اساتذہ کو ہتھکڑیاں لگانے کا افسوسناک واقعہ

ایڈیٹوریل  اتوار 14 اکتوبر 2018
وکلا کا کہنا تھا کہ مجاہد کامران ہمارے استاد ہیں، جو لوگ پورا ملک لوٹ کر کھا گئے انھیں کوئی نہیں پوچھتا۔ فوٹو: فائل

وکلا کا کہنا تھا کہ مجاہد کامران ہمارے استاد ہیں، جو لوگ پورا ملک لوٹ کر کھا گئے انھیں کوئی نہیں پوچھتا۔ فوٹو: فائل

غیرقانونی بھرتیوں اور بے ضابطگیوں کے الزام میں پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران کو احتساب عدالت نے6 پروفیسرزصاحبان سمیت 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا، تاہم وہ جب نیب عدالت میں پیش کیے گئے تو انھیں ہتھکڑیاں لگی ہوئی تھیں، یہ خبر نہ صرف ملک کی جامعات میں جنگل کی آگ کی طرح پھیلی بلکہ دنیا بھر میں سوشل میڈیا نے اساتذہ کی ناقابل یقین تضحیک اور مادر علمی کے نگہبانوں کی سر عام تذلیل پر شدید رد عمل کا اظہار کیا اور چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے پروفیسرز کو ہتھکڑیاں لگانے کا از خود نوٹس لیا اور ڈی جی نیب کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں طلب کر لیا جب کہ چیئر مین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے اس شرم ناک واقعہ کی انکوائری کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق جمعہ کو لاہور کی احتساب عدالت میں پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی، نیب نے ڈاکٹر مجاہد کامران سمیت 6 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا مگر ہتھکڑیوں کا عقدہ اس وقت کھلا جب اس موقع پر وکلا نے مجاہد کامران کی ہتھکڑی کھولنے کی استدعا کی۔

وکلا کا کہنا تھا کہ مجاہد کامران ہمارے استاد ہیں، جو لوگ پورا ملک لوٹ کر کھا گئے انھیں کوئی نہیں پوچھتا، وکلا نے گرمی اور حبس میں مجاہد کامران کو کٹہرے میں کھڑا کرنے پر بھی احتجاج کیا اور واضح کیا کہ اگر مجاہد کامران اور دیگر اساتذہ کو کچھ ہو گیا تو ذمے دار نیب اور عدالت ہو گی، وکلا کے احتجاج پر مجاہد کامران کو کٹہرے سے نکال دیا گیا، اس درد انگیز واقعہ پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے، قانون کی پاسداری کرنیوالوں کی اخلاقی گراوٹ اور ایڈونچرازم کا اس سے زیادہ دل گرفتہ کرنے والا سانحہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ اساتذہ کو قاتل اور سنگین جرائم میں ملوث مجرموں کی طرح عدالت میں پیش کیا جائے۔

قوم کی کامیابی اور استاد کی عزت کے حوالے سے اشفاق احمد نے اٹلی کے شہر روم کا ایک واقعہ لکھا ہے کہ جب انھیں ٹریفک چالان وقت پر ادا نہ کرنے کے باعث کورٹ جانا پڑا اور جب استفسار پر جج کو علم ہوا کہ وہ استاد ہیں تو نہ صرف کورٹ میں موجود ہر شخص بلکہ جج بھی احتراماً کھڑے ہو گئے، نیب کو تحقیقات کا قانونی حق حاصل ہے مگر انصاف کے اس عالمگیر اصول کو پیش نظر رکھنا اس کے لیے ناگزیر تھا کہ جب تک الزام ثابت نہ ہو ہر ملزم معصوم و بے قصور ہے، تہذیب و اقدار کی علامت جامعات کے اساتذہ کی اس درجہ بے توقیری ملک بھر میں سنجیدہ علمی حلقوں کے لیے کسی صدمہ سے کم نہیں۔

دریں اثنا پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر مجاہد کامران اور دیگر اساتذہ کی گرفتاری پر کئی سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز نے تحفظات کا اظہارکیا ہے۔ وائس چانسلرز کا کہنا صائب تھا کہ اگر کامران مجاہد اور دیگر اساتذہ نے کرپشن کی ہے تو انھیں سزا ملے مگر اس طرح سے ہتھکڑیاں لگا کر ان کا میڈیا ٹرائل نہیں ہونا چاہیے تھا۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔