ہائیبرڈ وار کے ہتھکنڈے

اکرام سہگل  ہفتہ 13 اکتوبر 2018

مغرب یا امریکا اور روس کے ہاں ہائیبرڈ وارفیئر کی تعریف مختلف ہے اور آج تک اس کے ہتھیار بھی الگ الگ ہیں۔امریکا اس سلسلے میں زیادہ ’’جدت پسند‘‘ یا ’’تخلیقی‘‘ انداز رکھتا ہے جب کہ روسی روایت پسند ہیں اور روایتی ذرایع پر انحصار کرتے ہیں۔ امریکیوں نے ہائیبرڈ جنگ کی بنیاد استثنائیت کے نظریے پر رکھی جس کے مطابق کمیونزم کے انہدام کے بعد امریکا واحد عالمی طاقت اور پوری دنیا کا داروغہ ہے۔

ہمہ جہت یا ہائیبرڈ جنگ میں امریکیوں کا نمایاں ترین ہتھکنڈا حکومتوں کی تبدیلی ہے، اس کا مقصد ایسے حکمران لانا ہوتا ہے جو عالمی امور میں امریکی بالادستی کے لیے معاون کردار ادا کرسکتے ہوں۔ یہ کیسے ممکن بنایا جاتا ہے؟ اس کے لیے عالمی فورمز اور میڈیا میں حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اجاگر کی جاتی ہیں، حزب اختلاف کے سیاست دانوں کو مالی معاونت دی جاتی ہے، ’’انقلاب‘‘ برپا کرنے کے لیے تربیت اور مالی وسائل فراہم کرکے امریکا کے مددگار اور حکومت کے مخالفین کے ہاتھ مضبوط کیے جاتے ہیں۔

ناپسندیدہ حاکم کو آمر قرار دے کر اس کے خلاف بین الاقوامی افواج اور اقوام متحدہ کی مدد سے جنگ شروع کروائی جاتی ہے، عراق ، لیبیا اور شام اس کی واضح مثالیں ہیں۔ یا پھر امریکا کے حامی حکمرانوں کی تبدیلی کے لیے جدوجہد کرنے والی حزب مخالف کے مقابلے میں حکومت کو بھرپور مدد فراہم کی جاتی ہے، یمن اور بحرین اس کی مثالیں ہیں۔ تیسرا حربہ ایسی خفیہ کارروائیاں ہوتی ہیں جنھیں بنیاد بنا کر کسی ملک پر چڑھائی کردی جاتی ہے، اسامہ بن لادن کی سرگرمیوں کو جواز بنا کر جس طرح افغانستان پر حملہ کیا گیا۔

دوسری جانب روس کو مختلف صورت حال کا سامنا ہے۔ رقبے کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہونے کے باجود اس ملک کو کمیونزم اور سوویت یونین کے خاتمے کے صدمے سے نکلنا تھا۔ اسے ایک ترقی پذیر معیشت اور بالخصوص مشرقی علاقوں کی تباہ حالی کے ساتھ آگے بڑھنا تھا۔  روسی پالیسی کے دو بنیادی نکات ہیں۔ پہلا یہ ہے کہ سوویت یونین میں شامل خطوں کو وہ اپنا ’’دائرۂ اثر‘‘ تصور کرتے ہیں اور وہاں سلامتی کو درپیش کسی بھی خطرے کو رفع کرنے کے لیے مداخلت کی کوشش کرتے ہیں۔

دوسرا بنیادی نکتہ ہے کہ اپنے وسیع و عریض رقبے کی وجہ سے بحر ہند حتی کہ اٹلانٹک کے ’’گرم پانی‘‘ روس کی پہنچ سے دور ہیں اس لیے بحر اسود ، بحر شمالی اور بحرالکاہل کی بندرگاہیں اس کے لیے زیادہ اہمیت اختیار کرجاتی ہیں۔ مزید یہ کہ بحیرہ روم میں روسی نیول بیس (خصوصاً شام میں طرطوس کی بندرگاہ) کی حفاظت اس کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ امریکا اور نیٹو کی جانب سے اسی ’’سیکیورٹی بیلٹ‘‘ میں چھیڑ چھاڑ کا بڑی سختی اور شدت کے ساتھ جواب دیا گیا۔

سابق سوویت یونین میں شامل خطوں کو ’’دائرہ اثر‘‘ میں شمار کرنے کی روسی پالیسی یوکرین میں حقیقت ثابت ہوئی،یہ ملک تاریخی طور پر روس سے منسلک ہے۔ 1991 میں یوکرین کی آزادی کے بعد سے نیٹو اور یورپی یونین نے یوکرین اور روس کے مابین روایتی قریبی تعلقات کو کمزور کرنے کے لیے کئی کوششیں کیں اور اسے طاقت ور عالمی تنظیموں کی رکنیت کا لالچ دے کر رجھانے کی بہت کوشش  کی۔

یوکرین کو قابو رکھنے کے لیے روس نے یوکرین کے گیس کے لیے روس پر انحصار کا فائدہ اٹھایا اور رکنیت کے معاہدے پر دستخط سے روکنے کے لیے یانکووچ پر بڑھتے ہوئے قرضوں کے ذریعے دباؤ برقرار رکھا۔ جب روسی دباؤ میں یانکووچ نے یورپی یونین میں شمولیت کے معاہدے پر دستخط سے گریز کیا تو فسادات پھوٹ پڑے اور دارالحکومت کیوس میں نامعلوم مسلح افراد نے منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اس انقلاب کو ’’اورینج ریولوشن‘‘ کا نام دیا گیا۔

یہاں مغرب اور امریکا کی جانب سے ہائیرڈ وار فیئر کے دولت، تربیت اور حزب مخالف کی تشہیر جیسے جدید ہتھکنڈوں اور روس کے روایتی حربوں کے مابین فرق کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ امریکی صدر اوباما نے سی این این کے لیے انٹرویو دیتے ہوئے یوکرین میں حکومت کی تبدیلی کے لیے امریکا کی مداخلت کا اعتراف کیا۔ یانکووچ نے فرار ہوکر روس میں پناہ حاصل کی اور یوکرین میں باغی قوتوں پر مشتمل ایک غیر منتخب شدہ حکومت قائم ہوگئی۔

نئی حکومت نے 21مارچ 2014کو یورپی یونین میں شمولیت کے معاہدے پر دستخط کردیے۔ تاہم پیوٹن کے قدم ڈگمگائے نہیں، اس نے یوکرین کی مثال سے بہت کچھ سیکھا اور کریمیا میں روسی خفیہ اداروں کو جیسے ہی بے چینی کے آثار نظر آنے لگے ، روس نے فوراً پیش قدمی کردی۔ صدر یانکووچ کے روس فرار اور نئی حکومت کی قوم پرستی کی وجہ سے روسی آبادی رکھنے والے علاقوں میں روس کی حمایت میں احتجاج شروع ہوگیا۔ کریمیا روس کے دفاع کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا تھا کیوں کہ بحیرہ اسود میں اس کا بیڑا کریمیا میں تھا ۔

اس لیے مصیبت بڑھنے سے قبل ہی روسی افواج 26 فروری سے 18مارچ کے دوران کریمیا میں داخل ہوگئیں۔ جدید روسی فوج کا نظم و نسق اور مستعدی دیکھ کر دنیا ششدر رہ گئی۔ سائیبر وار ہمہ جہت جنگی حکمت عملی کے ترکش کا ہی ایک اور تیر ہے۔ اس میں آن لائن کنٹرول سسٹم اور نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس میں سائبر حملے اور ان کا دفاع کرنے، مخبری اور فریب دہی کے حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا کی مقبولیت کے باعث اس کی ویب سائٹس پر موجود اکاؤنٹس سے بھاری مقدار میں ڈیٹا جمع کیا جاتا ہے جس کی مدد سے استعمال کنندگان کی شخصی تفصیلات کا حصول اور مخبری ممکن ہوجاتے ہیں۔

موبائل فون اور ایس ایم ایس سے معلومات حاصل کی جاتی ہے، سیاست دان اور حکومتوں کی جاسوسی تو اور بھی آسان ہوگئی ہے۔ ایسے آلات اور سافٹ ویئر تخلیق کیے جاچکے ہیں جو کسی بھی ملک کے مواصلاتی نظام اور انرجی گرڈز کو مفلوج بنا سکتے ہیں۔ 2010میں اسٹکسنیٹ اسی جنگی حربے کی مثال ہے، جس کے ذریعے ایران کے جوہری پروگرام پر موثر انداز میں حملہ کیا گیا۔اس کارروائی سے پہلی مرتبہ دنیا کو معلوم ہوا کہ سائبر ہتھیار صرف دفاع ہی نہیں، حملے کے لیے بھی استعمال ہوسکتے ہیں۔

جدید دور میں معیشت اور جدید انتخابی نظام ہائیبرڈ وار کے اہم ترین محاذ ہیں۔

یہی دیکھیے کہ کس طرح ہمارے بعض اینکر روپے کی قدر کے مسئلے کو گمراہ کن انداز میں پیش کررہے ہیں۔کوئی بھی نہیں چاہے گا کہ ’’ہنڈی‘‘ اور ’’حوالہ‘‘ کا دھندا الیکٹرانک ہو جائے اور ’’منظم جرائم‘‘ کے لیے اس کا استعمال کیا جائے۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ کرنسی کو تباہ کرنے کے لیے ’’منی لانڈرنگ‘‘ کو قانونی بنا دینا انتہائی آسان طریقہ ہے۔

ہائیبرڈ جنگ کے ہتھ کنڈوں کے مقابلے کے لیے علاقائی سیاست میں درپیش خطرات کا جائزہ لے کر ان سے متعلق علاقائی اور عالمی شراکت داروں کو بھی آگاہ کرنا چاہیے۔ ملک کے اندر اس کے لیے عسکری و سویلین اداروں پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ پاکستان میں اس کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

(فاضل کالم نگار و دفاعی اور سیکیورٹی امور کے ماہر کی جانب سے حال ہی میں نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی میں کی گئی گفتگو کے اقتباسات کا تیسرا حصہ )



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔