افغانستان میں انتخابی جلسے میں دھماکا، سیکیورٹی اہلکار سمیت 14 افراد ہلاک

ویب ڈیسک  ہفتہ 13 اکتوبر 2018
بارودی مواد ایک موٹر سائیکل میں نصب کیا گیا تھا۔ فوٹو : فائل

بارودی مواد ایک موٹر سائیکل میں نصب کیا گیا تھا۔ فوٹو : فائل

کابل: افغانستان میں انتخابی جلسے کے دوران دھماکے کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

افغان میڈیا کے مطابق افغانستان کے صوبے تخار کے ضلع رستاق میں ہونے والے انتخابی جلسے میں موٹر سائیکل میں نصب بم زوردار دھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 14 افراد ہلاک اور 32 سے زائد شہری زخمی ہوگئے ہیں۔

ریسکیو اداروں نے امدادی کاموں کا آغاز کرتے ہوئے ہلاک و زخمی ہونے والوں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا جہاں 8 افراد کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں 2 سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں جب کہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

افغانستان میں پارلیمانی انتخابات 20 اکتوبر کو ہونے جا رہے ہیں۔ 249 نشستوں کے لیے ڈھائی ہزار سے زائد امیدوار میدان میں ہیں۔ کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت بھی 4 سے زائد بار الیکشن آفس کے باہر خودکش حملے کیے گئے تھے جن میں درجنوں ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ اب تک 8 امیدواروں کو قتل کیا جا چکا ہے۔

انتخابی مہم کے آغاز سے ہی دہشت گردانہ کارروائیوں کا آغاز ہو گیا ہے اور 4 انتخابی جلسوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے جن میں 3 روز قبل ہلمند صوبے میں انتخابی جلسے میں دھماکے سے 8 افراد جب کہ 3 اکتوبر کو ننگرہار کے انتخابی جلسے میں ہونے والے دھماکے میں 14 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔