ہجرت

شاہد سردار  اتوار 14 اکتوبر 2018

ہجرت یا نقل مکانی انسانی فطرت اور بعض اوقات ضرورت رہی ہے اور اب تک نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں موجود رہی ہے۔ برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کے نتیجے میں ہونے والی ہجرت ہماری ملکی تاریخ کی سب سے بڑی اور دردناک ہجرت کہی جاسکتی ہے اور اس کے بعد 1971 میں سانحہ مشرقی پاکستان کے رونما ہونے والی ہجرت بھی بڑی لرزہ خیز اور دل دوز ہجرت کہی جاسکتی ہے۔ افغانستان سے ہجرت کرکے پاکستان آنے والے افغان مہاجرین پاکستان کے لیے جن مسائل اور مصائب کا باعث بنے اس سے ہر ذی شعور واقف ہے۔

یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ ہجرت کا عمل اصل میں زندگی کے اعلیٰ و ارفع مقاصد کے لیے اپنی ایک نادیدہ خواہش کو قربان کرنے کا عمل ہے، یہ ایک طرح کی قربانی ہے اور قربانی بہرطور دل گرفتگی کا باعث ہی ہوتی ہے۔ ہجرت انسان ہی نہیں چرند پرند کے مقدروں میں بھی لکھی ہوتی ہے جو انھیں ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتی ہے۔

عام طور پر ہجرت کا سب سے نمایاں اور بنیادی سبب بہتر روزگار کا حصول رہا ہے۔ اچھا کھانا، اچھا ماحول اور اچھی رہائش باعزت اور مستحکم روزگار سے جڑی ہوتی ہے اور یہ ہر انسانی خمیر میں قدرت کی طرف سے ڈالی یا پیدا کی گئی ہے سوائے عقل و خرد سے بیگانہ لوگوں کے۔لیکن ذہنی طور پر اپنی زمین سے جڑے رہنے والے حساس انسان کو اس کوشش میں جس کرب سے گزرنا پڑتا ہے وہ بیان سے باہر ہے۔

بیشتر لوگ عام طور پر اچھی ملازمت ہی کی خاطر اپنا آبائی گھر بار چھوڑ دیتے ہیں لیکن پریشانی اور مصائب ان سے جڑے رہتے ہیں وہ گھر سے بے گھر ہوکر ایک شہر سے دوسرے شہر اور بعض اوقات کشتیاں جلا کر دوسرے ملک ۔ لیکن آدمی آخرکہاں تک اور کتنی مرتبہ ہجرت کرے گا؟ کب تک خانہ بدوش رہے گا؟ وقت گزرنے کے ساتھ ملازمت کا مزاج بھی نہیں رہتا ملکی اور بڑے حد تک سماجی حالات دل گرفتگی کا باعث بن جاتے ہیں لیکن زندگی تو گزارنی ہی پڑتی ہے۔ ہر جگہ کچھ نہ کچھ مسائل تو رہتے ہی ہیں اور پھر مستقبل تو اس ملک میں ہر جگہ ہی مشکوک ہے، جہاں چار پیسے آسانی سے مل جائیں تو دوسری باتیں دیکھ کر دل دکھتا ہے۔

پاکستان کے نامور شاعر افتخار عارف کی ہجرت کے حوالے سے ایک نظم ’’انتباہ‘‘ کے نام سے شعروادب کے ماتھے کا جھومر کہی جا سکتی ہے۔ افتخار عارف ملازمت بالخصوص سرکاری ملازمت کے حوالے سے دیار غیر میں رہے اور جتنا بھی رہے اپنے وطن، اپنے گھر کے لیے تڑپتے اور بے قرار رہے ۔ درجنوں امر شعر ’’ہجرت‘‘ کے حوالے سے کہے اور بالآخر انھیں یہ اعتراف کرکے اپنی سرزمین پر آنا ہی پڑا کہ نقل مکانی یا ہجرت بہت تکلیف دہ ہوتی ہے۔ سلیم رضا کے نام، آواز اور فن کا بھی ایک جہان معتقد رہا ہے۔

ریڈیو، فلم اور ٹی وی پر انھوں نے بہت نام کمایا، انھیں بھی پاکستان سے بہت محبت تھی، لاہور ان کے خوابوں کا شہر تھا لیکن جب دوسری آوازوں نے سماعت کی قدردانی شروع کی تو سلیم رضا کو اہل فن نے فراموش کرنا شروع کردیا آمدنی کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں تھا ۔کینیڈا میں ان کے بھائی نے وہاں آنے کی دعوت دی تو وہ انکار نہ کرسکے اور بچشم نم پاکستان چھوڑ کر کینیڈا چلے گئے اور پھر وہیں کی مٹی میں دفن بھی ہوگئے۔

پاکستان سے جو بھی فنکار، شاعر یا ادیب کینیڈا جاتا تو سلیم رضا ہی کا مہمان ہوتا تھا۔ ان کے پاس وطن عزیز اور اس کے اہم لوگوں کی تصاویر تھیں جنھیں خود بھی بار بار دیکھتے اور دوسرے آنے والے مہمانوں کو بھی دکھا کر پرانے دن یاد کرکے رویا کرتے اور جب بیمار ہوکر بستر مرگ پر پڑے تو لب دم پاکستان جانے کی خواہش ان کے لبوں پر تھی ۔ سلیم رضا نے ایک صحافی کو اپنے دستخط کے ساتھ یہ کہا یا لکھا کہ ’’میں تمہیں اپنی زندگی کے تجربات کا نچوڑ لکھ کر دے رہا ہوں ‘‘ اور آٹو گراف بک پر دستخط کے ساتھ یہ شعر لکھ دیا :

موت ایک لفظ ہے بے معنی سا

جس کو مارا ، حیات نے مارا

مندرجہ بالا سطور یا حوالے سے تحریرکرنے کا واحد مقصد یہ ہے کہ انسان گھر بدلتا ہے، رشتہ بدلتا ہے، شہر بدلتا ہے، ملک بدلتا ہے یا پھر دوست بدلتا ہے لیکن پھر بھی وہ اکثر دکھی اور غیر مطمئن ہی رہتا ہے۔ گو درد اور دوا کا رشتہ قدیم ترین انسانی رشتوں میں سے ایک ہوتا ہے اور مرہم کی تاریخ بھی کم و بیش اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ زخم کی۔ لیکن اپنوں سے چھوٹ جانے یا ان کی جدائی کا زخم وقت کا مرہم بھی کبھی نہیں بھر پاتا۔

اگر ستارے مٹھی میں آ بھی جائیں تو بھی اپنے گھر کے دیے کی روشنی کی اہمیت کبھی کم نہیں ہوتی اور یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ اگر کسی کو اس کے ماحول، اس کی جنم بھومی، اس کی تہذیب اور اس کی مٹی سے جدا کردیا جائے تو پھر یا تو اس کی زبان چلنے لگتی ہے، اسے ڈپریشن ہوجاتا ہے یا پھر اس کی موت ہوجاتی ہے۔

بہرحال ہجرت سوچ سمجھ کر کرنی چاہیے۔ دباؤ، جلدی یا غصے میں کیے گئے فیصلے ویسے بھی کبھی درست ثابت نہیں ہوتے۔ تاہم ہر بڑا دکھ یا صدمہ نئے عزم سے دوبارہ کھڑا ہونے کے اسباب مہیا کرتا اور نقائص کے تجزیے اور ان کی درستگی کا موقع فراہم کرتا ہے۔ بعض فیصلے دل سے کیے جاتے ہیں اور بعض فیصلے دماغ سے۔ یوں تو دونوں کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے لیکن عقل مند اسے سمجھا جاتا ہے جو دماغ کی مانے۔

دراصل ہم دنیا داری میں الجھے لوگ دل کی پکار سنتے ہی نہیں اور جب زیادہ عرصے تک دل کی بات نہ سنی جائے تو وہ بولنا یا کہنا چھوڑ دیتا ہے اور انسان کو اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے اور بڑی اذیت ناک زندگی ہوتی ہے ان لوگوں کی جن کا دل ان کے ہمراہ نہ ہو۔ بہرحال پچھتاوہ چاہے غلط فیصلے کا ہو یا کسی اور چیز کا وقت کی صورت گزر ہی جاتا ہے اگر یہ نہیں گزرتا تو انسان ضرور گزر جاتا ہے۔

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہوسکتی کہ وہ ہجرت بہت تکلیف دہ اور واقعی آگے چل کر جان لیوا ثابت ہوتی ہے جو اپنے کسی پیارے یا پیاروں کو چھوڑ کرکی جائے۔ کیونکہ زمینی فائدے کبھی دلوں کے قرار نہیں بنتے بلکہ دل کا کام تمام کرنے کا سبب بن جاتے ہیں اور ہم خاکی انسانوں کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ سکھ کی پوری ہانڈی ندیدہ بن کر اکیلا ہی کھا جاتا ہے لیکن دکھ کا ایک پیالہ بھی حلق سے نہیں اتارنا چاہتا اور کون نہیں جانتا کہ دکھ انسان کو ہمیشہ اپنی عمر سے آگے دھکیل دیتا ہے۔

کاش مشکل فیصلے کرتے ہوئے ہم اپنے بہی خواہوں کی اچھی بات یا مشورے مان لیں تو ہم اپنے حال، اپنے آج کو دردناک ہونے سے بچا سکتے ہیں ۔ ہجرت کرنے والوں کو مستقبل سے زیادہ ’’حال‘‘ عزیز ہونا چاہیے کہ کل کا کسی کو پتا نہیں کہ کل ہو یا نہ ہو؟



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔