امریکا کی مدد کے بغیر

ظہیر اختر بیدری  ہفتہ 13 اکتوبر 2018
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

[email protected]

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی حکومت کی حمایت کے بغیر سعودی حکومت دو ہفتے بھی نہیں چل سکتی۔ قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ امریکا سعودی عرب کی حفاظت کرتا ہے اور میں نے سعودی فرمانروا سے ملاقات میں واضح کردیا تھا کہ امریکی حمایت کے بغیر وہ دو یا تین ہفتے سے زیادہ اپنی حکمرانی قائم نہیں رکھ سکتے۔

سعودی حکومت کے قریبی اتحادی سمجھنے جانے والے صدر ٹرمپ نے مزید کہاکہ میں نے شاہ سلمان سے اپنی ملاقات میں مطالبہ کیا ہے کہ امریکی فوج کو سعودی حکومت کی حفاظت کا معاوضہ ادا کیا جانا چاہیے۔ معاوضے کے بغیر یہ خدمات زیادہ عرصہ جاری نہیں رہ سکتی۔ ٹرمپ نے صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سب سے پہلا دورہ سعودی عرب کا کیا تھا۔

سعودی عرب ایک دولت مند ملک ہے ،اس کے پاس تیل کی بے بہا دولت کے بعد ساری دنیا سے حج اور عمرہ ادا کرنے کے لیے آنے والے مسلم زائرین سے اربوں ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قدر دولت مند ملک کیا اپنی حفاظت خود نہیں کرسکتا؟ اس کا جواب ٹرمپ نے دے دیا ہے۔ عرب حکمرانوں کا یہ ایک تقریباً اجتماعی مسئلہ ہے کہ وہ کسی جارحیت کا خود مقابلہ نہیں کرسکتے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر دنیا کے امیر ترین ملک اپنے دفاع سے کیوں معذور ہیں۔ اس حوالے سے یہ سوال فطری طور پر ذہن میں آتا ہے کہ سعودی عرب کو کس طرف سے جارحیت کا خطرہ ہے؟ مشرق وسطیٰ کے عرب ملک سعودی عرب کی مذہبی حیثیت کی وجہ سے کسی جارحانہ کارروائی کا سوچ نہیں سکتے۔ ایک اسرائیل رہ جاتا ہے لیکن اسرائیل سے سعودی عرب کے تعلقات کسی حوالے سے اس قدر کشیدہ نہیں ہیں کہ وہ سعودی عرب کے خلاف جارحانہ کارروائی کرے۔

کہاجاتا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب کے سفارتی تعلقات بھی قائم ہیں۔ اس پس منظر میں صرف ایران ایک ایسا ملک ہے جسے عرب ملک خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ دوسرا ممکنہ خطرہ اندرونی ہے جس میں سعودی حکمرانوں کے وارثین کے علاوہ سعودی عوام کی طرف سے ممکنہ خطرہ ہوسکتا ہے۔

بد قسمتی یہ ہے کہ بیشتر مسلم ملکوں میں جمہوریت نام کی کوئی چیز موجود نہیں، جمہوری ملکوں میں حکمران عوام کے منتخب ہوتے ہیں اس لیے عوام کی طرف سے حکمرانوں کوکوئی خطرہ نہیں ہوتا، مسلم ملکوں کی تاریخ میں جو بغاوتیں ہوتی رہیں وہ حکمرانی کے دعویداروں کی طرف سے ہوتی رہیں آج بھی جن ملکوں میں جمہوریت نہیں ہے اور نسل در نسل خاندانوں کی حکومت کا کلچر رہا ہے، ان ملکوں میں نہ صرف بغاوتیں ہوتی رہیں بلکہ قتل و غارت کا کلچر بھی عام رہا۔ آج جن مسلم ملکوں میں جمہوریت ہے وہ بھی اشرافیہ کی ہے جو ترقی کرکے اب موروثی اور خاندانی حکومتوں میں بدل رہی ہے۔

ہمیں نہیں معلوم کہ ٹرمپ جب اپنے عوام سے خطاب کررہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے کہ امریکا کی مدد کے بغیر سعودی حکومت دو ہفتے بھی قائم نہیں رہ سکتی تو انھیں شرم محسوس ہوئی تھی یا نہیں اس پر طرۂ یہ کہ ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیاہے کہ انھوں نے سعودی حکمرانوں کو بتادیا ہے کہ اب امریکا اپنی فوجی خدمات یعنی سعودی حکومت کی حفاظت معاوضے کے بغیر نہیں کرے گا ۔

امریکا جیسی دنیا کی سپر پاورکے سربراہ کا یہ کہنا ہے کہ معاوضے کے بغیر اب وہ سعودی حکومت کی حفاظت نہیں کریںگے۔ اس قدر شرمناک موقف ہے کہ ہمیں نہیں معلوم امریکی عوام اور دنیا کے جمہوری ملک ٹرمپ کی اس دھمکی کو امریکی جمہوریت کی شان سمجھتے ہیں یا امریکی جمہوریت پر فاتحہ پڑھ لیتے ہیں۔

ایک شاہی حکومت سے معاوضہ لے کر اس کی حفاظت کرنا کس قسم کی جمہوری قدروں کی نمایندگی ہوسکتی ہے ۔دنیا میں کرائے کی فوج کا استعمال اور رواج رہا ہے لیکن امریکا جیسے جمہوری ملک کا سربراہ جب یہ کہتا ہے کہ اب ہم اپنی فوج کو معاوضے کے بغیر حکومت کی حفاظت کی ذمے داری ادا کرنے نہیں دیںگے تو کیا امریکی عوام اور امریکا کے جمہوریت پسند دانشوروں کے سر ندامت سے نہیں جھک جائیں گے۔

اس حوالے سے ایک جواز یہ پیش کیا جاسکتا ہے کہ دہشت گردوں سے حکومتوں کو خطرہ لاحق ہے اس شک یا امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا لیکن اس حوالے سے خود اپنے ملک کا حوالے دے سکتے ہیں کہ افغانستان اور پاکستان دو ایسے ملک ہیں جنھیں دہشت گردی کا سامنا رہا ہے۔ اس حوالے سے امریکا نے افغانستان پر حملہ کرکے افغانستان کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ اگرچہ افغانستان سے بڑی حد تک امریکی فوجیں واپس چلی گئی ہیں لیکن اب بھی افغانستان میں کچھ امریکی فوجیں موجود ہیں۔

اس کے برخلاف پاکستان زیادہ دہشت گردی کا شکار ملک رہا جہاں 70 ہزار سے زیادہ پاکستانی دہشت گردوں کے ہاتھوں جان بحق ہوئے اور اب بھی دہشت گردی کی وارداتیں ہوتی رہتی ہیں۔ لیکن پاکستان نے نہ امریکا سے فوجی مدد مانگی نہ ملک کی آزادی پر آنچ آنے دی۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ عرب ملکوں میں جمہوریت نہ ہونے کی وجہ سے حکمران طبقات خوفزدہ رہتے ہیں۔ عرب ملک اپنی فوجی ضرورتوں کے مطابق اربوں ڈالر کا اسلحہ مغربی ملکوں سے حاصل کرتے ہیں۔ کیا عرب ملکوں میں ایسے لوگ موجود نہیں جو کم از کم اپنی حکومتوں کو اپنی دفاع کے لیے ہتھیار خود بنانے پر مجبورکریں۔ کیا امریکا اور اس کے اتحادی اس قدر کمزور ہیں کہ دہشت گردی کا خاتمہ نہیں کر پا رہے ہیں۔

پاکستان ایک نسبتاً چھوٹا اور مغربی ملکوں کے مقابلے میں کمزور ملک ہے لیکن اس نے دہشت گردی پر کس طرح کنٹرول حاصل کیا اور امریکی فوجی امداد کیوں حاصل نہیں کی؟ اس سوال پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔