پاکستان کو گزشتہ تمام قرضوں کی شفاف تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی، آئی ایم ایف

ویب ڈیسک  جمعـء 12 اکتوبر 2018
پاکستان نے آئی ایم ایف سے قرض کے لیے باضابطہ طور پر رجوع کرلیا ہے۔ فوٹو : فائل

پاکستان نے آئی ایم ایف سے قرض کے لیے باضابطہ طور پر رجوع کرلیا ہے۔ فوٹو : فائل

جکارتہ: عالمی مالیاتی فنڈ کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لیگارڈ نے کہا ہے قرضہ منظور کرانے سے قبل پاکستان کو اپنے گزشتہ تمام قرضوں سے متعلق شفاف تفصیلات مہیا کرنا ہوں گی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ (آئی ایم ایف) کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لیگارڈ نے پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی قیادت میں آنے والے وفد سے بات چیت کے دوران کہا ہے کہ نیا قرضہ لینے سے قبل ہر ملک کو گزشتہ برسوں میں لیے گئے اپنے قرضوں کے استعمال سے متعلق شفاف معلومات فراہم کرنا ہوتی ہے۔

کرسٹین لیگارڈ نے مزید کہا کہ پاکستان کو بھی اس مرحلے سے گزرنا ہوگا اور چین سمیت جو بھی قرضے لیے ہیں ان کی تفصیلات بتانا ہو گی اور یہ شرط اس لیے رکھی جاتی ہے تاکہ قرضوں کے استعمال اور ادائیگی میں مکمل شفافیت برقرار رکھی جا سکے۔

عالمی مالیاتی فنڈ کی مینیجنگ ڈائریکٹر کا مزید کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کو قرض دینے سے قبل ملک کے مجموعی قرض اور اُن کی نوعیت کو بھی دیکھا جاتا ہے اور گزشتہ قرضوں کی جانچ پڑتال سے تقابل کر کے دیکھا جاتا ہے کہ آیا قرض لینے کا خواہاں ملک مزید قرض کا بوجھ برداشت کرنے کی سکت رکھتا ہے یا نہیں۔

یہ خبر بھی پڑھیں : پاکستان کو چینی قرضوں کے باعث آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا

کرسٹین لیگارڈ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے یہ کڑے اصول اور ہدایات ہر صارف ملک کے لیے ہیں تاکہ قرضے کا بری طرز حکمرانی، کرپشن، دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کی نذر ہوجانے کا احتمال نہ رہے اور یقین کرلیا جائے کہ یہ قرض عوام کی بہبود اور بحرانی کیفیت سے نکلنے میں ہی استعمال ہوگی۔

واضح رہے پاکستان کی نئی حکومت نے معاشی بحران سے نکلنے کے لیے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی سربراہی میں وفد نے انڈونیشیا میں آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر سے ملاقات میں قرض کے حصول کی باضابطہ درخواست کی تھی۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔