نیا گرہ سے مچھلی گھر تک

حمید احمد سیٹھی  اتوار 14 اکتوبر 2018
h.sethi@hotmail.com

[email protected]

گزشتہ ہفتے امریکا کے شہر Detroit سے کینیڈا جانا ہوا تو اٹھارہ سال قبل کینیڈا نہ جا سکے کے دنوں کی یاد آ گئی۔ تب امریکا پہنچنے پر امید تھی کہ بھائی مجھے ملنے آئے گا لیکن اس کا اصرار تھا کہ میں اس کے پاس جائوں چنانچہ میں کینیڈین ویزہ کے لیے ان کی نیویارک ایمبیسی پہنچا۔ ویزہ افیسر نے پاسپورٹ پر انکاری مہر لگا کر کہا اتنا ہی شوق تھا تو اسلام آباد سے ویزہ لے کر آتے۔

پاکستانی کونصل جنرل میرا جاننے والا تھا۔ میں نے اپنی ایمبیسی پہنچ کر اس سے کینیڈین کونصل جنرل کے نام سفارشی خط لیا اور دوسرے دن پھر قطار میں جا لگا اور باری آنے پر وہ سفارشی خط سامنے رکھا۔ ان دنوں فیس کے طور پر پچاس ڈالر کا نوٹ پاسپورٹ میں رکھ کر پیش کیا جاتا تھا۔ خط پڑھ کر ویزہ افسر نے اسے ایک طرف رکھا اور کہا کونصل جنرل نہیں ویزہ افسر میں ہوں پھر مجھ سے پوچھا کیا تم یہ پچاس ڈالر ویزہ فیس بچانا چاہتے ہو؟

میں نے انکار میں سر ہلا کر کہا۔ NO جس پر ویزہ افسر نے انکاری مہر لگا کر پاسپورٹ مجھے واپس کر دیا۔ مجھے پہلے سے معلوم تھا کہ یہ پاکستانی دفتر نہیں ہے کہ سفارشی خط اپنا کام دکھا جائے۔ غصے میں 18 سال تک کینیڈا کا ویزہ Apply نہ کیا اور اب درخواست دی تو بغیر سفارش ویزہ مل گیا۔ اس بار آٹھ سال بعد پاکستان سے امریکا پہنچ کر لینے آئے ہوئے طارق نے ایئرپورٹ ہی پر تازہ ترین خبر سنا دی تھی کہ جس تبدیلی کا ذکر اور انتظار تھا وہ ہمارے ہوائی سفر کے دوران آ چکی ہے۔ یعنی تحریک انصاف نے نواز لیگ کو الیکشن میں شکست دے دی ہے۔

اس انہونی پر حیرت بھی ہوئی تھی اور خوشی بھی۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران بچوں رشتہ داروں اور دوستوں سے ملنے ہیوسٹن ڈیٹرائٹ ایٹلانٹا، نیوجرسی، واشنگٹن وغیرہ کے بعد کینیڈا جانا ہوا تو بہت سے دوسرے عجوبوں کے علاوہ قدرت کا ایک اور کرشمہ نیاگرہ فالز دیکھنے کا موقع ملا، نیاگرہ فالز کا 3160 ٹن پانی ہر ایک سیکنڈ میں 32 فٹ کی بلندی سے گرتا دیکھا جا سکتا ہے جس سے 40 لاکھ کلو واٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ اس کا پانی شمالی امریکا کے دریائوں اور ندیوں سے چلتا ہوا پندرہ گھنٹوں میں نیاگرہ فالز کی شکل میں نظارے کی جگہ گرتا ہے۔

دنیا کی تین سب سے بڑی واٹر فالز میں کینیڈا کی واٹر فال سب سے بڑی جب کہ دوسرے نمبر پر امریکن واٹر فال ہے۔ ہم دوپہر ایک بجے نیاگرہ پہنچے تو پارکنگ ایریا میں کار کھڑی کرنے کی جگہ نہیں مل رہی تھی۔ فالز جو وہاں سے دیکھی جا سکتی تھی کل تین تھیں جس کا نظارہ کرنے والوں کا ہجوم تھا۔

دائیں جانب والی بڑی Fall کا پانی جس تیزی اور بہتات سے گر رہا تھا اسے دیکھ کر اپنے ملک میں خطرناک حد تک پیدا ہونے والی بجلی و پانی کی کمی کی خبروں کو یاد کر کے خدا کے رب العالمین ہونے کا یقین اور اپنے سیاسی و مذہبی ٹھیکیداروں کا خیال آ آ کر دامن پکڑتا رہا۔ یہاں گزشتہ پونے تین ماہ کے قیام کے دوران نہ ایک سیکنڈ کے لیے بجلی کی لوڈشیڈنگ دیکھی نہ پانی کی کمی پائی۔ نیاگرہ فالز سے لطف اٹھانے والے لوگوں میں کالے پیلے برائون گورے تماشائی نہایت منظم طریقے سے قدرت کی صناعی کا نظارہ اور مناظر کو کیمروں میں محفوظ کر رہے تھے۔

بتایا گیا کہ کینیڈا کے شہر Ontario کے علاقے St.Jacobs نامی گائوں میں اب بھی وہاں کے اصل باشندے سو سال قدیمی گھروں میں رہتے، کپڑے پہنتے، سواری استعمال کرتے اور کھانا وغیرہ کھاتے ہیں۔ دو گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد وہاں پہنچے تو دیکھا کہ رستے میں Ontario کا ایک پاپولر میلہ لگا ہے۔ وہاں ہزاروں کاروں کی پارکنگ اور بے شمار لوگوں کا ہجوم دیکھ کر ہم اسی جگہ رک گئے۔

معلوم ہوا کہ یہ کسانوں کی مارکیٹ کہلاتی ہے اور ہفتے میں دودن لگتی ہے۔ ایک بڑی جگہ مارکی کے اندر اور ساتھ وسیع عمارت تھی۔ دونوں جگہوں پر نمائش کی دکانیں، کھانے پینے کے اسٹال، Antique اشیاء کا Display، چائے کافی، مشروب، پھل، سبزیاں، گھروں میں بنی قسم قسم کی چیزیں دیکھ کر ہم اس میلے میں شامل ہو گئے۔ موسیقی کی دھنیں، لوگوں کی چہل پہل نے اس میلے میں ایک ایسی کشش پیدا کر دی تھی کہ ہم نے قدیمی گائوں جانے کا ارادہ ترک کر دیا۔

اسی جگہ فروٹ کی خریداری کی، کھانا کھایا اور اس دور دیس سجے میلے سے لطف اندروز ہوتے رہے۔ واپسی پر وہاں کے مشہور بلند CN Tower پر بذریعہ لفٹ چڑھ کر شہر کا نظارہ کیا۔ ٹاور کے عقب میں کینیڈا کا معروف مچھلی گھر Ripley, Aquarium ہے۔ اس میں داخل ہوں تو پانی میںتیرتی اچھلتی کودتی سیکڑوں اقسام کی ایک پونڈ سے پچاس پونڈ وزنی ہر رنگ کی مچھلیاں دیکھنے کو ملیں۔ انھیں دیکھنے آئے سیاحوں کی بھی متعدد قسمیں تھیں جن کی رنگت تو ظاہر لیکن بولتے وقت زبان ہماری سمجھ سے بالا تھی۔

امریکا اور کینیڈا میں موسم سرما شروع ہونے کو ہے۔ وہاں کے سرسبز درختوں کا رنگ بدل رہا ہے، پہلے سبز پتے پیلے، پھر گلابی پھر سیاہی مائل سرخ ہو کر قدرت کا کرشمہ دکھا رہے ہیں۔ اکتوبر کے آخری دنوں میں ان کے گرنے کا عمل تیز ہو جائے گا۔ دسمبر میں یہ سبز پیلے گلابی سیاہی مائل سرخ پتوں والے درخت بالکل گنجے اور ٹنڈ منڈ ہو جائیں گے اور آئندہ تین ماہ تک دوبارہ سرسبز ہوتے رہیں گے۔ اکتوبر کے مہینے میں پیلے اور گلابی پتوں کے گرتے چلے جانے کا عمل جاری رہے گا اور اس کے ساتھ ہی گرم ممالک سے آئے ہوئے سیاح واپسی کے لیے رخت سفر باندھنا شروع کر دیں گے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔