محکمہ پولیس میں اصلاحات

صدام طفیل ہاشمی  اتوار 14 اکتوبر 2018

میں واش روم میں ہاتھ دھو رہا تھا کہ باہر سے شور سنائی دیا۔ جلدی سے تولیے سے ہاتھ پونچھتا باہر نکلا تو میرا ماموں زاد بھائی عرفان پولیس یونیفارم میں تیزی سے اندرونی کمرے کی جانب جاتا دکھائی دیا ۔ معاملے کی تہہ تک پہنچنے کا وقت بھی نہ ملا تھا کہ عرفان اتنی ہی تیزی سے واپس آتا دکھائی دیا۔

میرے آواز دینے پر وہ اشارہ کرتا صدر دروازے سے باہر نکل گیا ، میں اس کے پیچھے ہو چلا۔ باہر پولیس کی ایک موبائل کھڑی تھی جس میں تین پولیس اہلکار موجود تھے ۔ عرفان نے ہاتھ میں پکڑے کچھ نوٹ ان کے حوالے کیے اور سختی سے کچھ ہدایت کی۔ موبائل روانہ ہوتے ہی وہ میری جانب آگیا ۔ غصے اور بے بسی کے ملے جلے تاثرات اس کے چہرے سے عیاں تھے۔

’’عرفان آخر ہوا کیا ہے ، صبح ہی صبح مطلع صاف ہونے کے باوجود یہ گرج چمک کے بعد بارش کے امکانات کیوں نظر آرہے ہیں؟‘‘

’’ارے بھائی کیا بتائوں پولیس کا معمولی افسر ہوں اور ڈیوٹی پولیس موبائل پیٹرولنگ کی ہے۔ محکمے سے ضرورت کے مطابق پیٹرول ملتا نہیں توگھر آکر والدہ سے پیسے لے کر اہلکاروں کو قریبی پیٹرول پمپ روانہ کیا ہے ۔ میری اتنی تنخواہ نہیں کہ میں روزانہ اپنی جیب سے موبائل میں پیٹرول ڈلوائوں ۔ تم ہی بتائوکہ گھرکے خرچے پورے ہوتے نہیں سرکاری خرچے کہاں سے پورے کروں؟ والدہ سے پیسے لیے ہیں‘‘ وہ افسردگی سے بولا۔ یہ آج سے چند سال پرانا واقعہ ہے جب میرے ماموں زاد بھائیوں میں سے دو نے بطور اے ایس آئی پولیس فورس جوائن کی۔ ان کے والد یعنی میرے ماموں سمیت ان کے نانا، دادا اور چچا وغیرہ کے علاوہ خاندان میں اور بھی اعلیٰ پولیس افسران کو دیکھ کر یونیفارم زیب تن کرکے جرائم پیشہ عناصرکی سرکوبی کا عزم لیے جب یہ جوان پولیس فورس کا حصہ بنے تو اندازہ ہوا کہ اندرونی حالات ’’ ہیں کوا کب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ ۔‘‘

ماسٹرزکی ڈگریاں رکھنے والے یہ نوجوان معاشرے میں سدھارکی نیت سے پولیس فورس میں بھرتی ہوئے۔ چھوٹے بھائی نے حالات سے کسی قدر سمجھوتا کرلیا لیکن بڑا بھائی عرفان کسی طور اپنے ارادوں سے پیچھے ہٹنے پر تیار نہ تھا۔ نتیجہ یہ کہ خالی جیب کے باعث پولیس موبائل میں پیٹرول ڈلوانے کے لیے بھی فورس کا یہ جوان ماں کی امداد پر چلنے پر مجبور تھا ۔

چند سال پہلے کا یہ واقعہ یوں تازہ ہوا کہ حال ہی میں اپنے پروگرام ’’گرفت‘‘ کی ریکارڈنگ کی غرض سے سجاول کا رخ کیا، جہاں ایس ایس پی مسعود بنگش اپنی فطرت کے مطابق جرائم پیشہ عناصر سے نبرد آزما ہیں۔کراچی وحیدرآباد سے چھننے والی اکثر موٹر سائیکلیں یہاں لاکر فروخت کی جاتی ہیں ۔ پولیس کی کم نفری اور دوردراز علاقے ہونے کے باعث یہاں بغیر نمبر پلیٹ کے موٹرسائیکل کا استعمال عام تھا۔

چوری کی موٹر سائیکل کم پیسوں میں خریدنے والے کو اس بات کا احساس بھی نہ ہوتا تھا کہ اس طرح کی واردات میں اکثرگھرکے واحد کفیل قتل کردیے جاتے ہیں۔ ایس ایس پی مسعود بنگش نے کرائم ریٹ کو زیرو کے قریب پہنچانے کے علاوہ ایسے گروہوں کا خاتمہ کیا ہے ۔حال ہی میں پکڑے جانے والے ان ملزمان کی کوریج سے فراغت کے بعد مسعود بنگش کے دفتر میں چائے پیتے،اچانک ہی ایک پرانا دوست نمودار ہوا۔

سب انسپکٹرکو سامنے پاکر خوشی ہوئی کیونکہ محترم محکمہ پولیس میں ملازمت سے پہلے کے واقف کار ہیں اور ہمارے سابقہ علاقے اسٹیل ٹائون کے رہائشی ہیں ۔ خیر سادہ لباس میں تھے تو پوچھ ہی لیا کہ بھائی کس تھانے کے ایس ایچ او ہو آج کل؟ مسکرا کر محترم گویا ہوئے اور بتایا کہ کام کرنے کی پاداش میں آج کل معطل ہیں ۔ ان کی بپتا سن کے میں سوچ رہا تھا کہ پولیس کا محکمہ انتہائی اہم ہے۔

اس محکمے میں کام کرنے والے سچے پولیس والے آخرکیوں عتاب کا شکار رہتے ہیں۔جب یہ کسی طاقتورگروہ پر ہاتھ ڈالتے ہیں تو ان عناصر کے پیچھے خفیہ ہاتھ متحرک ہوجاتے ہیں۔کام کرنے والا پولیس افسر فوری معطل ہوجاتا ہے ،کیونکہ پولیس میں موجود کالی بھیڑوں کے باعث میڈیا کو بھی ہر وردی پوش کرپٹ ہی نظرآتا ہے۔ میں سوچ رہا تھا کہ ایسی صورت میں کوئی پولیس افسر اپنی ذمے داریوں کو نبھائے یا پھر نوکری بچائے۔

عجب دستور ہے ہمارے معاشرے کا کم تعلیم یافتہ جاگیردار وڈیرے ایوانوں کا حصہ بن جاتے ہیں اور پڑھ لکھ کر معاشرے میں سدھارکی سوچ رکھنے والے افسران ان کے رحم وکرم پر ہوتے ہیں۔الاماشاللہ ہمارے شعبے میں موجود کالی بھیڑیں بھی ان کے ایجنڈوں کو تقویت پہنچا کر تسکین اورکچھ میٹھا و نمکین پاکر ہوائوں میں اڑتی دکھائی دیتی ہیں۔

ایک صحافی ہونے کے ناتے پولیس میں موجودکالی بھیڑوں کو بے نقاب کرتے وقت گزرا ہے پر وہیں میں سمجھتا ہوں کہ جو افسران و اہلکار اچھا کام کرتے ہیں ان کو سراہنا بھی ہماری ذمے داری ہے۔ صحافی کا مقصد غیر جانبداری ہے جس سے آج کل کئی پیرا ٹرو پرز نابلد ہیں ۔کام کرنے کی پاداش میں سزا بھگتنے والے اس ایس ایچ او کی بپتا سن کرمیں بالکل نہ چونکا کیونکہ ایماندار پولیس والوں کے حالات کا میں خود عینی شاہد ہوں ۔ دنیا بھر میں پولیس کے محکمے میں بھرتی کے لیے مربوط نظام موجود ہے۔

ہمارے معاشرے کی طرح کسی سیاستدان ووڈیرے کی سفارش اس محکمے میں بھرتی کے لیے کسی طور قبول نہیں کی جاتی ۔ ہمارے ہاں ایک ایس ایچ اوکوکسی تھانے کے چارج کے لیے لاکھوں روپے کی رقم ادا کرنی پڑتی ہے اور پھر وہ محترم تھانے کا چارج سنبھالتے ہی ادھارچکانے پر مجبور ہوتے ہیں ۔ ایسا افسرکیا خاک عوام کی خدمت کرے گا جو خود اپنے حق کے حصول کی خاطر رشوت دینے پر مجبور ہو۔

دنیا بھر میں پولیس کے محکمے کو ہر طرح کی سہولت میسر ہوتی ہے ۔انھیں معقول مشاہرہ دیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے غلط راستوں کا سہارا نہ لیں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں تو پولیس موبائل کی پیٹرولنگ کے لیے بھی ایماندار افسرکو ادائیگی اپنی جیب سے کرنی پڑتی ہے ۔اچھی نسل کا افسر روتے دھوتے یہ برداشت کرلیتا ہے پر دوسری نسل کا افسر محرومیوں کا بدلہ عوام سے لیتا ہے اور بدنام ہوتا ہے۔

پورا محکمہ کیونکہ شرح خواندگی میں کمی اور غربت کی چکی میں پسے عوام کو بھی اپنا احساس محرومی دورکرنے کی خاطر دوسرے کی پگڑی اچھال کر راحت محسوس ہوتی ہے۔ جہاں آوے کا آوہ بگڑا ہو وہاں ناعاقبت اندیشوں کو پوری دیگ ہی جلی محسوس ہوتی ہے ۔ لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ رشوت دینے والا اور لینے والا دونوں جہنمی ہیں اور پھر دکھ سے بتاتے ہیں کہ ہیلمٹ نہ پہنا تھا تو پولیس اہلکارکو پیسے دے کر جان چھڑائی ہے ۔

وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اس اہلکار نے ان کی خامی سے فائدہ اٹھاتے رشوت لی ہے ۔کیا ہی اچھا ہوکہ دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک کر اپنی کوتاہیوںکو دورکرنے کی کوشش کی جائے۔ ڈرتا وہ ہی ہے جس کا قصورہوتا ہے تو برائے مہربانی اپنی خامیوں کو دورکیجیے اور پھر بھی کوئی پولیس والا تنگ کرے تو خاموشی سے موبائل کیمرے کا موثر استعمال کرتے، اس کی ویڈیوں وائرل کیجیے ۔ پولیس کے محکمے میں ایماندار افسر اس کے خلاف کارروائی بھی کریں گے اور میڈیا والے ویڈیو چلا کر اس کا ستیاناس بھی کریں گے۔کسی پر نکتہ چینی سے پہلے اپنی اصلاح کیجیے،کیونکہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں ۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔