اسرائیلی فوجیوں پر بُرا وقت آپڑا

 پير 10 جون 2013
خواتین اہل کاروں کی ایک نازیبا تصویر پوسٹ ہونے کے بعد سماجی ویب سائٹس کے استعمال پر پابندی عاید. فوٹو : فائل

خواتین اہل کاروں کی ایک نازیبا تصویر پوسٹ ہونے کے بعد سماجی ویب سائٹس کے استعمال پر پابندی عاید. فوٹو : فائل

سوشل ویب سائٹس لوگوں کو باہم مربوط رکھنے کا فریضہ انجام دے رہی ہیں۔

اس طرح یہ طور پر ان لوگوں کے لیے رابطے کا ایک مفید اور آسان ذریعہ ہیں، جن کے پیارے ان سے دور ہیں۔ ایسے افراد میں فوجی اور ان کے خاندان بھی شامل ہیں۔ بالخصوص اپنے علاقے سے دور سرحد یا کسی اور مقام پر تعینات فوجیوں کے لیے سماجی ویب سائٹس اپنے پیاروں سے رابطے کا آسان ذریعہ ہیں، مگر اسرائیل کے فوجی جلد اس ذریعے سے محروم ہوجائیں گے۔

اور اس کی وجہ ہے اسرائیلی فوج کی کچھ خواتین اہل کاروں کی ایک نازیبا حرکت۔

ہوا یوں کہ اسرائیل کچھ فوجی خواتین نے نہایت مختصر کپڑوں میں اپنی تصویر بنوائی اور فیس بُک پر پوسٹ کردی۔ اس تصویر نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کرلی۔ اس تصویر کا فیس بُک پر آنے کے چند روز بعد ہی اسرائیل کی فوج کا یہ بیان سامنے آیا کا فوج کے اہل کاروں کے فیس بک اور دیگر سوشل ویب سائٹس استعمال کرنے کے سلسلے میں جلد پابندیوں کا نفاذ عمل میں لایا جائے گا۔

اس سلسلے میں ایک مسودہ تیار کیا جا رہا ہے جس کے تحت فوجیوں کو یونیفارم پہنے ہوئے یا بیس میں کھینچی ہوئی تصویر سوشل ویب سائٹس پر پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، جب کہ اہم یونٹس سے وابستہ فوجی ان سائٹس پر اپنا اکاؤنٹ بھی نہیں بناسکیں گے۔ تاہم فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا تعلق مذکورہ تصویر سا نہیں بل کہ یہ فیصلہ سیکیوریٹی کے نقطۂ نظر کیا گیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔