کرپشن کا دفاع، ملک و قوم سے بے وفائی

اکرام سہگل  جمعـء 12 اکتوبر 2018

اپنا گھر ہر کسی کا خواب ہوتا ہے، خاص طور پر متوسط اور نچلے طبقے کے لوگوں کا جو جائیداد کی آسمان سے باتیں کرتی ہوئی قیمتوں کے باعث اس کی تعبیر حاصل نہیں کرپاتے۔ جائیداد کے کاروبار میں قیاس آرائیوں سے، عام طور پر نان فائلرز ایسی چہ مگوئیاں پھیلاتے ہیں، قیمتیں یک دم کئی گنا بڑھ جاتی ہیں اور زمین عام آدمی کی رسائی سے مزید دور ہوجاتی ہے۔ 2010میں پنجاب حکومت نے ہزاروں سستے گھر تعمیر کرنے کا وعدہ پورا کرنے کے لیے آشیانہ ٔ اقبال اور آشیانۂ قائد کے نام سے لاہور میں ہاؤسنگ اسکیموں کا اجرا کیا۔

اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اپنے پہلے دور حکومت میں بڑے تام جھام کے ساتھ 14ارب روپے کے ان منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھا۔ تاہم وقت گزرتا گیا اور حکومت قسطوںکے اربوں روپے جمع کرنے کے باوجود ایک گھر کی بنیاد بھی نہیں رکھ سکی۔ متاثرین کی جانب سے جب کرپشن، بدنظمی اور بے قاعدگیوں کے الزامات میں شدت آئی تو قومی احتساب بیورو نے اس منصوبے کی تحقیقات کا آغاز کیا اور 14ارب کے اس منصوبے میں بڑے گھپلوں کا انکشاف ہوا۔

ہفتہ 6اکتوبر کو لاہور کی احتساب عدالت نے نیب کو سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف کو دس روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا۔ چونکہ شہباز شریف آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکیم کے ٹھیکے خلاف ضابطہ من پسند کمپنی کو دینے کے الزامات سے متعلق اطمینان بخش جواب دینے میں ناکام رہے تھے اس لیے ایک دن قبل ہی نیب کی تفتیشی ٹیم انھیں گرفتار کرچکی تھی۔ وہ  14ارب مالیت کے آشیانہ ہاؤسنگ اور4ارب کے پنجاب صاف پانی منصوبوں میں کرپشن میں مبینہ طور پر ملوث ہیں۔

جنوری 16کو نیب نے وزیر اعلیٰ پنجاب پر یہ الزام عائد کیا کہ انھوں نے بولی میں کام یاب ہونے والے چوہدری لطیف اینڈ سنز کا ٹھیکا منسوخ کرکے آشیانہ کا کنٹریکٹ لاہور کاسا ڈیولپرز کو دیا، اس کے نتیجے میں193ملین روپے کا نقصان ہوا۔ ضمنی انتخابات سے کچھ ہی دن پہلے یہ گرفتاری مسلم لیگ ن کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے۔

شہباز شریف کا اصرار ہے کہ ٹھیکے کے منسوخی قواعد کے مطابق ہے اور اصل کمپنی کرپشن کی وجہ سے بلیک لسٹ ہوچکی تھی۔ نیب کو اس معاملے کی تحقیقات کرنا ہوں گی۔ اس وقت نیب کڑی تنقید کی زد میں ہے، اس لیے تحقیقات شفاف ہونی چاہیں، ساتھ ہی نیب کو حزب مخالف کا یہ تاثر زائل کرنے کے لیے پوری مستعدی سے کام کرنا ہوگا کہ نیب حکومت کی ایما پر یہ کارروائیاں کررہی ہے۔ مسلم لیگ ن پنچاب اسمبلی میں شہباز شریف کی گرفتاری کے خلاف قرارداد پیش کرچکی ہے اور 14اکتوبر کے ضمنی انتخابات سے قبل رہائی نہ ہونے کی صورت میں ملک گیر احتجاج کی دھمکی بھی دی ہے۔

اس دوران مفاد پرست ٹولے کی جانب سے یہ قیاس آرائیاں بھی پھیلائی جارہی ہیں کہ یہ سب کچھ مسلم لیگ ن اور اداروں کے مابین چپقلش کا نتیجہ ہے۔ بعض حلقوں نے یہ تاثر پھیلانے کی کوشش بھی کی ہے کہ شہباز شریف کی گرفتاری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ڈیل کے رانا مشہود کے متنازعہ بیان کا جواب ہے۔ رانا مشہود کی اپنی جماعت اور پاک فوج کے ترجمان اس کی تردید کرچکے ہیں جب کہ پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ کو اس گرفتاری میں ’’سیاسی انتقام‘‘ کی بو آتی ہے اور ساتھ ہی وہ اسے پی ٹی آئی حکومت کی سو دن کی کارکردگی سے توجہ ہٹانے کی ’’سازش‘‘ قرار دیتے ہیں۔

پنجاب اور بالخصوص لاہور میں بڑے ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے شہباز شریف اپنا ایک تاثر قائم کرنے میں کام یاب رہے ہیں، دیانت داری اور ملکی مفاد کے تحفظ کا جذبہ بھی اسی تاثر کا حصہ ہے۔ انھیں جلد باز تصور کیا جاتا ہے اور کئی منصوبے ان کی اس عجلت پسندی کی نذر ہوئے۔ 2009 میں 5ارب کی لاگت سے انھوں نے مختلف اضلاع میں دانش اسکول تعمیر کرنے کا منصوبہ پی سی وون کی منظوری کا بنیادی تقاضا پورا کیے بغیر ہی شروع کردیا۔ قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسکولوں کی تعمیر کے لیے مختص غیر ترقیاتی فنڈز سے رقم جاری کی گئی۔ 2016میں نیوز لائن میگزین نے ایک رپورٹ میں لکھا’’ اکتوبر 2011میں عمران خان کے کام یاب جلسے کے بعد ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے پیش نظر شہباز شریف نے لاہور میں میٹرو بس منصوبے کا آغاز کیا۔

30ارب روپے کے اس منصوبے پر کام بھی  عجلت میں شروع ہوا ۔ اس کے پلوں تعمیر کے لیے ضروری مٹی کی جانچ تک نہیں کرائی گئی۔ 1180میگا واٹ کے بھکی پاؤر پراجیکٹ جو احد چیمہ کے سپرد تھا، اس کے بارے میں بہت سی کہانیاں گردش میں رہی ہیں۔

اپنے قیام کے بعد سے نیب نے بعض قابل تعریف کام کیے ہیں، کرپشن کی بیخ کنی اور بلا امتیاز احتساب سے متعلق نیب کے عزم پر کوئی سوال نہیںاٹھایا جاسکتا۔ نیب کے خلاف واویلے کا مقصد یہ ہے کہ کسی طرح اسے شہباز شریف کی رہائی پر مجبور کرکے جس قدر ممکن ہو مفلوج و غیر مؤثر ادارہ بنا دیا جائے۔ طاقتوروں کے خلاف نیب کے حالیہ اقدامات شفاف اور بلا امتیاز ہیں، تاہم حزب مخالف کے ’’بزرجمہر‘‘ ان اقدامات کو انتقامی اور یک طرفہ کارروائیاں باور کروانے کی تگ و دو میں ہیں۔ ماضی میں بھی نیب کو اپنی ذمے داریاں خوش اسلوبی سے ادا کرنے کی صورت میں ’’پر کترنے‘‘ اور ’’تمیز سے رہنے‘‘ جیسی دھمکیوں کا سامنا رہا ہے۔ نیب کے خلاف ہنگامہ خیزی اس بات کا ثبوت ہے کہ 2002کے بعد سے فوجی و سول حکومتوں کی جانب سے اپنے مفاد کے لیے، بار بار اس ادارے کو اس کے اپنے مقاصد سے ہٹانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کے باوجود بالآخر یہ ادارہ درست سمت اختیار کرچکا ہے۔ درحقیقت نیب انسداد بد عنوانی کے دوسرے  اداروںکے لیے ایک مثال ہے۔

اگر احتساب بلا خوف و خطر، سیاسی رسوخ اور ذاتی مفاد سے بالاتر ہوکر نہ کیاجائے تو یہ لاحاصل کھیل ہے۔ احتسابی عمل اس وقت پٹڑی سے اترجاتا ہے جب حکومت و سماج کی اعلیٰ سطحوں پر اقربا پروری اور مفاد پرستی سایسی عزائم کو آلودہ کردیتے ہیں۔ نیب کو دس روز تک شہباز شریف کو حراست میں رکھنے کی اجازت مل گئی ہے اور اب انھیں کرپشن اور بے قاعدگیوں کے معاملے میں پیش قدمی کرنا ہوگی۔ کسی بھی وجہ سے نیب کام یاب نہیں ہوتا تو اس کے خلاف اسٹبلشمنٹ کا ایجنڈا پورا کرنے کے لیے جانبداری اختیار کرنے کے الزامات میں مزید شدت آجائے گی۔ نیب کو بلا جھجک جعلی خبریں اور جھوٹا پراپیگنڈا کرنے والے عناصر کے خلاف قانونی اقدامات کرنے چاہییں۔ اس سلسلے میں نگاہیں سپریم کورٹ پر جمی ہیں کہ وہیں سے لوٹ مار کرنے والوں کی گرفت ہوسکتی ہے۔

(فاضل مصنف سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار اور عالمی اقتصادی فورم (WEF)کے ’’پارٹنرنگ اگینسٹ کرپشن انیشی ایٹو (پی اے سی آئی) کے رکن ہیں)



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔