پنجاب کے چڑیا گھروں میں جانوروں کے لئے کھانے کی سپلائی بند ہونے کا خدشہ

آصف محمود  ہفتہ 13 اکتوبر 2018
چڑیا گھروں اور وائلڈلائف پارکس میں گوشت کی سپلائی ٹھیکداروں کے ذریعے ہوتی ہے فوٹو: فائل

چڑیا گھروں اور وائلڈلائف پارکس میں گوشت کی سپلائی ٹھیکداروں کے ذریعے ہوتی ہے فوٹو: فائل

 لاہور: محکمہ جنگلی حیات پنجاب میں ٹھیکداروں کو ادائیگیوں کا مسئلہ حل نہیں ہوسکا ہے جس کی وجہ سے صوبے بھر کے وائلڈ لائف پارکس میں جانوروں کے لئے گوشت اور راشن کی سپلائی بند ہونے کا خدشہ مزید بڑھ گیا ہے۔ 

پنجاب بھر کے چڑیا گھروں اور وائلڈ لائف پارکس میں جانوروں کے لئے گوشت اور راشن کی سپلائی ٹھیکیداروں کے ذریعے کی جاتی ہے لیکن محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل کی پوسٹ خالی ہونے کی وجہ سے ٹھیکداروں کو ادائیگیاں نہیں ہوسکی ہیں۔ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے پاس ادائیگیوں کے لئے فنڈز موجود ہیں لیکن یہ فنڈز ڈی جی کے دستخطوں سے ہی جاری ہوسکتے ہیں، گزشتہ چارماہ سے ٹھیکداروں کو ادائیگیاں نہیں ہوسکیں جس کی وجہ سے انہوں 15 اکتوبر تک کی ڈیڈ لائن دے رکھی ہے۔

صرف لاہور چڑیا گھرمیں جانوروں اور پرندوں کی خوراک اور راشن کی مد میں یومیہ خرچہ تقریبا ڈیڑھ لاکھ روپے ہے، وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے چند روز پہلے سیکرٹری وائلڈ لائف کو خط لکھا گیا تھا کہ فنڈز ریلیز کرنے کے لیے محکمے کے کسی افسر کو عارضی طورپراختیارات دیئے جائیں ، حکام کے مطابق توقع ہے کہ پیرکے روز محکمے کے کسی سینئرافسرکو عارضی اختیارات مل جائیں گے جس کے بعد ٹھیکداروں کو ادائیگیوں کے چیک جاری کردیئے جائیں گے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔