ڈالر کی اونچی اڑان اور عوام کی ماند پڑتی خوشیاں!

علی احمد ڈھلوں  جمعـء 12 اکتوبر 2018
ali.dhillon@ymail.com

[email protected]

دو ماہ قبل قائم ہونے والی حکومت میں پہلی دفعہ ڈالر کو ’پَر‘ لگے اور ایسے لگے کہ ملکی تاریخ کی بلندترین اُڑان بھر لی۔ یعنی ڈالر نے پھر پاکستانی روپے کودھوبی پٹکا دے مارا۔یہ خبر ہر چینل پرتڑکے لگاکر چلائی گئی۔اخبارات چیخ رہے ہیں، ڈالر بے لگام ہوگیا، سٹہ باز میدان میں آگئے، منی چینجرز راتوں رات کروڑ پتی اور ارب پتی بن گئے۔

ملک میں اتنا شور شرابا مچا کہ خداکی پناہ لیکن آفرین ہے اسٹیٹ بینک آف پاکستان پر کہ چپ سادھ رکھی ہے۔ ایسے میں سابق صدر پرویز مشرف کا دور یاد آتاہے، جب جنرل پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کیا تو کرنسی مافیا نے ساٹھ روپے کا ڈالر سو روپے تک پہنچا دیا تھا۔ ایسے میں پرویز مشروف نے کرنسی مارکیٹ بند کردی، اس کے بعد کرنسی ڈیلرز نے یقین دہانی کرائی کے ڈالر کو اس کے اصل ریٹ پر لایا جائے اور ڈالر ساٹھ روپے پر واپس آگیا۔ جب تک پرویز مشرف برسراقتدار رہے ڈالر اپنی جگہ منجمد رہا۔ کیا وجہ ہے کہ اوپن مارکیٹ میں اسٹیٹ بینک ڈالر کو بڑھنے سے نہیں روک سکا۔

چلیں مان لیا کہ حکومت کو وقت دیا جانا چاہیے مگر یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ہر چیز عوام ہی برداشت کریں۔ حیرت  ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف میں قرضے کی آج درخواست دائر کی ہے، جب کہ ڈالر پہلے ہی بڑھ گیا ۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں روپے کی قدر میں کمی برآمدات میں اضافے کی کوششیں ہے۔قارئین کو یاد ہوگا کہ جب ملک میں ڈالر ساٹھ روپے کا ہوا تو حکومت کی طرف سے کہا گیا برآمدات میں اضافہ ہوگا۔ جب ڈالر سو روپے کا کیا گیا تو بھی کہا گیا کہ ملک کی ایکسپورٹ بڑھے گی لیکن کچھ نہیں ہوا، اب بھی کچھ نہیں ہوگا۔

ادھر ڈالر مہنگا ہونے سے فی تولہ سونا 1700 روپے اضافے کے بعد 62 ہزار روپے ہوگیا۔عالمی مارکیٹ میں سونا سستا ہوا لیکن اوپن مارکیٹ میں ڈالر مہنگا ہونے کی وجہ سے مقامی صرافہ بازار میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگیا، یوں سونا 5 سال کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا ۔

کرنسی ریٹ کا اُتار چڑھاؤ پاکستان سمیت دنیا بھر کے عام لوگوں کے لیے ایک حساس موضوع ہے۔ اکنامکس  کی رو سے کرنسی محض تبادلہ کا ایک ذریعہ ہے چاہے وہ پیپر نوٹ ہو یا سکہ یا کوئی کارڈ۔ اکنامکس کی رو سے دولت کرنسی میں نہیں قوت خرید میں ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر آپ افریقہ کے جنگلوں میں پھنس جاتے ہیں۔ ایک قبیلے  میں پہنچتے ہیں۔کوئی چیز خریدنے کے لیے پاکستانی روپے دیتے ہیں، قبائلی لینے سے انکار کر دیتے ہیں۔ تب روپے کی کوئی ویلیو نہ ہو گی۔ وہ ڈالر بھی نہیں لیتے۔ آپ سونا پیش کرتے ہیں، یہ سونے پر قائل ہو جاتے ہیں، تب سونا دولت ہو گی۔ اگر سونا بھی نہیں لیتے مگر انھیں اس بندوق میں دلچسپی ہے جو آپ نے اپنی حفاظت کے لیے رکھی ہوئی ہے، تب دولت بندوق میں ہو گی اور قوت خرید صرف بندوق میں ہے۔

اگر پیپر کرنسی کو ہی دولت مان لیا جائے جیسا کہ عموماً ہوتا ہے تب انٹرنیشنل اکنامکس یہ دیکھتی ہے کہ آیا ایک کرنسی ریٹ ایک ملک کو دوسرے ممالک کے مقابلے میں مسابقتی برتری دے رہا ہے یا نہیں؟ اسے ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔ فرض کیا ایک ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی قدر ایک سو روپے ہے۔ اگر یہ قدر مزید کم ہو کر 110 ہو جاتی ہے تو اس سے کیا ہو گا؟ ایکسپورٹر کا فائدہ ہے۔ وہ اپنی ایک چیز عالمی مارکیٹ میں بیچ کر پہلے اگر 100 روپے کما رہا تھا تو اب وہ 110 کمائے گا۔ یوں اس کے نفع میں اضافہ ہو گا۔

نفع میں یہ اضافہ اسے مزید پیداوار کی ترغیب دے گا اور ایکسپورٹ کا حجم بڑھے گا۔ روپے کی قدر میں گراوٹ کا امپورٹر کو نقصان ہے۔ اسے عالمی مارکیٹ میں ایک چیز جو پہلے 100 میں مل رہی تھی اب 110 میں ملے گی۔ یوں امپورٹ کی ترغیب کم ہو گی اور امپورٹر مقامی اشیاء خریدنے پر مجبور ہو گا۔ مگر امپورٹ کو کم کرنے کی اس پالیسی کے تین بڑے نقصان ہیں۔ایک یہ کہ مشینری کی امپورٹ بھی رک جاتی ہے کیونکہ وہ مہنگی ہو گی۔ مشینری کی امپورٹ میں کمی کا مطلب طریقہ پیداوار روایتی اور کم جدت پسند ہو گا جس کا ملک کی ایکسپورٹ اور مسابقتی برتری کو نقصان ہے۔

دوسرا یہ کہ باہر سے سرمایہ کار پاکستان نہیں آئیں گے کیونکہ وہ اپنے نفع کو جب اپنی کرنسی میں تبدیل کرائیں گے تو ان کے نفع کی شرح کم ہو جائے گی۔تیسرا یہ کہ امپورٹ میں کمی کا لوگوں کے معیار زندگی پر بھی برا اثر پڑتا ہے کیونکہ انھیں چیزیں مہنگی اور بری کوالٹی کی ملتی ہیں۔ اس کا بزنس کمیونٹی کو بھی نقصان ہے کیونکہ انٹرنیشنل مارکیٹ سے مقابلہ نہ ہونے کے سبب وہ اپنی مسابقتی صلاحیتوں کو ترقی دینے کے بجائے روایت پسندی اور جمود کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔

اب اگرپاکستان کے Cotextمیں بات کی جائے تو پاکستان میں مہنگائی کے ساتھ ڈالر کا بڑا تعلق تیل کی امپورٹ سے ہے۔ جب تیل کی قیمتیں سو ڈالر فی بیرل سے اوپر تھیں تو کرنسی کی ویلیو میں ذرا سی کمی پاکستان میں پیداواری لاگت بڑھا دیتی تھی اس وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔اور پاکستان میں عالمی منڈی میں تیل فی بیرل اضافہ ہورہا ہے جس سے عوام کی زندگی متاثر ہو رہی ہے، ٹرانسپورٹرز نے کرائے بڑھا دیے ہیں، امپورٹ ہونے والی اشیاء تو اپنی جگہ عام استعمال کی چیزیں بھی مہنگی ہوگئی ہیں اور شنید یہ ہے کہ اس سال مہنگائی میں اضافے کی شرح دس فیصد سے زیادہ ہونے کا امکان ہے۔

اب ان حالات میں سوال یہ ہے کہ روپے کو اس کی اصل قیمت پرواپس لانے کے لیے عدلیہ یا فوج کو میدان میں آنا پڑے گا؟۔مسئلے کاایک ہی حل نظر آرہاہے کہ یا تو عدلیہ سوموٹو ایکشن لے یا پھر حکومت سنجیدگی کا دامن تھامے اور اُن عناصر کو تلاش کرے جو یہ کام کرتے ہیں۔ اس مسئلے میں ہمیں امریکا کا عنصر بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ بالکل اُسی طرح جس طرح ترکی میں ڈالر کی قیمت جان بوجھ کر بڑھا دی گئی۔

اب پاکستان کے حوالے سے آئی ایم ایف کے تین سالہ پروگرام میں کچھ ایسی شرائط دانستہ رکھی گئیں، پھر ان پر عمل کرایا گیا جن سے پاکستانی معیشت تباہ ہوئی۔ 15مارچ کو آئی ایم ایف کی جو رپورٹ آئی ہے، اس میں مستقبل کی انتہائی بھیانک تصویر کھینچ دی گئی، ساتھ تجویز کیا گیا ہے کہ سی پیک پر کام سست  کر دیا جائے۔

اس سے لگتا ہے کہ آئی ایم ایف کے پروگرام میں امریکا کا ایجنڈا بھی شامل تھا۔ امریکا اب بھی چاہتا ہے کہ پاکستان جلد از جلد آئی ایم ایف سے رجوع کرے اور بالآخر پاکستان نے کر لیا، پاکستانی معیشت بحران کا شکار ہو تاکہ وہ ’’ڈو مور‘‘ جیسی سیاسی شرائط پوری کرا سکے۔پچھلے دور میں 2014ء میں ہمیں آئی ایم ایف سے قسطیں ملنا شروع ہوئیں، مگر پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ 2015ء، 2016ء اور 2017ء کے دوران پاکستانی برآمدات مسلسل گرتی رہیں،جس کے نتیجے میں معیشت کا مشکلات کا شکار ہونا فطری امر تھا۔ پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تیزی سے بڑھ رہا تھا، اندازہ یہ تھا کہ 2017ء میں یہ خسارہ دس سے بارہ ارب ڈالر تک رہے گا۔

اسٹیٹ بینک اور آئی ایم ایف کی رپورٹ میں چار سے پانچ ارب ڈالر تک خسارے کا اندازہ لگایا گیا تھا، حالانکہ چھ ماہ کے اعدادوشمار کچھ اور منظر کشی کر رہے تھے۔بہرکیف اب لکیر پیٹنے سے عوام کو فائدہ نہیں ملنے والا، اس لیے حکومت کو چاہیے کہ ہر صورت عوام کو ریلیف دیں کیوں کہ اُن کی نئے پاکستان کے حوالے سے خوشیاں ماند پڑ رہی ہیں، ورنہ اتوار کو ہونے والے ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔