ترکی نے لاپتہ صحافی کے سعودی قونصل خانے میں قتل ہونے کے شواہد حاصل کرلیے

ویب ڈیسک  جمعـء 12 اکتوبر 2018
سعودی صحافی جمال خوشگوی 2 اکتوبر کو سعودی قونصل میں لاپتہ ہوگئے تھے۔ فوٹو : فائل

سعودی صحافی جمال خوشگوی 2 اکتوبر کو سعودی قونصل میں لاپتہ ہوگئے تھے۔ فوٹو : فائل

 انقرہ: ترکی حکام نے چند روز قبل لاپتہ ہونے والے صحافی جمال خشگوی کے سعودی قونصل خانے میں قتل سے متعلق صوتی اور بصری شواہد حاصل کر لیے ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق ترکی کے اعلیٰ تفتیشی حکام نے استنبول کے سعودی قونصل خانے میں شاہ سلمان کے سخت ناقد جلا وطن صحافی جمال خوشگوی کے قتل ہونے کے آڈیو اور ویڈیو شواہد حاصل کرلیے ہیں۔

سی این این کے مطابق یہ تفصیلات ایسے شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتائی ہیں جو خود بھی لاپتہ صحافی کے معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور انہیں ترکی کے اعلیٰ تفتیشی حکام کی جانب سے بریفنگ دی گئی تھی۔ بریفنگ کے دوران وہ صحافی کے قتل کی آڈیو اور ویڈیو شواہد دیکھ کر دنگ رہ گئے۔

یہ خبر بھی پڑھیں : سعودی حکومت صحافی کے زندہ واپس جانے کے شواہد دے

سعودی نژاد جمال خوشگوی سعودی حکمراں کے سخت ناقد سمجھے جاتے ہیں اور شاہی خاندان پر مسلسل تنقید کے باعث انہیں جلا وطن بھی ہونا پڑا تھا۔ وہ واشنگٹن پوسٹ میں باقاعدگی سے کالم لکھتے رہے ہیں اور کچھ ضروری دستاویزات کے حصول کے لیے استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے گئے تھے۔

جمال خوشگوی کے ہمراہ سعودی قونصل خانے جانے والی اُن کی منگیتر نے میڈیا اور پولیس کو 2 اکتوبر کو بتایا تھا کہ دوپہر سے قونصل خانے کے اندر داخل ہونے والے جمال خوشگوی رات گئے واپس نہیں لوٹے جب کہ قونصل خانے کا عملہ ان کی موجودگی کے حوالے سے کوئی تعاون نہیں کر رہا ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں :لاپتہ صحافی سعودی قونصل خانے میں قتل

سعودی صحافی کے لاپتہ ہوجانے پر واشنگٹن پوسٹ نے احتجاجاً اُن کا کالم خالی چھوڑ دیا تھا تاکہ دنیا کو اس معاملے کی حساسیت اور سنگینی کا اندازہ ہو۔ ترکی حکام نے ابتدائی تحقیقات کے بعد ہی صحافی کے قونصل خانے میں قتل ہوجانے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔

اقوام متحدہ سمیت عالمی قوتوں نے لاپتہ صحافی کے ساتھ کسی قسم کے نازیبا سلوک کا ذمہ دار سعودی عرب کو ٹہرایا تھا۔ برطانیہ اور امریکا نے صحافی کے قتل پر سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی دی تھی۔ سعودی عرب کا موقف تھا کہ لاپتہ صحافی کچھ دیر قونصل خانے میں رہنے کے بعد واپس چلے گئے تھے اس لیے منفی پروپیگنڈے سے گریز کیا جائے۔

ترک صدر طیب اردگان نے بھی استنبول کے سعودی خانے سے لاپتہ صحافی کے معاملے پر تعاون کا مطالبہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ صحافی کے گمشدگی کی تحقیقات کی نگرانی خود کر رہا ہوں اور کسی دباؤ میں آئے بغیر اس کو منطقی انجام تک بھی پہنچاؤں گا۔

واضح رہے کہ ویانا کنونشن سے حاصل استثنیٰ کے باعث قونصل خانے میں میزبان ملک سمیت کوئی حکام داخل نہیں ہوسکتا ہے اور نہ ہی قونصل خانے کی تلاشی لی جا سکتی ہے جس کی وجہ سے گمشدہ صحافی کے معاملے میں کوئی مثبت پیشرفت سامنے نہیں آسکی ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔