آئی ایم ایف نے ناقابل قبول شرائط رکھیں تو معاہدہ نہیں کریں گے، وزیر خزانہ

ویب ڈیسک  ہفتہ 13 اکتوبر 2018
چینی قرضوں کی وجہ سے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا امریکی بیان غلط ہے، اسد عمر

چینی قرضوں کی وجہ سے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا امریکی بیان غلط ہے، اسد عمر

 اسلام آباد: وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے ناقابل قبول شرائط رکھیں تو معاہدہ نہیں کریں گے۔

وزیر خزانہ اسد عمر نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی جس میں  ان کے الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا پر پرانے بیانات دکھائے گئے جن میں انہوں نے آئی ایم ایف اور دیگر ذرائع سے بیل آوٹ پیکج کی حمایت کی تھی۔

وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ میں نے کبھی آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کی بات نہیں کی، پاکستان کی مختلف فوجی و سول حکوتوں نے اب تک آئی ایم ایف سے 18 معاہدے کئے، عمران خان نے کسی وقت کہا ضرور ہوگا کہ آئی ایم ایف میں نہیں جائیں گے، مگر اس الیکشن کے تناظر میں انہوں نے کبھی یہ نہیں کہا، مشاورت کے بعد اس کے پاس گئے جس کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں 600 پوائنٹ اضافہ ہوا۔

اسد عمر نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے پہلے دوست ممالک کے پاس گئے، سعودی عرب، چین اور متحدہ عرب امارات نے مدد کے لیے کوئی ناقابل قبول شرائط نہیں رکھیں، آئی ایم ایف نے پیکیج کے لیے قومی سلامتی سمیت اگر کوئی بھی ناقابل قبول شرائط سامنے رکھیں تو معاہدہ نہیں کریں گے، اس نے سی پیک سمیت پاکستان کے ذمے واجب الادا مجموعی قرضوں کی تفصیل مانگی ہے، ہوسکتا ہے اس سے قرض لیے بغیر گزارا ہوجائے مگر مشکل زیادہ ہوگی۔ انہوں  نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کا چینی قرضوں سے کوئی تعلق نہیں، امریکی دفتر خارجہ کا اس حوالے سے بیان سو فیصد غلط ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو چینی قرضوں کے باعث آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا، امریکا

وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کی بنیادی وجہ کرنٹ اکاؤنٹ اور تجارتی خسارہ ہے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے سے تجارتی خسارہ بڑھا، امریکا کی ایران پر پابندیوں کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں، عالمی منڈی میں بے یقینی صورتحال ہے، تیل مہنگا ہونے سے پاکستان کا تجارتی توازن متاثر ہوا اور آگے بھی خطرات نظر آرہے ہیں ، روپے کی قدر میں کمی اسٹیٹ بینک نے کی ہے، دیگر ممالک نے اپنی کرنسی کی قدر میں ہم سے بھی زیادہ کمی کی ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔