جسٹس شوکت ملکی تاریخ میں ہٹائے جانے والے دوسرے جج

میاں عقیل افضل  جمعـء 12 اکتوبر 2018
73 میں لاہورہائی کورٹ کے شیخ شوکت کوجاناپڑا،اکثرجج مستعفی ہوگئے۔ فوٹو : فائل

73 میں لاہورہائی کورٹ کے شیخ شوکت کوجاناپڑا،اکثرجج مستعفی ہوگئے۔ فوٹو : فائل

 اسلام آباد:  اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی سپریم جوڈیشل کونسل کارروائی پر نکالے جانے والے ملکی تاریخ میں دوسرے جج ہیں۔

ایکسپریس نیوز سے بات کرتے ہوئے وکلا نے سپریم جوڈیشل کونسل کے متحرک ہونے کے عمل کو خوش آ ئند قرار دیا ہے۔سینئر وکیل بیرسٹر علی ظفر کہا کہ وکلا ایک عرصہ سے سپریم جوڈیشل کونسل کے متحرک ہونے کامطالبہ کر رہے تھے۔

وائس چیئرمین پاکستان بارکونسل کامران مرتضیٰ نے کہاکہ الزامات صحیح یا غلط کا فیصلہ تو ججز نے کر نا ہوتا ہے تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کیا صرف جسٹس شوکت صدیقی تک محدود تھی یا  دیگر ریفرنسز پر بھی کوئی حتمی کارروائی آ گے بڑھتی ہے۔

سینئر وکیل عارف چوہدری نے کہا کہ یہ تاریخی فیصلہ ہے جس کو ہم بارش کے پہلے قطرے کے طورپر دیکھتے ہیں، توقع ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل دیگر ریفرنسز پر جلد فیصلے کرے گی۔ انہوں نے کہا سپریم جوڈیشل کونسل کے اس فیصلے سے وہ داغ مٹ گیا جو لوگ کہتے تھے کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے فیصلے نہیں ہوتے۔

بی بی سی کے مطابق جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان نے بتایا کہ اگرچہ سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے کے خلاف اپیل نہیں ہو سکتی لیکن وہ اس معاملے کو سپریم کورٹ میں لیکر جائیں گے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اور سپریم کورٹ کے دیگر تین ججزکیخلاف ریفرنس زیر التوا ہیں لیکن انہیں ابھی تک سماعت کیلیے مقرر نہیںکیا گیا۔سپریم جوڈیشل کونسل اسلام آباد ہائیکورٹ کے موجودہ چیف جسٹس انورکاسی کیخلاف سماعت مکمل کرکے فیصلہ بھی محفوظ کرچکی ہے لیکن فیصلہ نہیں سنایا گیا۔

چیف جسٹس انورکاسی اگلے ماہ رٹائر ہو جائیں گے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے عہدے سے ہٹنے کے بعد اگرکوئی باہر سے نہ لایا گیا تو جسٹس اطہر من اللہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے نئے چیف جسٹس ہوں گے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل 1973 میں لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس شیخ شوکت علی کو مس کنڈکٹ کے الزامات ثابت ہونے پر سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر جانا پڑا تھا۔اس عرصے کے دوران بھی بہت سے ججز کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل نے کارروائی شروع کی تو ججزکی اکثریت نے استعفیٰ دے کر کارروائی ختم کرنے کو ترجیح دی ،بہت سے ججز تو شکایت جانے پر ہی مستعفی ہوگئے۔

حالیہ برسوں میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس اقبال حمید الرحمن اور لاہورہائیکورٹ کے جسٹس مظہر اقبال سندھو سمیت کئی جج خود استعفیٰ دینے والوں میں شامل ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔