’’نئے پاکستان‘‘ میں عوام کے لیے کیا ہے ؟

عبدالرحمان منگریو  اتوار 14 اکتوبر 2018

1947ء میں پاکستان بنا۔ 1970میں باقی ماندہ پاکستان کو از سر ِ نو بنانے کا عزم کیا گیا ۔ 1973میں اسلامی جمہوریہ پاکستان بنانے کا اعلان پھر 1977میں اسلامی نظام کا حامل پاکستان بنانے کے اقدامات ۔ 1999ء میں روشن و اعتدال پسند پاکستان کی تحریک اور اب ان تمام پاکستانوں کو چھوڑ کر ایک ’’نیا پاکستان‘‘ بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

ان تمام مراحل و اقدامات کو دیکھ کر ہر ذی شعور آدمی کے دماغ میں یہ سوال اُٹھ رہا ہے کہ یہ پاکستان ملک ہے یا سونا جو بن ہی نہیں پارہا ۔ اسے مختلف حکیم بنانے کے لیے کوششیں کرتے رہے ہیں لیکن یہ ہمیشہ سونے کے بجائے کبھی پیتل تو کبھی مٹی تو کبھی راکھ بن کر رہ جاتا ہے ۔ بہرحال یہ تمام حکیم تو شاہانہ طرز ِ زندگی گذارتے رہے ہیں جب کہ اس سونا بنانے کی مہم پر آنیوالے تمام اخراجات بالواسطہ یا بلاواسطہ عوام سے ہی وصول کیے جاتے ہیں لیکن ان حکیموں سے کبھی کوئی قانونی پوچھ گچھ نہیں ہوئی کہ آپ کا فارمولا کیا ہے اور وہ کس قدر کارگر ہے ؟ یا پھر یہ فارمولا کیوں ناکام ہوا۔؟

بڑی بات تو یہ ہے کہ اب تک حتمی پاکستان بن نہیں پایا ہے جب کہ ہر دور کے بنانے والے ہیرو بن کر کبھی لاڑکانہ سے تو کبھی فیصل مسجد سے اور کبھی امریکا و لندن سے تو کبھی سعودی عرب سے آج بھی اس ملک کے عوام پر حکمرانی کررہے ہیں۔ خیر ہمارے یہاں ویسے بھی عوام کا تو مقدر ہی ’’باملاحظہ ، ہوشیار ‘‘ سن کر اور انکم سپورٹ کی بھیک کے لیے قطاریں بنانا یا پھر’ جیوے جیوے‘ ، ’بجاں تیر‘ اور’ تبدیلی‘ کی دھنوں پر ناچنا اور خود پر ایسے حکمران مسلط ہونے پر تالیاں بجانا ہے۔

حکمران عوام کے خادم والی بات تو شاید مغرب و مشرق بعید  کے ممالک میں ہوتی ہوگی یہاں کے حکمران تو گنے کے رس کی مشین کی طرح عوام کو بار بار نچوڑ کر خون کاآخری قطرہ تک نکالنے کا کام کرتے ہیں ۔

گذشتہ برس سے مسلسل تبدیلی کے گانوں نے عوام کو پرانا پاکستان چھوڑ کر ایک بار پھر ’’نیا پاکستان‘‘ بنانے کے لیے کمربستہ کیا۔ بالآخر 25جولائی 2018کو اس نعرے کی خالق جماعت کو ’’نیا پاکستان ‘‘ بنانے کا لائسنس مل گیا ۔ تب سے ان ڈھائی مہینوں میں اس حکومت کی جانب سے سہانے خواب ، بڑے بڑے وعدوں اور انتقامی کارروائی کے ساتھ ساتھ عملی طور پر عوام کے مفادات کے منافی کیے گئے اقدامات اور پالیسیوں کی بناء پر عوام اب سمجھ چکے ہیں کہ اس نئے پاکستان میں ہم کہاں اور کیسے ہوںگے؟

اس نئے پاکستان کے وزیر اعظم کی حیثیت سے عمران خان نے قوم سے خطاب میں ماضی کے حکمرانوں کی طرح گذشتہ حکومتوں کو ملک کی تباہی کا ذمے دار قرار دینے کے ساتھ ساتھ عوام کو وہی سہانے خواب دکھائے جو 71سال سے تعبیر نہیں پاسکے ہیں۔ ملک کی آدھی آبادی کو 2وقت کی روٹی نصیب نہیں ہے ۔ 45فیصد بچوں کو خوراک میسر نہیں ۔ 2کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں ۔ سرکاری اسکولوں و اسپتالوں کی حالت ابتر ہے ۔ عوام کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ۔

ملک کا خزانہ خالی ہے وغیرہ وغیرہ اور ساتھ ہی اپنی پالیسی و اقدامات بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہم ملک کو مدینے جیسی ریاست بنائیں گے ، جہاں میرٹ کا نظا م ہو گا۔ جہاں غریب و پسے ہوئے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام ہوگا۔ لوگوں کو ہیلتھ کارڈ کے ذریعے مفت علاج کی سہولیات دیں گے ۔ ہم ملک میں ایک کروڑ ملازمتیں دیں گے ۔ ہم دنیا سے قرض و امداد والا کشکول توڑ دیں گے وغیرہ وغیرہ ۔

جہاں تک بات ہے ملک میں غذائی قلت کی تو ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی جو دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہے ان کے لیے کوئی فلاحی پیکیج دینے کے بجائے ان پر پٹرول ، بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافے کا بم گرایا گیا ہے حالانکہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی مصنوعات کی قیمتوں میں کمی آئی ہے ۔ دیکھا جائے تو ملک کی نصف آبادی دیہاتوں اور کچی آبادیوں میں کچے گھروں میں رہتی ہے جب کہ ملکی آبادی کی چوتھائی عوام بے گھر ہے۔

تو اگر غریبوں کی حالت کو بہتر کرنا ہے تو دیہی علاقوں میں ماڈل ولیج اسکیم اور کچی آبادیوں کو ریگیولرائیزڈ کرکے سہولیات سے آراستہ کرنا ہی ایک حقیقی قدم ہوتا لیکن 50لاکھ نئے گھر بنانے کا اعلان کیا گیا ہے جس کا نہ کوئی روڈ میپ ہے اور نہ ہی بجٹ کا انتظام، اور تو اور اس اعلان پر سپریم کورٹ نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔ ویسے بھی جب حکومت خود اعلانیہ کہہ رہی ہے کہ ملک کو چلانے کے لیے ملکی مالیاتی ذخائر صرف 46دنوں کے رہ گئے ہیں ایسے میں 50لاکھ نئے گھروں کی تعمیر جیسی میگا اسکیم کا اعلان عوام کو لولی پوپ دینے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

ملک میں تو یہ بھی کانہ پھونسی ہے کہ یہ صرف اپنے سرمایہ کاروں کو آسرا دیا گیا ہے ۔ جب کہ حکومت کے 100دن کے دیے گئے پروگرام کے نصف سے زیادہ ایام گذر جانے کے بعد بھی کسی ایک بھی اصلاحی قدم پرانتظامی عمل دیکھنے میں نہیں آیا البتہ غربت کا شکار عوام پر مہنگائی کا بم گراکر لوگوں کو معاشی طور پر بدحال کرنے کی حکمت عملی واضح ہوچکی ہے ان دومہینوں میں ہی مہنگائی میں بے تحاشہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔ جس کا اظہار اسٹیٹ بینک نے اپنی دو ماہی رپورٹ میں کیا ہے۔

اس مانیٹری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں مہنگائی میں تیزی شدید تر ہوتی جارہی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس مہنگائی کی شرح 5.8تھی جو کہ نئی پالیسیوں کی بدولت اب 7.5تک پہنچنے کا اندیشہ ہے ۔ اس ’’نئے پاکستان ‘‘میں ایک چیز واقعی نئی ہے اور وہ یہ کہ حکومت کو مہنگائی بڑھاکر عوام کو خوشحال بنانے کا نیا فارمولا ہاتھ لگ گیا ہے ، شاید اسی لیے پٹرول، بجلی ، گیس سمیت ہر چیز مہنگی کی جارہی ہے ۔ کیا غریب کو نچوڑنے کا نام ہی’’ نیا پاکستان‘‘ ہے ۔؟

ایک کروڑ ملازمتوں والی بات بھی ناممکن لگ رہی ہے کیونکہ ملازمتوں کے مواقع نئے ادارے قائم کرنے اور بیرونی سرمایہ کاری بڑھنے سے پیدا ہوتے ہیں مگر جب ملک میں نجکاری کے نام پر ادارے فروخت کیے جارہے ہیں تو ایک کروڑ ملازمتیں کہاں اور کیسے دی جائیں گی ۔؟اور جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ملکی ایکسپورٹ دن بہ دن کم ہوتی جارہی ہو، ملک میں امپورٹ پر کنٹرول کی کوئی پالیسی ہی عمل میں نہ ہو ، جب مینو فیکچرنگ کے بجائے تمام زور کنزیومر معیشت پر دیا جارہا ہو ، جب ملک صرف سرمایہ دار و صنعتی ممالک کے لیے سستے خام مال کا ذریعہ بن کر رہ گیا ہو تو ایسی ابتر معاشی صورتحال میں ملک و ملت کی ترقی و خوشحالی کیسے ممکن ہوسکتی ہے۔؟

رہ گیا کشکول توڑنا تو خیر سے IMFسے7ارب ڈالر قرضہ کی درخواست اور ایشین بینک سے7ارب ڈالر قرضہ کے ساتھ ساتھ سعودی عرب سے قرضوں کے ساتھ ساتھ تیل ادھار اور اوورسیز پاکستانیوں سمیت ملکی عوام سے 2، 2روپے چندے جیسے اقدامات سے کشکول کو وسیع کرکے کسی درگاہ کی دیگ جیسا بنادیا گیا ہے جس میں حسب توفیق ہر کوئی دان کرسکتا ہے۔

حالانکہ دنیا سمیت خود پی ٹی آئی بھی جانتی ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے ملک میں جاری غربت ، جہالت و بدحالی میں مزید اضافہ ہونے کا اندیشہ ہے کیونکہ IMFکے قرضہ جات کی شرائط میں یہ شرط بھی شامل ہوتی ہے کہ تعلیم ، صحت و ترقی کے لیے مختص کردہ GDPکو کم کرکے وہ رقم اس ادارے کو قرضوں کی واپسی کی مد میں ادا کی جاتی ہے۔

دیگر کڑی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ قرضے واپس نہ کرنے کی صورت میں ملک کی کچھ سرکاری کمپنیوں کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سپرد کردیا جائے جسے نجکاری یعنی پرائیوٹائزیشن کا نام دیا جاتا ہے ۔ جس کے تحت سرکاری ادارے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو فروخت کیے جاتے ہیں اور وہ کمپنیاں IMFکو قرضوں کی مد میں ادائیگیاں کرتی ہیں ۔ رپورٹس کے مطابق اداروں کی نجکاری ، بجلی اور گیس پر سبسڈی کے خاتمے کا مطالبہ بھی IMFنے کیا۔

دوسری جانب آئی ایم ایف پروگرام کے اعلان کے بعد ڈالر کی قیمتوں میں ہونے والے بھیانک اضافے سے متعلق اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ ڈالر میں اضافہ اور روپے کی قیمت میں کمی ،کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی وجہ سے ہوئی ہے جب کہ کرنسی ڈیلروں اور اسٹاک ایکسچینج کے معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ روپے کی قیمت میں کمی آئی ایم  ایف کے دباؤ کا نتیجہ ہے کیونکہ یہ IMFکی شرط تھی کہ ڈالر مہنگا اور روپے میں 15فیصد تک کمی کی جائے ۔ڈالرکی راتوں رات بڑھنے والی قیمتوںاورمہنگائی میں اضافے سے اسٹاک ایکسچینج میں مقامی سرمایہ کارں کے اربوں روپے ڈوب گئے ہیں۔

اگر پی ٹی آئی کی ٹیم پر نظر ڈالیں تو نظر آتا ہے کہ اس میں ملک بھر کی تمام پارٹیوں سے بھاگے ہوئے وہ لوگ ہیں جو اب تک روپ و جماعتیں بدل بدل کر ملک پر حکمرانی میں حصہ دار رہتے آئے ہیں ، سب کے سب اس پارٹی میں ایک چھتری تلے جمع ہوگئے اور یوں یہ پارٹی چوچو کا مربہ بن گئی۔ اور اب وہ  پی ٹی آئی کے رہنما قبضہ مافیا کے کارندوں کی صورت میں ظاہر ہورہے ہیں ۔شاید اسی لیے تنظیم سازی سے ناواقف پی ٹی آئی کی حکومت صرف میڈیائی پیروکار طبقے کو ہی متاثر کرسکی ہے لیکن بہت جلد یہ ہوا بھی بدلتی نظر آرہی ہے کیونکہ جب گراؤنڈ پر پالیسیاں فیل ہونے اورمہنگائی سے لوگوں میں بے چینی بڑھے گی تو یہ میڈیائی پیروکار مخالف بن کر سامنے آئیں گے ۔

سب سے مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ نیب و سپریم کورٹ کے لگاتار مصروف ِ عمل رہنے اور ملک میں بینک مانیٹرنگ سے لے کر کمیونیکیشن ٹرانزیکشن کا نظام ہونے کے باوجود وزیر اعظم کی جانب سے کرپشن کے پیسے کی اطلاع دینے پر20فیصد کمیشن جیسی انعامی اسکیم کا اعلان سامنے آیا ہے، جیسے کرپشن کرنے والے اداروں میں کام کرنے والے نہ ہوں بلکہ روپوش و مفرور لوگ ہوں اور ملکی مانیٹرنگ نظام سے چھپے ہوئے ہوں ۔

جہاں تک ٹیکس کی بات ہے تو ملک میںموبائل کنزیومر سے لے کر ادویات کی خریداری تک اور آٹا ، تیل و صابن کی خریداری تک سبھی جگہ ٹیکس لاگو ہے اور تو اور ایک بچہ بھی چپس یا بسکیٹ کے ایک پیکٹ پر ٹیکس ادا کرتا ہے لیکن یہ پیسہ حکومت کے اکاؤنٹ میں نہیں پہنچ پاتابلکہ کمپنیوں کے پاس ہی رہ جاتا ہے۔ جس کی وجہ ابھی تک ہمارے یہاں ٹیکس مانیٹرنگ کا نظام مؤثر و فائدہ مند نہیں ہے ۔

ٹیکس کن چیزوں پر لاگو ہونا چاہیے اور کن چیزوں اور کن لوگوں پر نہیں یہ نہ پرانے پاکستان میں طے ہوسکا اور نہ ہی اب تک اس نئے پاکستان میں طے کیا جارہا ہے۔ پاکستان کا معاشی معاملہ بہت پرانا ہے لیکن نئے پاکستان کے حامیوں کے پاس بھی کوئی نئی حکمت عملی یا نیا فارمولا نظر نہیں آرہا، شاید اسی لیے وہی پرانے پاکستان والی Temporary اقدامات والی حکمت عملی ہی اپنائی گئی ہے ۔

حالتوں کا ادراک رکھنے والے اور ادور اندیش سیاسی و معاشی ماہرین اس 100دن کے پروگرام کی اب تک کی حکومتی کارکردگی کی بنیاد پر ان خدشات کا اظہار کررہے  ہیں کہ حقیقی معنوں میں تبدیلی تو یہ ہوتی کہ ملک کے تمام  اداروں کو پی ای سی آڈٹ کے زمرے میں لایا جاتا ۔ قائد اعظم کے 14نکات کے مطابق صوبوں کو خودمختاری دیتے ہوئے دفاع ، مواصلات اور مالیات کے علاوہ تمام اُمور صوبوں کے حوالے کیے جانے کی طرف پیش قدمی کی جاتی ۔

دنیا کے بہترین ونڈ کوریڈور اور سولر انرجی جیسے متبادل سے توانائی حاصل کرنے کو ترجیح دیکر ملک میں سب کو قابل قبول صرف چھوٹے اسٹوریج ڈیمز کا نظام لایا جاتا ۔ ملک میں موجود تیل کے ذخائر کے قریب ہی آئل ریفائنریز بناکر ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات میں کمی لائی جاتی ۔ او جی ڈی سی ایل اور پی پی ایل او کے الیکٹرک سمیت تمام کمپنیوں کو عوامی فلاحی پروگرام کے ماتحت کیا جاتا ۔

سب سے بڑی بات ملائیشیا کی طرز پر عالمی اداروں کے پاس سرینڈر کرتے ہوئے ہمیشہ کے لیے بیرونی قرضوں سے توبہ کی جاتی ۔جب کہ وزیر اعظم و گورنر ہاؤسز کو عوام کے لیے محدود پکنک پوائنٹس بنانے سے بہتر تھا کہ عوام کو سرکار تک officialرسائی دی جاتی۔

معیشت کی بہتری اور عوام کے ریلیف سے ان اقدامات کا کوئی واسطہ نظر نہیں آتا۔ لیکن تبدیلی کے بلند شگاف نعروں کی حامل عمرانی سرکاراپنی حکومت کے اُمور کو پائیدار ترقی کی بنیادوں کے بجائے پرانے پاکستان کے روایتی و مفلوج طریقوں سے چلانے بلکہ ان میں اضافہ کرتے ہوئے ملک کو چندہ جیسی بھیک و ادھار کے سہاروں پر چلاکر بھی ملکی استحکام کے خواب دیکھ رہی ہے حالانکہ عام عقل کے لوگ بھی اس حکمت عملی کے ناکام ہونے کی پیشن گوئیاں کرتے نظر آرہے ہیں ۔

دیکھا جائے تو  ملک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے کہ ہم گرے لسٹ میں شامل ہیں اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF)کی جائزہ ٹیم پاکستان میں موجود ہے۔ جس میں امریکا ، برطانیہ ، چین، ترکی کے ساتھ ساتھ مالدیپ اور انڈونیشیا جیسے ممالک کے نمائندے بھی شامل ہیں ۔یہ ٹیم مطمئن ہونے پر ہمیں گرے لسٹ سے باہر لانے کا باعث بنے گی اور غیر مطمئن ہونے کی صورت میں ہمارے بلیک لسٹ میں شامل ہونے کی وجہ بھی بن سکتی ہے ۔

اور ’’نئے پاکستان ‘‘کے خواب دیکھنے والوں کے پاس تو ملکی مسائل کے پائیدار حل کے بھی کوئی روڈ میپ یا پلان نہیں ہے ۔ جیسے بلوچستان کے لیے کوئی عملی قدم نہیں وہی پرانے وعدے اور لفاظی نظر آئی ،یہاں تک کہ نئے پاکستان میں سندھ میں 18گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کے مسئلے کا بھی کوئی حل نہیں ۔یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا اور نجی محفلوں میں اب لوگ یہ سوالات کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ : 70سال سے ملک پر راج کرنے والی بیوروکریسی سے متعلق نئے پاکستان کی ٹیم کے پاس کیا حکمت عملی ہے ؟ چندہ اور تیل کی ادھار پر چلنے والی حکومت بھلا کس طرح عوامی مفادات کے فیصلے کرپائے گی ؟ تجزیہ کاروں کی جانب سے یہ سوالات بھی سامنے آرہے ہیں کہ بھوک سے بے حال ملک کی آدھی آبادی کے لیے نئے پاکستان میں کیا ہے ؟ تھر میں مرتی سسکتی زندگی کے لیے نئے پاکستان میں کیا ہے ؟ قلت ِ آب سے تباہ ہونے والی ڈیلٹا کے 30لاکھ متاثرین کے لیے نئے پاکستان میں کیا ہے ؟ آلودہ پانی کے باعث ہیپا ٹائٹس کی لپیٹ میں آئے لوگوں کے لیے نئے پاکستان میں کیا ہے ؟ جعلی ادویات ، گردن توڑ نرخوں کے حامل مہنگے یوریا اور غیر معیاری بیجوں و پانی کی مصنوعی قلت کے باعث تباہ حال کسانوں کے لیے کیا ہے ؟ ہماری خارجہ پالیسی کا حال یہ ہے کہ ہم خطے کے ایک اہم فورم سارک سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔ایسے میں عالمی روابط سے متعلق نئے پاکستان میں کیا ہے ؟اور سیدھا و سادہ سوال یہ ہے کہ اس نئے پاکستان میں غریب عوام کے لیے کیا ہے ؟



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔