عمران خان شروع ہیں

عبدالقادر حسن  ہفتہ 13 اکتوبر 2018
Abdulqhasan@hotmail.com

[email protected]

روٹی کپڑا اور مکان کا پر فریب نعرہ کئی برسوں تک پاکستانی عوام کے لیے دل فریب رہا اور وہ اس پرفریب نعرے کو حقیقت سمجھ کر اپنے آپ کواس کی آگ میں بھی جھونکتے رہے۔ اسی طرح کا ایک اور خوش کن اور دلفریب نعرہ موجودہ حکمرانوں نے بھی اپنی انتخابی مہم میں بلند کیا تھاجس میں ملک کے بیروزگار نوجوانوں کے لیے ملک میں ایک کروڑ نوکریاں اور بے گھر غریبوں کوچھت فراہم کرنے کے لیے کئی لاکھ گھروں کی تعمیر کی نوید سنائی گئی تھی۔

بھولی بھالی پاکستانی عوام ہمیشہ اپنے سیاسی لیڈروں کے پر فریب نعروں کا شکار رہی ہے اور ان نعروں پر واہ واہ کرتے ہوئے آج یہ وقت آگیا ہے کہ عوام کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں اور روٹی کپڑا مکان کا دلفریب نعرہ لگانے والے بھٹو صاحب تو اس جہان سے بہت پہلے ہی رخصت ہو گئے بعد میں ان کے سیاسی وارثوں نے بھی اس نعرہ کو حتیٰ المقدور کیش کرایا اور حکومتوں کے مزے لوٹے لیکن اپنی نااہلی کے باعث اپنے جماعت کو اپنے آبائی صوبے یعنی سندھ تک محدود کر لیا حالانکہ بھٹو صاحب نے پیپلز پارٹی کی بنیاد لاہور میں رکھی اور لاہور کو پیپلز پارٹی کا لاڑکانہ بھی کہا جاتا رہا ۔

تحریک انصاف کی حکومت کو اقتدار سنبھالتے ہی معیشت کی دگرگوں حالت کے پیش نظرانتہائی مشکلات کا سامنا ہے اور تگڑی اپوزیشن نے ان کی ملک چلانے کی اہلیت کو مشکوک کرنے کی بھی ہر ممکن کوشش جاری رکھی ہوئی ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان ہر ہفتے اپنے وزراء کو اکٹھا کر کے ملکی صورتحال اور اصلاحات کے بارے میں بتا رہے ہیں۔

یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ ان کی ٹیم اتنی باصلاحیت نہیں کہ ملک کی ابتر معاشی صورتحال کو راتوں رات اپنی پالیسیوں سے سہارا دے سکے ان کی ٹیم کے بیشتر ارکان اچھے وقتوں کے کھلاڑی ہیں یعنی وہ ایک بہتر معیشت کے ساتھ حکومت کو مزید آگے تو لے جا سکتے ہیں لیکن  ملک کی بگڑی معیشت کو سنبھالنے کے لیے ان کی اہلیت کا امتحان جاری ہے اور قوم دیکھ رہی ہے کہ وہ اس میں کیسے اور کب تک کامیاب ہوتے اور رہتے ہیں۔

عمران خان نے اپنے پہلے سو دنوں کے ایجنڈے پر کام جاری رکھا ہوا ہے اور غریب عوام کے لیے انھوں نے پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کا اعلان کر دیا ہے اس سے پہلے ان کے پیشرو حکمران شہبازشریف پہلے ہی نیب کی حراست میں ہیں اور انھوں نے بھی غریبوں کے لیے آشیانہ اسکیم کا اجراء کیا تھا لیکن مجھے علم نہیں کہ ان کا یہ منصوبہ کہاں تک پہنچا تھا کیونکہ اپنے دس سالہ دور اقتدار میں انھوں نے ہنگامی بنیادوں پر بہت کام کیے مگر شائد اس اہم کام پر ان کی توجہ کچھ کم رہی اور اب وہ نیب کے سوالوں کے جواب دے رہے ہیں، ایسی ہی اسکیم کا اجراء ہمارے وزیر اعظم عمران خان نے کیا ہے ایک بہت بڑا منصوبہ ہے جس کو فی الحال ملک کے چند اضلاع میں شروع کیا جارہا ہے اور رفتہ رفتہ اس کا دائرہ کار بڑھایا جائے گا۔

اپنے پیشرو حکمران شہباز شریف کی آشیانہ سیکم میں گرفتاری کے بعد یقیناً عمران خان نے سوچ سمجھ کر ہی یہ قدم اٹھایا ہو گا یہ اتنا بڑا منصوبہ ہے جس میں شفافیت کو برقرار رکھنا انتہائی مشکل کام ہے کیونکہ اس منصوبہ میں ظاہر ہے کہ ٹھیکیدار کام کریں گے اور ان کی نگرانی پر افسران مامور ہوں گے اس لیے نہایت باریک بینی سے چھان بین کر کے اس قومی نوعیت کے منصوبے کے ٹھیکے دیے جانے چاہئیں تاکہ مستقبل میں کسی بھی فریق کو سبکی کا سامنا نہ کرنا پڑے جس کا شدید اندیشہ ہے۔

عمران خان کی حکومت کی ایک خوبی جو ابھی تک سامنے آئی ہے کہ انھوں نے عوام کو ملکی حالات کے بارے میں باخبر رکھا ہوا ہے اور اس کے لیے حکومت کے مشیروں اور وزیروں کے علاوہ وزیر اعظم خود بہت زیادہ فعال ہیں اور وہ ابھی تک عوام سے براہ راست رابطے کا کوئی موقع نہیں جانے دے رہے ۔ ان کا یہی عمل ان کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرے گا ۔

ماضی کے حکمرانوں اور عمران خان سے بار بار یہی عرض کیا ہے کہ وہ قوم کو اپنے ارادوں اور منصوبوں سے آگاہ رکھیں ان کو اپنے ساتھ حکومت میں شریک کریں تاکہ ان کو احساس ہو کہ ان کی اپنی حکومت ان کے لیے کیا کام کر رہی ہے اور یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب حکومت کی جانب سے عوام کو مسلسل آگاہی دی جائے اور ابھی تک تحریک انصاف کی حکومت اس سلسلے میں کامیاب بھی جا رہی ہے ۔

نوجوان وزیر اطلاعات فواد چوہدری اپنے سیاسی مخالفین پر وار کرنے سے بالکل بھی نہیں چوک رہے اور وہ کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے جس میں اپوزیشن پر سخت تنقید نہ کر لیں حالانکہ ا گر دیکھا جائے تو ایک طویل مدت کے بعد موجودہ اپوزیشن اس پوزیشن میں آئی ہے کہ وہ حکومت کے بجائے اپوزیشن کا کردار نبھا رہی ہے اور تحریک انصاف ایک طویل سیاسی جنگ کے بعد پہلی مرتبہ اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہے یعنی ایک کے زخم اگر تازہ ہیں تو دوسری کا نشہ ابھی دو آتشہ ہے اس لیے دونوں پارٹیوں کو صبر سے اپنی اپنی پوزیشن کو دیکھتے ہوئے ایک دوسرے پر تنقید سے درگزر کرنا چاہیے اور ویسے بھی حکومت کا کردار تو گھر کے ایک بڑے کا ہوتا ہے اس کو سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے، شروع میں ہی سیاسی مشکلات سے بچتے ہوئے اپنا پورا زور ملک کی معاشی ترقی پرلگا دینا حکومت کی کامیابی ہے ۔

ہم پاکستانی بڑی بھلکڑ قوم ہیں یعنی ہم اپنے ماضی قریب کو بھی بہت جلد بھول جاتے ہیں ۔ عمران خان قوم کو بار بار یاد دہانی کرا رہے ہیں کہ جب قوم بدعنوان قیادت کو برداشت کرتی ہے تو اس کی قیمت بھی قوم کو ہی ادا کرنی پڑتی ہے ۔ اگر میں غلطی پر نہیں ہوں تو جب گزشتہ حکمرانوں نے اقتدار سنبھالا تھا تو ڈالر کی روپے کے مقابلے میں قیمت شائد 90 روپے کے لگ بھگ تھی اور جب حکومت کی میعاد ختم ہوئی تو یہی ڈالر ایک سو پچیس روپے کی بلند سطح پر تھا اور مجھے یہ تو بالکل یاد ہے کہ حکومت کے مشیر مفتاح اسمعیل نے روپے کی قیمت میں کمی کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کمی اگلے چند ماہ کے لیے کافی ہو گی اور چند ماہ کے بعد اس میں مزید کمی کرنی پڑے گی تو وہ چند ماہ اب آچکے ہیں لیکن یہ چند ماہ نئی حکومت کے دور میںآئے ہیں ڈالر کی قیمت یکایک دس روپے کے لگ بھگ بڑھ گئی ہے.

گزشتہ حکومتیں کئی ہزار ارب روپوں کا قرضہ لے کر ملک کی معیشت چلاتی رہیں اب عمران خان کی باری ہے وہ بھی عالمی مالیاتی اداروں کے پاس قرض کے لیے جارہے ہیں لیکن ساتھ ساتھ قوم کو حوصلہ بھی دے رہے ہیں کہ وہ ملک کومشکلات سے نکال لیں گے ۔ عمران خان کو مضبوط فیصلے کرنے پڑیں گے انھی مضبوط فیصلوں سے ملک کی حالت مستحکم ہو گی۔ عوام نعرے سن سن کر تنگ آچکے ہیں اب عملی اقدامات کا وقت ہے اور عملی اقدامات کا آغاز عمران خان نے کر دیا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔