟ کیا افغانستان میں سمندری بندرگاہیں موجود ہیں جیسی کراچی میں ہیں؟ کیا افغانستان میں ایسے زرخیز میدانی علاقے ہیں جیسے پنجاب اور سندھ میں ہیں؟ کیا افغانستان میں کوئی بڑا ریلوے ٹریک ہے؟ کیا افغانستان سے سونا اور تیل نکل رہا ہے؟ تو پھر افغانستان میں ایسا کیا ہے کہ وہاں تو ڈالر کی قدر کم ہو رہی ہے اور پاکستان میں سارے وسائل ہونے کے باوجود ڈالر کی قدر میں بھیانک حد تک اضافہ ہورہا ہے؟

کیا آپ کو گمان بھی نہیں ہورہا کہ پس پردہ کوئی اور ہی طاقت اپنا کھیل کھیل رہی ہے؟ یہی وہ طاقت ہے جس کی بدولت لیرا (ترک کرنسی) کی قدر میں کچھ ہی دنوں کے دوران بھاری گراوٹ آرہی ہے اور تاحال جاری ہے… کیونکہ ترکی والوں نے علی الاعلان ڈالر میں لین دین کرنے سے انکار کر دیا جس کی پاداش میں لیرا بھی مسلسل گراوٹ کا شکار کیا جارہا ہے۔ یعنی کہ ہم دوسرے لفظوں میں یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ دجالی قوتیں ڈالر کرنسی کو اسلامی ممالک میں اپنے ایک مہلک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں جس کا صرف ایک ہی حل ہے کہ ایک اسلامی بینک کی بنیاد رکھی جائے جو دجالی قوتیں آسانی سے ہونے نہیں دیں گی؛ بلکہ انہیں مسلمانوں کا یہ عمل ایک آنکھ نہیں بھائے گا۔

اس لیے ضروری ہے کہ اسلامی ممالک اس مرتبہ او آئی سی کے اجلاس میں اسلامی بینک کا ایک مربوط لائحہ عمل طے کرلیں تاکہ اس کی بنیاد پر مل کر کام شروع کرسکیں اور ایک دوسرے کا بازو بن سکیں۔ مگر اس کےلیے مسلم ممالک میں اتحاد ہونا ضروری ہے جس کا ان میں شدید فقدان ہے۔ اسی بات کا فائدہ دجالی قوتیں اٹھا رہی ہیں۔ جب تک اتحاد نہیں بنے گا، مسلم ممالک کبھی دجالی قوتوں کے خلاف کامیاب نہیں ہوسکتے۔ دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں صحیح رہنمائی کی توفیق عطا فرمائے (آمین)۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔