جناب چیف جسٹس کی صائب باتیں

ایڈیٹوریل  اتوار 14 اکتوبر 2018
عدلیہ میں موجود خرابیوں کا اعتراف تو محترم چیف جسٹس نے خود ہی کر لیا ہے جو یقینا ان کا بڑا پن ہے۔فوٹو: فائل

عدلیہ میں موجود خرابیوں کا اعتراف تو محترم چیف جسٹس نے خود ہی کر لیا ہے جو یقینا ان کا بڑا پن ہے۔فوٹو: فائل

چیف جسٹس جناب جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ججوں کا احتساب شروع ہو چکا ہے، کام نہ کرنے والے جج ہمارا ٹارگٹ ہیں، اب ان کے خلاف بھی کارروائی ہو گی، انھوں نے یہ آبزرویشن گزشتہ روز ضلعی عدالتوں کی نگرانی کے لیے سپروائزری رولز بنانے کے لیے دائر آئینی درخواست کی سماعت کے دوران دی اور کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل اب بہت فعال ہو چکی ہے، سب ججز کا احتساب ہو گا۔ تاہم انھوں نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ اپنی سپروائزری ذمے داریوں میں ناکام نظر آتی ہے، لوگ چیخ چیخ کر مر رہے ہیں، تڑپ رہے ہیں، بلک رہے ہیں کہ ہمیں انصاف نہیں مل رہا لیکن کسی کو کوئی فکر نہیں، ہائیکورٹس کی نگران کمیٹیاں ان معاملات کو کیوں نہیں دیکھ رہیں۔

محترم چیف جسٹس نے اس موقع پر جج حضرات کی گاڑیوں، بنگلوں، مراعات اور گھریلو ملازمین وغیرہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انھیں ہر قسم کی سہولیات اور مراعات چاہئیں لیکن کام کرنے اور اپنی ذمے داریاں ادا کرنے پر توجہ نہیں، محترم چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ہائیکورٹ اور ٹربیونلز سب پر واضح کر دیں سب کو پورا کام کرنا ہو گا ورنہ ان کے خلاف کارروائی ہو گی۔ دریں اثناء محترم چیف جسٹس جناب میاں ثاقب نثار نے لاہور میں سپریم کورٹ کی سلور جوبلی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا جس نظام کا ڈھانچہ جھوٹ اور بددیانتی پر مبنی ہو وہ کیسے ڈیلیورکرے گا؟

انتظامیہ اپنا کام کرے تو عدلیہ کو مداخلت نہ کرنا پڑے، جج کی ذمے داری انصاف کے مطابق فیصلہ کرنا ہے، آج منشاء بم جیسے لوگ جائیدادوں پر قبضے کر لیتے ہیں، اوورسیز پاکستانی جن سے مددکے لیے ہم جھولی پھیلاتے ہیں ان کے پلاٹوں پر یہاں قبضے ہوتے ہیں، پھر انھیںکہا جاتا ہے کہ سول کورٹ جاؤ اور سالہا سال عدالتوں کے چکر لگاتے رہو، تمام ہائیکورٹس کے چیف جسٹس نچلی سطح پر جائیں، جج مقدمات کی تاریخیں کم کریں۔

محترم چیف جسٹس نے انصاف میں تاخیر کی وجوہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کے نااہل عناصر اور وکلا مل کر سائلین کا استحصال کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں اپنے قوانین اور سسٹم کو اپ ڈیٹ کرنا پڑے گا، فیصلوں میں تاخیر نظامِ انصاف میں ناسورکی صورت اختیارکر چکی ہے۔

محترم چیف جسٹس نے بڑی دردمندی سے سسٹم میں موجود خامیوں کی نشاندہی بھی کی اور جہاں کہیں غلطی یا کوتاہی ہے اسے تسلیم بھی کیا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ پاکستان میں نظام انصاف خامیوں سے بھرا ہوا ہے، ماتحت عدلیہ سے لے کر اعلیٰ عدلیہ تک کے فیصلوں اور تاریخ پر تاریخ کے کلچر کو دیکھا جائے تو سائلین کے مصائب کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔

سچ یہ ہے کہ خرابی ایک جگہ نہیں ہے بلکہ پورے نظام میں موجود ہے۔ پولیس کی تفتیش وانکوائری سے لے کر عدالت تک سائلین کا استحصال ہوتا ہی نظر آتا ہے۔ وکلاء حضرات کے طرزعمل پر غور کیا جائے تو وہاں بھی سوائے مایوسی کے کچھ نظر نہیں آتا۔ محترم چیف جسٹس نے جو کچھ کہا ہے وہ حرف بحرف سچائی ہے لیکن سوال پھر وہی ہے کہ کیا نظام انصاف اپنی روش تبدیل کر لے گا؟

ماضی کے جھروکوں میں جھانکا جائے تو یہی کہنا پڑے گا کہ نظام تبدیل نہیں ہو گا۔ عدالتی نظام کے ساتھ جڑی ہوئی انتظامیہ کے چلن پر غور کریں تو وہاں بھی ظلم ہی ظلم ہے۔ پولیس کا تو ذکر ہی کیا، تفتیش کے دوران ضمنیاں لکھتے وقت ایسے ایسے جھول اور ابہام پیدا کر دیتے ہیں کہ قاتل اور ڈاکو باآسانی بری ہو جاتے ہیں۔

اگر محکمہ مال کی طرف آئیں تو غریب کسان ہمیں عہد جاہلیت کا غلام نظر آئے گا۔ تحصیل دار، قانون گو اور پٹواری جو کچھ کسانوں اور چھوٹے زمینداروں سے کرتے ہیں اسے دیکھ کر انسانیت کا سر جھک جاتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے قرضوں کی نادہندگی کے الزام میں کسانوں اور چھوٹے زمینداروں کو جیل میں بند کر دیا جاتا ہے۔ زمینوں کی خردبرد اسی محکمے کے اہلکاروں اور افسروں کی مہربانی سے ہی ہوتی ہے۔ یہی نہیں اگر آج کل نیب کی پھرتیاں دیکھیں تو جھرجھری آ جائے۔

محکمہ انکم ٹیکس اور ایف بی آر کی پھرتیوں کے باعث آج کل ہر طرف معاشی جمود نظر آتا ہے۔ ایسی صورتحال میں کوئی ملک کیسے ترقی کرے گا، یہ تو موجودہ حکومت کا کوئی بقراط ہی بتا سکتا ہے لیکن غیرجانبداری سے دیکھا جائے تو سارا نظام مفلوج ہو گیا ہے یا کر دیا گیا ہے۔

عدلیہ میں موجود خرابیوں کا اعتراف تو محترم چیف جسٹس نے خود ہی کر لیا ہے جو یقینا ان کا بڑا پن ہے اور اس جرأتمندی اور صاف گوئی پر ان کی جتنی تحسین کی جائے کم ہے لیکن پولیس اور انتظامیہ کے سربراہوں کو بھی اپنی ناکامیوں اور کوتاہیوں کا اعتراف کرنا چاہیے۔ پارلیمنٹیرینز کو بھی اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے کہ وہ قانون ساز اداروں میں بیٹھے ہیں لیکن انھوں نے آئین وقانون میں موجود خامیوں کو دور نہیں کیا۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔