سی پیک معاہدہ؛ ابہام دور کیے جائیں

ایڈیٹوریل  ہفتہ 13 اکتوبر 2018
سی پیک پاکستان کے ان چند موضوعات میں سے ایک ہے جن پر سیاسی اور عسکری قیادت ایک ہی صفحے پر نظر آتی ہے۔ فوٹو: فائل

سی پیک پاکستان کے ان چند موضوعات میں سے ایک ہے جن پر سیاسی اور عسکری قیادت ایک ہی صفحے پر نظر آتی ہے۔ فوٹو: فائل

پاکستان نے واضح کیا ہے کہ سی پیک معاہدوں پر کوئی نظرثانی نہیں ہو رہی، اس حوالے سے وزیراعظم کے بیان کو درست رپورٹ نہیں کیا گیا۔ جمعرات کو اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ سی پیک میں سعودی عرب کی شمولیت کے حوالے سے ابھی تفصیلات سامنے نہیں آئیں، اس سلسلے میں بات چیت ہوئی ہے تاہم حتمی معاملات ابھی طے پانا باقی ہیں۔

سی پیک منصوبہ بظاہر دو ممالک کے درمیان اقتصادی راہداری ہے لیکن اس کے مستقبل پر نظر ڈالنے سے ایک نئی دنیا جنم لیتی دکھائی دیتی ہے جہاں برصغیر میں معاشی اور اقتصادی توازن پاکستان کی طرف بڑھے گا وہیں بین الاقوامی سطح پر عوامی جمہوریہ چین نئی دنیا کی اقتصادی سپر پاور کے روپ میں نظر آتا ہے۔ اس نئے مستقبل کے پیش منظر میں ایک جانب دنیا کے بیشتر ممالک اس سی پیک سے منسلک ہونے کی خواہش کا اظہار کررہے ہیں تو دوسری جانب کچھ قوتوں کی نظر میں یہ منصوبہ کھٹک رہا ہے۔

دونوں سمت شدت کا مظاہرہ ہے، خصوصاً ہمارے ہمسایہ اور ازلی دشمن بھارت نے اپنی پوری داخلی اور خارجی قوتوں کو اس منصوبے کو ناکام کرنے کے لیے وقف کررکھا ہے۔ ایک جانب اپنے ایجنٹوں کے ذریعے پاکستان کے اندر اس منصوبے کے حوالے سے نفاق اور انتشار کی فضا پیدا کی گئی جس کے بعد عوامی سطح پر منصوبوں پر تحفظات کا اظہار بھی کیا گیا۔

سی پیک کے حوالے سے وقتاً فوقتاً ابھرتے ہوئے تحفظات اور افواہوں کے پیش نظر یہ لازم ہوگیا ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے اس معاملے کا سختی سے نوٹس لیا جائے اور کسی بھی قسم کی افواہ کو پھیلنے سے روکا جائے۔ لیکن اب تک یہی محسوس کیا گیا ہے کہ حکومتی ترجیحات میں سی پیک سے متعلق کسی بھی معلومات کو خفیہ رکھنا اور چند مخصوص معلومات کو عوام کے سامنے لانا، سب سے اوپر نظر آتا ہے۔

سی پیک کے آغاز سے ہی ملک کے مختلف صوبوں اور علاقوں کی جانب سے اس کے روٹ اور دیگر منصوبوں پر تحفظات ظاہر کیے جاچکے ہیں، جن کو ان منصوبوں کی جزوی تفصیلات کی تشہیر اور چینی حکام کے ساتھ مل کر بیک ڈور مذاکرات کے ذریعے دور کیا جاتا رہا ہے۔

سی پیک پاکستان کے ان چند موضوعات میں سے ایک ہے جن پر سیاسی اور عسکری قیادت ایک ہی صفحے پر نظر آتی ہے، حکمران جماعت کے ساتھ ساتھ ملک کی دیگر سیاسی جماعتیں بھی سی پیک کی حمایت کرتی نظر آتی ہیں اور اس حوالے سے مخصوص معلومات میڈیا کے ساتھ شیئر کرنے پر بھی تمام جماعتیں متفق ہیں جس کی ایک بڑی وجہ سی پیک کی بدولت مناسب مقدار میں ترسیلِ زر ہے جس کی کمی ہمیشہ سے پاکستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ رہی ہے۔

منصوبے کی افادیت کے پیش نظر دیگر ممالک کا منصوبے میں شامل ہونے کی خواہش بھی خالی از علت نہیں، جب کہ دیگر ممالک کے شامل ہونے سے منصوبہ مزید وسیع ہوگا، سعودی عرب ابتدا ہی سے پاکستان کا خیرخواہ ملک رہا ہے اور ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔

اگر سعودی عرب کی جانب سے سی پیک میں شمولیت اور معاہدوں پر بات چیت ہورہی ہے تو اس معاملے کو کسی بھی عالمی سیاست کی نذر نہ ہونے دیا جائے بلکہ ملکی مفادات کے تحت فیصلہ لیا جائے، ہر صورت میں عوام کو باخبر رکھنا ضروری ہے تاکہ دشمن طاقتیں حکومت اور عوام کے درمیان ’’کمیونیکیشن گیپ‘‘ سے فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ سی پیک کی صورت میں پاکستان کو جو ’’سنہری موقع‘‘ ملا ہے اسے کسی بھی ابہام یا افواہ کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔