کراچی اسٹاک مارکیٹ میں بد ترین مندی، 38000 کی نفسیاتی حد بھی گر گئی

اسٹاف رپورٹر  ہفتہ 13 اکتوبر 2018
صورتحال سے سرمایہ کاروں کے مزید 1 کھرب 81 ارب 13 کروڑ 61 لاکھ 51 ہزار 760 روپے ڈوب گئے، ماہرین اسٹاک مارکیٹ۔ فوٹو: فائل

صورتحال سے سرمایہ کاروں کے مزید 1 کھرب 81 ارب 13 کروڑ 61 لاکھ 51 ہزار 760 روپے ڈوب گئے، ماہرین اسٹاک مارکیٹ۔ فوٹو: فائل

 کراچی: غیرملکیوں کی جانب سے سرمائے کے انخلا میں شدت کے باعث پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں جمعہ کوبدترین مندی رونما ہوئی جس سے انڈیکس کی 38000 کی نفسیاتی حد بھی گر گئی۔

ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں غیرملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی آف لوڈنگ بڑھتی جارہی ہے جبکہ انویسٹر کی جانب سے ریڈیمشن کالز کی وجہ سے مقامی انسٹیٹیوشنزنے بھی وسیع پیمانے پرحصص فرخت کیے۔ مندی کی شدت ایک موقع  پر 996 پوائنٹس کی مندی تک جاپہنچی تھی تاہم اختتامی لمحات میں نچلی قیمتوں پر خریداری کی وجہ سے مندی کی شدت میں کمی واقع ہوئی۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 880اشاریہ37 پوائنٹس کی کمی سے 37517 اشاریہ93 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 510اشاریہ45پوائنٹس کی کمی سے18256اشاریہ91، کے ایم آئی30 انڈیکس  1852 اشاریہ12 پوائنٹس کی کمی سے 63401اشاریہ69 اور پی ایس ایکس کے ایم آئی انڈیکس 378اشاریہ15 پوائنٹس کی کمی سے 18396اشاریہ01 پر آگیا۔

کاروباری حجم بدھ کی نسبت صفراشاریہ69 فیصدرہا رہا اور مجموعی طورپر13 کروڑ54لاکھ15ہزار20 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار363 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں 60 کے بھاو میں اضافہ 288 کے داموں میں کمی اور15 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں رفحان میظ کے بھاو108روپے بڑھکر7298 روپیاور خیبرٹیکسٹائل کے بھاؤ 19روپے33پیسے بڑھکر405 روپے97پیسے  ہوگئے جبکہ آئسلینڈ ٹیکسٹائل کے بھاو86 روپے94پیسے کی کمی سے1651روپے94 پیسے اورباٹا پاکستان کے بھاو65 روپے22 پیسے کم ہوکر1640 روپے78 پیسے ہوگئے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔