نئی حکومت کی غلطیاں

ظہیر اختر بیدری  جمعـء 12 اکتوبر 2018
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

[email protected]

عمران خان کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے اپنی لگاتار اور انتھک کوششوں سے ’’ اسٹیٹس کو ‘‘ توڑ دیا، یہ ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔ ضروری بات یہ ہے کہ اسٹیٹس کو کے پلروں کو دوبارہ مضبوط نہ ہونے دیا جائے۔ مہا رتن پوری کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح حکومت کو اس قدر بد نام کردیا جائے کہ عوام اس سے بدظن ہو جائیں۔اس حوالے سے افسوسناک بات یہ ہے کہ خود حکومت اپنی ناعاقبت اندیشی سے ایسے کام کر رہی ہے کہ عام آدمی اس سے بدظن ہو رہا ہے۔

بجلی،گیس غریب سے غریب آدمی کی ضرورت ہیں، انھیں مہنگا کردیا گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سابقہ حکومتوں کی لوٹ مار نے ملکی معیشت کا دیوالیہ نکال دیا ہے ۔ ملک کو معاشی بد حالی سے نکالنے کے لیے مزید قرضے لینے پڑ رہے ہیں۔ ایسی صورت حال میں کوئی بھی حکومت ٹیکسوں میں اضافہ اور عوام کے استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا سہارا ہی لیتی ہے، یہ روایتی طریقہ کار ہے لیکن پاکستان جیسے ملک میں جہاں عوام پہلے ہی غربت کی چکی میں پس رہے ہیں، بجلی گیس جیسی ناگزیر ضرورتوں کی قیمتوں میں بھاری اضافہ ایک ایسی حماقت ہے جس کا نتیجہ عوام کی ناراضی کی شکل ہی میں نکل سکتا ہے۔

دو ماہ کی کارکردگی سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت کو نہ کوئی دانشورانہ سپورٹ حاصل ہے نہ ہی اقتصادی ماہرین کے مشورے حکومت کی پالیسیوں میں شامل ہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ ملک کی موجودہ معاشی ابتری میں ایسے فیصلے ناگزیر ہوجاتے ہیں ۔ آج کل لوٹ مار کی دولت کا حال یہ ہے کہ فالودہ بیچنے والوں کے اکاؤنٹ سے اربوں روپے نکل رہے ہیں۔کرپشن کے خلاف اقدامات سے کرپٹ عناصر اس قدر بدحواس ہوگئے ہیں کہ وہ اپنی دولت بچانے کے لیے اوٹ پٹانگ طریقے استعمال کر رہے ہیں۔

حکومت کے پاس کرپٹ عناصر کی لمبی چوڑی فہرست ہے۔ پاناما لیکس کی فہرست میں سیکڑوں نام شامل ہیں، ملک سے باہر 200 ارب روپے امرا نے رکھے ہوئے ہیں۔ بھاری کرپشن کا ارتکاب کرنے والوں کی تعداد بھی سیکڑوں میں پہنچی ہوئی ہے، بینکوں سے کھربوں کا قرض لے کر معاف کرانے والوں کے نام بھی حکومت کے علم میں ہیں اگر ان ملک دشمن، عوام دشمن اشرافیہ کا گلا پکڑا جائے تو کھربوں روپے حاصل ہوسکتے ہیں، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان لٹیروں سے کھربوں کی عوامی دولت کیوں نہیں نکالی جاتی ؟

پاکستان جیسے غریب اور اربوں ڈالرکے اندرونی اور بیرونی قرضوں میں جکڑے ہوئے ملک کے لیے یہ دولت لٹیروں سے چھیننا ضروری ہے۔ ماضی کی حکومتیں کیونکہ خود اس لوٹ مار میں شامل تھیں لہٰذا ان سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی تھی کہ لٹیروں سے لوٹ مار کی دولت برآمد کرسکے۔ ایک مڈل کلاس حکومت برسر اقتدار آئی ہے اور وہ جانتی بھی ہے کہ قومی دولت کے لٹیرے کہاں کہاں چھپے ہوئے ہیں۔

اگر گزرے ہوئے دو ماہ ان لٹیروں سے لوٹی ہوئی دولت برآمد کرنے میں لگائے جاتے تو حکومت کے پاس کھربوں کی دولت آجاتی لیکن حکومت نے یہ دو ماہ فضول مشقوں میں گزار دیے۔ اگر یہ دو ماہ لوٹ مار کی دولت برآمد کرنے میں لگائے جاتے تو ایک تو ملک معاشی ابتری سے نکل آتا دوسرے عوام کی روزمرہ استعمال کی اشیا بجلی گیس کی قیمتوں میں اس قدر اضافے کی ضرورت پیش نہ آتی۔

موجودہ حکومت کو مڈل کلاس کی حکومت ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ عوام ماضی کی حکومتوں سے سخت نالاں ہیں، وہ حکومت سے یہ بجا توقع کر رہے ہیں کہ وہ انھیں ریلیف فراہم کرے گی لیکن بجلی گیس میں اضافے کے  ساتھ مہنگائی میں سے عوام میں مایوسی پیدا ہو رہی ہے اور ’’اپوزیشن‘‘ اس مایوسی سے سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے تیار بیٹھی ہوئی ہے۔

اشرافیہ پہلی بار رنگے ہاتھوں پکڑی گئی ہے لیکن اشرافیہ کی اس لوٹ مار سے عمران حکومت کوئی سیاسی فائدہ نہیں اٹھا رہی ہے، اعلیٰ سطح حکمرانوں کی پکڑ دھکڑ سے بلاشبہ اشرافیہ بری طرح خوفزدہ ہے لیکن چونکہ یہ گرفتاریاں مضبوط قانونی بنیادوںپر شاید نہیں کی جا رہی ہیں لہٰذا گرفتار اشرافیہ بری ہوکر دوبارہ مضبوط ہو رہی ہے اور دولت کے بل بوتے پر دوبارہ عوام میں گھسنے اور عوام کو حکومت سے بدظن کرنے میں مصروف ہے۔ بدقسمتی سے حکومت اشرافیہ کے دھواں دھار منفی پروپیگنڈے کا جواب دینے کے قابل بھی نہیں۔

بدقسمتی سے عمران خان اندرونی عناصر کو شاید کامیابی سے کنٹرول نہیں کر پا رہے ہیں جس کی وجہ سے اس کی اندرونی صفوں میں وہ اتحاد نظر نہیں آتا جس کی موجودہ نازک صورتحال میں اشد ضرورت ہے۔ ماضی کی بادشاہی حکومتیں وزرا کی فوج رکھتی تھیں اور قومی دولت کو لٹاتی تھیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عمران کی مڈل کلاس حکومت کو 40 وزیروں کی فوج کی کیا ضرورت تھی،کیا عمران خان بلیک میل ہوکر وزراء کی فوج میں اضافہ کر رہے ہیں؟



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔