ضمنی انتخابات سے قبل ایم کیو ایم مزید تقسیم

ایڈیٹوریل  اتوار 14 اکتوبر 2018
کسی بھی بڑی سیاسی جماعت کے حصے بخرے ہونا اور اسی کے ذیلی نام سے نئی پارٹی کی ابتدا سیاست کی دنیا میں نئی بات نہیں۔ فوٹو:فائل

کسی بھی بڑی سیاسی جماعت کے حصے بخرے ہونا اور اسی کے ذیلی نام سے نئی پارٹی کی ابتدا سیاست کی دنیا میں نئی بات نہیں۔ فوٹو:فائل

متحدہ قومی موومنٹ خاص کر کراچی کے سیاسی منظرنامہ میں اپنی ایک منفرد پہچان رکھتی ہے لیکن تین دہائیوں تک کراچی کا اکثریتی عوامی مینڈیٹ رکھنے والی اس پارٹی کو خود اس کے بانی رہنما کی 22 اگست کی باغیانہ تقریر نے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جس کے بعد ایم کیو ایم ’متحدہ‘ نہ رہی بلکہ کئی حصوں میں بٹ گئی۔ اس کے بعد بھی پارٹی ’ایم کیو ایم پاکستان‘ کے نام سے کام کرتی رہی۔

اب حال ہی میں متحدہ قومی موومنٹ کے سینئر ترین رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کا یہ بیان کہ اب وہ ’’ایم کیو ایم نظریاتی‘‘ کے قیام کے لیے کام کرینگے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ ضمنی انتخابات سے قبل ہی ایم کیو ایم مزید حصوں میں تقسیم ہوگئی ہے، جس کے مضر اثرات لامحالہ آج ہونیوالے الیکشن پر پڑینگے۔ یہی وجہ ہے کہ رابطہ کمیٹی کے رکن فیصل سبزواری نے ڈاکٹر فاروق ستار کے پاس جا کر ان کے خدشات دور کرنے کی بات کی ہے۔

واضح رہے کہ اتوار کو این اے 243 اور این اے 247 کے الیکشن ہیں اور یہ دونوں ہی نشستیں گزشتہ عام انتخابات سے قبل ایم کیو ایم کے حصے میں آتی رہی ہیں۔ گزشتہ عام انتخابات میں ایم کیو ایم اور دوسری اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے انتخابات میں دھاندلی اور نشستیں چھینے جانے کے الزامات عائد کیے گئے لیکن حالیہ اندرونِ پارٹی تنازعات بتا رہے ہیں کہ انتخابات کے نتائج پر خود سیاسی جماعت کے رہنمائوں کا طرز عمل منفی اثرات کا حامل ہو گا۔

کسی بھی بڑی سیاسی جماعت کے حصے بخرے ہونا اور اسی کے ذیلی نام سے نئی پارٹی کی ابتدا سیاست کی دنیا میں نئی بات نہیں۔ پاکستان کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں خود کئی ناموں میں بٹ کر اپنا وجود قائم رکھے ہوئے ہیں لیکن سیاست کے دشتِ پرخار میں نصف صدی گزارنے والے سیاستدانوں کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ قبل از انتخابات اندرون پارٹی تنازعہ ووٹرز کو منتشر خیالی کا شکار اور کنفیوژ کر سکتا ہے۔

لازم ہوتا کہ سیاسی قائدین اپنے اختلافات کو انتخابات تک ملتوی کر دیتے۔ بہرحال نئی پارٹی کا قیام ایک جمہوری عمل ہے جس پر تنقید نہیں کی جا سکتی، سوائے اس کے کہ عوامی احساسات کا خیال رکھا جائے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔