آئی ایم ایف سے معاشی مسیحائی کی امید

ایڈیٹوریل  ہفتہ 13 اکتوبر 2018
جب بھی نئی حکومت قرضے کی درخواست کرے گی تو اسے سخت شرائط کے ساتھ مالی معاونت کی پیش کش کی جاسکتی ہے۔ فوٹو: سوشل میڈیا

جب بھی نئی حکومت قرضے کی درخواست کرے گی تو اسے سخت شرائط کے ساتھ مالی معاونت کی پیش کش کی جاسکتی ہے۔ فوٹو: سوشل میڈیا

پاکستان نے آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے لیے باضابطہ طور پر درخواست کردی ہے تاکہ بعد از خرابی ٔ بسیار اور دیر آید درست آید کے مصداق شاید ملکی معیشت کے استحکام کی کوئی طویل المدتی یا عبوری صورت نکل آئے۔ بہرطور نئی حکومت کے لیے معاشی چیلنجوں میں سب سے بڑا اور اعصاب شکن ٹیسٹ کیس اب آئی ایم ایف کی گراں شرائط کے دریا کو عبور کرنا بھی ہے۔

دوسری طرف عوام بھی مہنگائی کے بے نام طوفان کے لیے تیار رہیں کیونکہ6اکتوبر کو اپنے دورہ پاکستان کے دوران حکومت کے معاشی ماہرین کو خبردار کردیا تھا کہ حکومت کو بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور مزید مہنگائی کرنا ہوگی، عالمی فنڈ نے روپے کی قدر کم، شرح سود زیادہ کرنے، اینٹی منی لانڈرنگ قوانین مزید مستحکم بنانے کی تجاویز بھی دی تھیں، فنڈ کے وفد کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معاشی صورتحال انتہائی خراب ہے، اس کے معاشی بہتری کے اقدامات ناکافی ہیں، یہ غالباً اس بات کا عندیہ تھا کہ جب بھی نئی حکومت قرضے کی درخواست کرے گی تو اسے سخت شرائط کے ساتھ مالی معاونت کی پیش کش کی جاسکتی ہے۔

چنانچہ یہ درخواست وزیر خزانہ اسد عمر نے جمعرات کوگورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ کے ہمراہ انڈونیشیا کے جزیرہ بالی میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاس کے موقع پر آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹین لیگارڈ سے سائیڈ لائن میٹنگ میں کی ہے، جس کی تصدیق کرسٹین لیگارڈ نے بھی کردی ہے۔

یہ بات معاشی مبصرین کے لیے حیران کن بھی تھی کہ اپنے حالیہ تفصیلی دورے میں حکومت اور آئی ایم ایف کے مابین بیل آؤٹ پیکیج پر کوئی حتمی بات کیوں نہیں ہوسکی، معاملات پر میڈیا کو مبہم بیانات سے بہلایا گیا، وزیرخزانہ تاثر یہی دیتے رہے کہ حکومت کو کوئی جلدی نہیں، ملکی معاشی امکانات اور قومی مفاد کے پیش نظر اقدام اٹھایا جائے گا، ادھر الیکٹرانک میڈیا نے وزیراعظم عمران خان کے کنٹینر دور کے جذباتی بیانات نشر کرنے شروع کردیے، جن میں آئی ایم ایف سے قرضہ لینے اور کشکول لے کر دنیا سے بھیک مانگنے کی مجبوری پر عمران نے خودکشی کرنے کو ترجیح دینے کا نعرہ لگایا تھا، لہٰذا ن لیگی رہنماؤں نے ان سے متبادل راستہ یعنی مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا، غرضیکہ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے یا نہ لینے کا معمہ اب بالی ڈائیلاگ میں جاکر حل ہوا ہے۔

ایک نجی ٹی وی سے گفتگو میں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ملکی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے مذاکرات ہونے چاہئیں۔ میڈیا کے مطابق بالی ملاقات کے بعد عالمی مالیاتی وفد عنقریب دوبارہ پاکستان آئے گا تاکہ معاشی گرداب میں پھنسے پاکستان کی مالیاتی مشکلات اور پاکستانی پیسے کی قدر کے بحران اور ڈالر کی اڑان کا کوئی تسلی بخش حل ان ملاقاتوں میں طے پا جائے۔

اس موقع پر غیر معمولی بصیرت، دانشمندی، معاملہ فہمی، سنجیدہ طرز گفتگو اور معقولیت پر مبنی میڈیا ٹاکس کی ضرورت ہے، معاشی معاملات ہنسی مذاق، فقرہ بازی اور طنز و طعنوں سے طے نہیں ہوتے، اس کے لیے حکومت کو اپنے ماہرین معاشیات کی ذہانت، زمینی حقائق کے گہرے ادراک اور عوام کو درپیش مہنگائی، بیروزگاری، بے یقینی اور اضطراب کو دور کرنے کے لیے بھی منظم معاشی روڈمیپ سے عالمی مالیاتی فنڈ کو قائل کرنے کی ضرورت پڑیگی۔

حکومت اس سمت میں سنجیدہ بھی نظر آتی ہے، اسد عمر سے ملاقات کے حوالے سے آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے امداد کے لیے باضابطہ درخواست موصول ہوگئی ہے جس کے بعد اب آئی ایم ایف کا جائزہ وفد آیندہ ہفتوں کے دوران اسلام آباد جائے گا اور آئی ایم ایف کے تعاون سے معاشی پروگرام کے لیے مذاکرات کرے گا۔

وزیر خزانہ نے کثیرالجہتی انوسٹمنٹ گارنٹی ایجنسی اور او ای سی ڈی کے سینئر حکام سے بھی ملاقاتیں کیں۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے ایسا پروگرام لینا چاہتے ہیں جس سے معاشی بحران پر قابو پایا جا سکے، ایسا پروگرام لانا چاہتے ہیں کہ جس کا کمزور طبقے پر کم سے کم اثر پڑے، معاشی بحالی کے لیے ہمارا ہدف صاحب استطاعت لوگ ہیں جب کہ وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف مشن کے ساتھ مذاکرات میں قرضے کے لیے شرائط پر بات چیت ہوگی اور اگر پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف کی شرائط پر اتفاق ہوجاتا ہے تو آئی ایم ایف بورڈ آف ڈائریکٹرز سے پاکستان کے کوٹہ کے حساب سے قرضہ کی فراہمی کی منظوری ہوگی۔

واضح رہے عالمی بینک نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستانی معیشت نازک دور سے گزر رہی ہے اور پاکستان جنوبی ایشیا کا واحد ملک ہے جس کے راستے محدود اور اخراجات بہت زیادہ ہیں۔ پاکستان چڑھتی اور گرتی معیشت کے حصار میں پھنسا ہوا ہے اور اس کی معیشت کی حالت نازک نہیں بہت نازک ہے، ملک کی معاشی صورتحال دو سال تک نازک رہے گی۔

رپورٹ میں کمزور معاشی ترقی اور غربت کو خراب معیشت کی وجوہات قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ لوگوں کوغربت سے نکالنا اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا دشوار ہوگا۔ پاکستان کو ترقی کے لیے خسارے کو پائیدار بنیادوں پر کم کرنے کی ضرورت ہے، شرح نمو میں اضافے کے لیے سرمایہ کاری اور صنعتی پیداوار کو فروغ دینا ہوگا۔

سرمایہ کاری اور صنعتی پیداوار سے بہتر ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ یہی وہ انتباہی اشارے ہیں جن کو پیش نظر رکھتے ہوئے پاکستان اور تاجکستان نے تجارتی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اتفاق رائے جمعرات کو دوشنبے میں ایس سی او کے سربراہان حکومت کی کونسل کے 17ویں اجلاس کے موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور تاجکستان کے وزیراعظم رسول زادہ کے مابین ملاقات کے دوران پایا گیا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق بات چیت کے دوران دو طرفہ معاملات اور علاقائی و بین الاقوامی باہمی دلچسپی کے امور زیر بحث لائے گئے اور تجارتی و سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھانے اور مستحکم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

ادھر سپریم کورٹ میں منرل واٹر کمپنیوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے دلچسپ ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے ساتھ عشق کریں، جس طرح اپنی معشوقہ کے سامنے بن سنور کر جایا جاتا ہے، اسی طرح ملک کو بھی معشوقہ سمجھ کر اس کا خیال رکھیں، جب یہ جذبہ آئے گا تو ملک کے حالات ٹھیک ہو جائیں گے۔ وطن سے محبت کا یہ بلیغ اشارہ ہے۔

یاد رہے رواں مالی سال2018-19 کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) کے دوران پاکستان کا تجارتی خسارہ 1.6 فیصد کمی کے ساتھ آٹھ ارب 81کروڑ ڈالر رہا ہے، البتہ گذشتہ ماہ (ستمبر) کے دوران پاکستان کا تجارتی خسارہ دو ارب ستر کروڑ ڈالر سے زائد رہا ہے، اس ضمن میں پاکستان بیورو آف شماریات (پی بی ایس)کی جانب سے باقاعدہ طور پر اعدادوشمار جاری کردیے گئے ہیں، جن میں بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ملک کے تجارتی خسارے میں 1.6 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

ملکی روپے کی گرتی ہوئی قدر کے تناظر میں یہ خبر دلچسپی کا باعث ہوگی کہ پاکستانی روپیہ جنوبی ایشیا میں سستی ترین کرنسی ہوگئی ہے، اور خطے میں اس کی بے قدری نے دوسرے ایشیائی ملکوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ حکمرانوں اور قوم کے معاشی مسیحاؤں کے لیے اس خبر میں معنی کا ایک جہاں پنہاں ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔