سرویلنس نظام خطرے میں پڑ گیا، 2200 کیمروں کی مرمت اور ٹھیکوں کی تجدید نہ ہوسکی

راحیل سلمان  ہفتہ 13 اکتوبر 2018
کیمرے سندھ پولیس کے ماتحت ہیں،نظام بندہونے پرجرائم پیشہ عناصر پرنظررکھنامشکل ہوگا،فوٹیجزکی مددسے کیسزحل ہوتے ہیں۔ فوٹو: فائل

کیمرے سندھ پولیس کے ماتحت ہیں،نظام بندہونے پرجرائم پیشہ عناصر پرنظررکھنامشکل ہوگا،فوٹیجزکی مددسے کیسزحل ہوتے ہیں۔ فوٹو: فائل

 کراچی:  شہر بھر میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کا نظام خطرے میں پڑگیا جب کہ نجی کمپنیوں کے کنٹریکٹ کی کئی ماہ سے تجدید نہ ہوسکی۔

ملک کے معاشی حب کراچی میں بچھے سی سی ٹی وی کیمروں کا جال کسی بھی وقت بند ہوسکتا ہے، سرویلنس کا سسٹم خطرے میں پڑگیا ہے ، شہر بھر میں 2200 کیمرے نصب ہیں جن میں سے 200 ٹریفک پولیس ، ایک ہزار سے زائد کے ایم سی کے ماتحت جبکہ 960 سندھ پولیس کے تحت نصب ہیں۔

تینوں کو آپس میں منسلک کرکے سندھ پولیس کے ماتحت کردیا گیا ہے اور تمام کیمروں کو سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) میں قائم کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سے آپریٹ کیا جاتا ہے تینوں کو الگ الگ نجی کمپنیاں آپریٹ کرتی ہیں کمپنیوں کی کئی ماہ سے کنٹریکٹ کی تجدید نہیں ہوسکی ہے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ کئی بار پولیس حکام کو یاد دہانی کرائی لیکن توجہ نہیں دی گئی، خدشہ ہے کہ کنٹریکٹ میں تجدید نہ ہوئی تو کمپنیاں سرویلنس سسٹم بند کرسکتی ہیں، کئی ماہ سے کنٹریکٹ کی تجدید نہ ہونے کے باوجود کمپنیاں سسٹم چلارہی ہیں جس کی وجہ سے لاکھوں روپے واجب الادا ہوگئے ہیں ۔

سابق آئی جی غلام جمالی کے دور میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بند ہونے کی نوبت آگئی تھی تاہم اے ڈی خواجہ نے اسے دوبارہ منظم کیا تھا اور کمپنیوں کے واجب الادا کروڑوں روپے ادا کیے گئے گزشتہ چند ماہ کے دوران اچانک تعطل آنے لگا موجودہ آئی جی سندھ کلیم امام تمام تر صورتحال سے آگاہ ہیں، سندھ پولیس نے ٹھوس پیش رفت یا کمپنیوں کو یقین دہانی نہ کرائی تو کمپنیاں سرویلنس سسٹم بند کرسکتی ہیں، سرویلنس سسٹم کی بدولت جرائم پیشہ عناصر پر کڑی نگاہ رکھی جاتی ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔