کیمبرج اسکول بنانے کا منصوبہ ناکام، 25 انگلش میڈیم اسکول بنیں گے

صبا ناز  ہفتہ 13 اکتوبر 2018
اسکول کراچی،حیدرآباداوردیگراضلاع میں بنیں گے،پرائیویٹ اساتذہ کوترجیح دینگے،تمام سہولتیں مفت دی جائیں گی،پراجیکٹ ڈائریکٹر۔ فوٹو: فائل

اسکول کراچی،حیدرآباداوردیگراضلاع میں بنیں گے،پرائیویٹ اساتذہ کوترجیح دینگے،تمام سہولتیں مفت دی جائیں گی،پراجیکٹ ڈائریکٹر۔ فوٹو: فائل

 کراچی: سندھ کے سرکاری اسکولوں میں کیمبرج سسٹم متعارف کرانے اور اس ضمن میں کیمبرج اسکول تعمیر کرنے کا منصوبہ شروع ہونے سے پہلے ہی ناکام ہوگیا۔

2014 میں صوبہ سندھ میں تعلیمی معیار بہتر بنانے ، اسے کیمبرج اسکول کے نظام کے تحت چلانے اور سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ کو عالمی سطح کی تعلیم دینے کا منصوبہ کاغذوں سے شروع ہوکر وہیں ختم ہوگیا،3 ارب 50 کروڑ روپے کے اس منصوبے کے تحت کل 25 اسکول تعمیر ہونے ہیں لیکن کیمبرج اسکولوں کا منصوبہ کیمبرج اسکول کی افورڈیبیلیٹی ، اساتذہ، اسٹاف وغیرہ نہ ہونے کے سبب کیمبرج اسکول کے قیام کا منصوبہ روکنا پڑا اور اس منصوبے کی بنیادی ہیئت تبدیل کرکے انگلش میڈیم اسکول کے منصوبہ کے طورپر جاری ہے۔

پروجیکٹ ڈائریکٹر حسین سومرو نے ایکسپریس کو بتایا ہے کہ یہ منصوبہ 2014 میں کیمبرج اسکول سسٹم کے نام سے شروع ہوا لیکن کیمبرج نظام کے مطابق سہولیات ، اساتذہ اور اسٹاف نہ ہونے کے سبب اس منصوبے کو ختم کرنے کے بجائے اس کا نام تبدیل کردیا گیا تھا اور اس کا فیصلہ وزیراعلیٰ سندھ سے اجلاس کے بعد کیا گیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ کل 25 اسکول تعمیر ہونے تھے اور اب تک شہید بینظیر آباد، سکھر، لاڑکانہ، ٹھٹھہ، بدین، سجاول، جامشورو، نوشہروفیروز، سانگھڑ، میر پور، گھوٹکی، میر پور خاص، مٹیاری، ٹنڈو محمد خان اور ٹنڈو الیار میں 15 اسکول تعمیر کیے جاچکے ہیں جبکہ دیگر 10 اسکول حیدر آباد اور کراچی سمیت سندھ کے دیگر اضلاع میں تعمیر کیے جائیں گے۔

حسین سومرو نے مزید کہاکہ ہر ایک یونٹ(اسکول) مختلف اوقات میں شروع ہوا ہے اور اس کا مکمل ہونے کا وقت بھی الگ ہے۔ انھوں نے کہاکہ اس منصوبے میں علیحدہ سے اساتذہ کی تعیناتی کی جائے گی اور پرائیویٹ سیکٹر میں پڑھانے والے اساتذہ کو پہلے ترجیح دی جائے گی اسکول کی سہولیات بتاتے ہوئے انھوں نے کہاکہ تمام عمارتوں کا ڈھانچہ زلزلہ پروف ہے، اسکول بلڈنگ دومنزلہ عمارتوں پر مشتمل ہے جس میں مفت تعلیم، مفت کتابیں، مفت نوٹ بکس، آئی ٹی ، کمپیوٹر اور سائنس لیب کے علاوہ اسکول میں میڈیکل ڈسپنسری بھی ہے۔ اسکول میں17 گریڈ کے ڈاکٹر کی ایس این ای بھی کرائیں گے۔

انھوں نے کہاکہ ہر انگلش میڈیم اسکول کی خاص بات یہ ہوگی کہ اسکول میں 2 اسٹینڈ بائی جنریٹرز اور کھیل کا میدان بھی موجود ہے جس میں ’’ارلی چائیلڈ ہڈ‘‘پروگرام بھی شروع کریں گے۔

ذرائع کے مطابق 2014 میں شروع ہونے والا یہ منصوبہ 2018 میں مکمل ہونا ہے لیکن تاخیر کے باعث اس کی تاریخ میں ایک سال کی توسیع کردی گئی ہے اب یہ پروجیکٹ 2019 میں مکمل ہوگا لیکن باقی تعمیر نہ ہونے والے اسکول میں سے کچھ اسکولوں کا ٹینڈر بھی نہیں ہوا ہے بالخصوص اس منصوبے کے تحت کراچی میں 2 انگلش میڈیم اسکول تعمیر ہونے ہیں لیکن تاحال کراچی میں اسکولوں کے لیے جگہ کا تعین بھی نہیں ہوسکا ہے کیونکہ شہر میں اس پروجیکٹ کے لیے مناسب جگہ ملنا مشکل ہے۔

امکان ہے کہ یہ منصوبہ 2019 کے بجائے 2020 میں مکمل ہوگا، ذرائع کے مطابق جو اسکول مکمل ہوئے انھیں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت رواں سال اپریل میں حوالے کرنا تھا لیکن الیکشن کی وجہ سے ان تیار شدہ اسکولوں کی حوالگی نہیں ہوسکی۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔