50 لاکھ گھروں کی فراہمی کا منصوبہ

ایڈیٹوریل  جمعـء 12 اکتوبر 2018
وزیراعظم نے قوم کو یقین دلایا کہ ملک موجودہ مشکل صورتحال سے سرخرو ہوکر نکلے گا۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم نے قوم کو یقین دلایا کہ ملک موجودہ مشکل صورتحال سے سرخرو ہوکر نکلے گا۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم عمران خان نے بدھ کو وزیراعظم آفس اسلام آباد میں نیا پاکستان ہائوسنگ منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کم آمدنی والے طبقے اورغریب عوام کو 50 لاکھ گھروں کی فراہمی کے لیے نیا پاکستان ہائوسنگ اتھارٹی کا اعلان کیا۔اپنے خطاب میں انھوں نے کہا کہ اس اقدام سے غریبوں کو چھت میسر آنے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو روزگار ملے گا ،وزیراعظم نے قوم کو یقین دلایا کہ ملک موجودہ مشکل صورتحال سے سرخرو ہوکر نکلے گا‘ڈرنے کی ضرورت نہیں ‘انھوں نے امید دلائی کہ اچھا وقت آئے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہائوسنگ کے شعبہ کوتحریک انصاف کے منشور میں بنیادی اہمیت حاصل رہی ہے، ہائوسنگ ایک ایسی انڈسٹری ہے جس سے سارا ملک چلتا ہے اور 40 صنعتیں براہ راست ہائوسنگ کے شعبہ سے منسلک ہیں جب کہ متعدد دیگر صنعتیں بالواسطہ طور پررواں ہوتی ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے انتخابی مہم کے دوران 50لاکھ گھروں کی تعمیر کا اعلان کیا تھا‘اب انھوں نے اپنے اس اعلان کو عملی شکل دینے کے لیے کام کا آغاز کر دیا ہے۔گو ان کے سیاسی مخالفین اس پروگرام پر طنز کرتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ منصوبہ قابل عمل نہیں ہے لیکن حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو اگر کچھ کرنے کی نیت ہو تو مشکل کام بھی کیے جا سکتے ہیں۔

وزیراعظم کا یہ کہنا درست ہے کہ ہائوسنگ ملکی معیشت کا ایک اہم شعبہ ہے‘اگر یہ شعبہ بھرپور انداز میں کام کرے تو اس سے غیرہنر مند اور ہنر مند ورکرز کو وسیع پیمانے پر روز گار میسر ہو گا ‘اس کے علاوہ تعمیراتی شعبے سے منسلک دیگر صنعتیں بھی بحال ہو جائیں گی۔ تعمیراتی شعبہ کام کرنا شروع کرتا ہے تو اس سے عام مزدور کو بھی کام ملتا ہے جب کہ راج مستری سے لے کر انجینئرنگ کے تمام شعبوں کے ماہرین کو بھی روز گار مل جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دیگر چھوٹی انڈسٹریاں بھی کام کرنا شروع کر دیتی ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں ایک کروڑگھروںکی طلب ہے، ہم پانچ برسوں میں 50 لاکھ گھر بنا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ’’نیا پاکستان ہائوسنگ اتھارٹی‘‘ 90 روز میں قائم کر دی جائے گی، وہ اس کو خود مانیٹرکریں گے، ایک ٹاسک فورس اس منصوبہ کو دیکھے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ کچی آبادیوںکا ڈیٹا اکٹھاکر رہے ہیں،کراچی میں 40 فیصد کچی آبادیاں ہیں۔اس وقت فوری کام رجسٹریشن کا ہے جس سے ہمیں گھروں کی طلب معلوم ہوگی، ابتدائی طور پرسات اضلاع میں پائلٹ پراجیکٹ شروع ہوگا، 60 دنوں تک نادرا سے مل کر رجسٹریشن کا عمل مکمل ہوگا۔

وزیراعظم نے موجودہ معاشی حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا دو تین روز سے ایسا لگ رہا ہے جیسے آسمان گر پڑا ہو،برے حالات سے گھبرانا نہیں چاہیے یہ وقت جلد ختم ہوجائے گی۔ وزیراعظم نے کہاکہ پی ٹی آئی حکومت کی اصلاحات کے اثرات چھ ماہ بعد سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔ انھوں نے قوم کو یقین دلایا کہ قوم حوصلہ رکھے وہ پاکستان کو مشکل وقت سے نکالیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس وقت پاکستان کو انتہائی مشکل معاشی حالات کا سامنا ہے۔ روپے کی قدر میں بھاری کمی کے باعث مہنگائی میں مزید اضافے کا خطرہ واضح نظر آ رہا ہے ‘اس سے عوام کے مسائل میں مزید اضافہ ہو گا۔

پاکستان کو معاشی گرداب سے نکالنے کے لیے یقینی طور پر سخت فیصلے کرنا ہوں گے تاہم سخت فیصلوں کا رخ رولنگ کلاس کی طرف ہونا چاہیے۔ اس وقت حکومتی اداروں کی کارروائیوں کے باعث صنعتکار اور کاروباری طبقہ خوف و ہراس کا شکار ہے ‘ملک کے بڑے شہروں میں کاروباری سرگرمیاں ماند پڑ رہی ہیں‘ موجودہ حکومت کو اس پہلو کی جانب توجہ دینی چاہیے۔

پاکستان میں قبائلی سرداروں‘ قبائلی علاقوں کے خوشحال لوگوں ‘بلوچستان ‘سندھ اور جنوبی پنجاب کے جاگیرداروں ‘گدی نشینوں اور بڑے زمینداروں کا لائف اسٹائل سب کے سامنے ہے لیکن کوئی حکومتی ادارہ ان کے خلاف تحقیقات نہیں کر رہا جب کہ تحقیقاتی کارروائیوں کا سارا رخ شہروں کی بزنس کلاس یا اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں کی طرف ہے۔

ادھر مختلف قسم کے ٹیکسوں کی بھرمار کا بوجھ بھی شہری اور سروسز کلاس پر ہے۔ جو لوگ پہلے ہی ٹیکس نیٹ میں موجود ہیں ان پر مزید بوجھ ڈالا جا رہا ہے جب کہ آدھے سے زیادہ ملک ہر قسم کے ٹیکسوں سے مبرا ہیں۔ملک کے قبائلی علاقوں ‘خیبرپختونخوا کے بیشتر حصے میں ‘بلوچستان اور دیہی سندھ میں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں سرعام سڑکوں پر دوڑ رہی ہیں ‘ اس جانب حکومت کی کوئی توجہ نہیں ‘ بلاشبہ حکومت کو ٹیکس اکٹھا کرنا ہے لیکن اس کے لیے ان علاقوں کو بھی قانون کے تابع لایا جائے جہاں قوانین پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔

محض 50لاکھ گھروں کا منصوبہ بنانے اور ان پر کام شروع کرنے سے ملک کی معیشت بہتر نہیں ہوگی۔ اصولی طور پر حکومت کو معیشت کے دیگر شعبوں خصوصاً زراعت کی ترقی پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ اس وقت چھوٹا کسان غربت کی چکی میں پس رہا ہے۔

اس کے لیے زرعی مداخل انتہائی مہنگے ہو گئے ہیں‘ جس کی وجہ سے اس کی فی ایکڑ پیداواری لاگت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے ‘جیسے تیسے جب وہ فصل کاشت کر لیتا ہے اور فصل کاٹ کر منڈی کی طرف لاتا ہے تو راستے میں پولیس اور دیگر سرکاری اہلکار اسے مختلف بہانوں سے تنگ کرتے ہیں اور رشوت وصول کرتے ہیں۔ جب وہ منڈی تک پہنچ جاتا ہے تو وہاں آڑھتی طبقہ اس کی فصل کو اونے پونے خرید لیتا ہے ‘ یوں کسان جب واپس جاتا ہے تو اس کی جیب میں سوائے نقصان کے کچھ نہیں ہوتا۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ٹیکس قوانین ہوں ‘یا پولیس کے قوانین ہوں یا عدالتی نظام ہو‘ وہ عوام کو فائدہ پہنچاتے ہیں جب کہ پاکستان میں قوانین حکومتی اہلکاروں اور ریاست کو طاقتور بناتے ہیں جس کے بل بوتے پر ریاست اور اس سے طاقت حاصل کرنے والے سرکاری اہلکار شہریوں کا جینا حرام کر دیتے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت کو معیشت سے لے کر سیاست اور سیاست سے لے کر ہر قسم کے قوانین تک عوام دوست رویہ اپنانا چاہیے ‘ تبھی یہ ملک ترقی کر سکے گا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔