12اکتوبر 1999ء اور کلثوم نواز

زاہدہ حنا  اتوار 14 اکتوبر 2018
zahedahina@gmail.com

[email protected]

جمہوریت ایک روپہلا سنہرا ست رنگا پرندہ ہے جس کے خواب انسان نے شعور سنبھالنے کے بعد سے دیکھے۔ یونانی ریاستوں میں جمہوریت کا خواب اپنے انداز میں دیکھا گیا۔ جب وہ معروضی حقائق تبدیل ہوگئے تو یونان کی شہری ریاستوں سے اس سیاسی نظام کا خاتمہ بالخیر ہوا۔

گزشتہ ڈھائی ہزار برس سے جمہوری سیاسی نظام دنیا کی مختلف ریاستوں میں سانس لیتا رہا۔ ہمارے یہاں بھی لوگوں نے جمہوریت کے خواب دیکھے ہیں اور اس کی تعبیر چاہی ہے لیکن افسوس کہ ابھی تک سچی جمہوریت ان کے ہاتھ نہ آئی۔ اسے ایک اتفاق کہیے کہ پاکستان میں جب بھی جمہوریت کا سفینہ گرداب میں آیا کسی نہ کسی خاتون رہنما نے اسے بھنور سے نکالنے کی کوشش کی ہے۔

محترمہ فاطمہ جناح، محترمہ نصرت بھٹو، بیگم نسیم ولی خان، بینظیر بھٹو اس کی سامنے کی مثال ہیں۔ یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ 12 اکتوبر 1999ء کو جب پاکستان میں ایک بار پھر جمہوریت معزول کی گئی توکسی کے وہم و گمان میں نہ تھا کہ اس نازک مرحلے پر بیگم کلثوم نواز اچانک سیاست کے میدان میں اتریں گی اور بڑے بڑے سورماؤں کے چھکے چھڑا دیں گی۔

آج یہ بات لوگ کیسے بھول جائیں کہ صرف 2 دن پہلے 12 اکتوبر کا وہ سیاہ دن گزرا ہے جب اب سے 19 برس پہلے جمہوریت پر شب خون مارا گیا تھا اور لوگوں نے اپنے اپنے گھروں میں بیٹھ کر اپنے شیر دل جوانوں کو وزیراعظم ہاؤس کی چاردیواری پھاندتے ہوئے دیکھا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اندر ایک ناٹک چل رہا تھا جس میں بندوق کی نوک پر منتخب وزیراعظم سے استعفیٰ مانگا جا رہا تھا جسے دینے سے وہ انکاری تھا۔ اسے گولی مارنے کی دھمکی دی جا رہی تھی اور اس کا کہنا تھا کہ تم مجھے قتل کر سکتے ہو لیکن میرے استعفے پر دستخط نہیں لے سکتے۔

اس منتخب وزیراعظم کی کس کس طرح توہین نہ کی گئی۔ اسے زنجیروں میں باندھ کر ہوائی جہازوں میں پھرایا گیا۔ اسے قلعوں کے ننگے فرش پر سلایا گیا۔ ایٹمی دھماکے کرکے ملک کے ہاتھ مضبوط کرنے والے کو ’’غدار‘‘ کہا گیا اور جب کسی طرح بس نہ چلا تو اسے خاندان سمیت جلاوطن کر دیا گیا۔ اس جلا وطنی میں بڑا حصہ اس عورت کا تھا جو آستین الٹ کر احتجاجی سیاست کرنے نکلی تو اس کے شوہر کی جوتیاں سیدھی کرنے والے بڑے بڑے طرم خان اپنے گھروں میں بیٹھ چکے تھے اور مسلم لیگ نوازکی سیاست سے غائب ہو گئے تھے ۔

میری ان سے پہلی ملاقات انسداد دہشتگردی کی عدالت میں ہوئی، اس کے بعد ان سے کئی طویل اور تفصیلی ملاقاتیں ہوئیں جن میں ادب، سیاست، ذاتی معاملات اور تاریخی واقعات سب ہی زیرِ بحث آئے۔ ان سے ملاقات نے مجھے اس بات کا اعتراف کرنے پر مجبور کیا کہ وہ ایک ادب دوست، ذہین اور سیاسی فہم رکھنے والی انسان ہیں۔ تاریخ کے بارے میں ان کی معلومات وسیع اور سیاست کے معاملات میں ان کا ذہن واضح تھا۔ میں نے جب ان کے بارے میں اپنی مثبت رائے اور ان کے سیاسی شعورکی داد دی تو بعض حلقوں میں میرا مذاق اڑایا گیا۔

مجھے اکتوبر 2000ء کے وہ دن یاد آرہے ہیں جب وہ اٹک گئی ہوئی تھیں جہاں میاں نواز شریف قید تھے ۔ وہاں انھوں نے صحافیوں سے ایک ایسی بات کہی جو سب ہی کو حیران کرگئی۔ میاں صاحب 1998ء میں ایٹمی دھماکے کرچکے تھے۔ کلثوم نے کہا کہ ایٹمی جنگ کی باتیں کرنے والے 1945ء میں ایٹمی حملوں کا شکار ہونے والے جاپانیوں سے پوچھیں اور اگر اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہوں تو فلم Day After ضرور دیکھیں۔ یہ فلم میری دیکھی ہوئی تھی۔

کراچی میں جب ان سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان کی ہمت کی داد دی۔ وہ سابق وزیراعظم جو مبینہ دہشتگردی کا مقدمہ جھیل رہا تھا اور جس نے 2 برس پہلے ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنا دیا تھا، اس کی شریک حیات کا صحافیوں کو یہ مشورہ بھی شاید غداری کے ہی زمرے میں آتا تھا۔

وہ صرف دو ڈھائی برس عملی سیاست میں رہیں اور اس مختصر مدت میں انھوںنے آمریت کے خلاف اور جمہوریت کی بحالی کے لیے جدوجہد کا ایسا رنگ جمایا کہ لوگ ان کے فدائی ہو گئے۔ گزشتہ چند دنوں پہلے جب ان کا تابوت لندن سے لاہور آیا تو ان کے احترام اور ان کی محبت میں عام لوگوں نے جس طرح آنسو بہائے، آمریت کے خلاف ان کی استقامت اور مزاحمت کو خراج ہے۔

ہمارے ملک کا المیہ یہ رہا ہے کہ فوجی جرنیلوں نے ہر دوسرے چوتھے غلطیاں کیں اور ہر بار ان کی غلطیوں کو معاف کیا گیا۔ ملک دولخت ہوا لیکن اس سے کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔ ہر مرتبہ اس نوعیت کے تباہ کن اقدامات کو جائز اور ناگزیر قرار دیا گیا۔ کسی بھی ملک کا سب سے بڑا المیہ اور سانحہ اس کا ٹوٹ جانا ہوا کرتا ہے۔ یہ سانحہ 1958ء کے مارشل لاء کا منطقی شاخسانہ تھا۔ اگر 1956ء کے آئین کے تحت 1958ء میں ہونے والے انتخابات کا راستہ روک کر سیاسی عمل کے توازن کو درہم برہم نہ کیا جاتا تو آج ہم متحدہ پاکستان کے شہری ہوتے۔

جب ملک ٹوٹنے کا سانحہ رونما ہوا اس وقت ملک پر جنرل یحییٰ خان کا قبضہ تھا۔ 90 ہزار فوجیوں کو ہتھیار ڈالنے کا حکم دینے والے بھی نامی گرامی جرنیل تھے۔ اس سانحے کی تحقیقات کرنے کے لیے حمود الرحمن کمیشن قائم کیا گیا جس نے اپنی رپورٹ مکمل کی اور اس سانحے کے ذمے دار جرنیلوں کا کورٹ مارشل کرنے کی سفارش کی۔ اس وقت فضائیہ کے سابق سربراہ ائیر مارشل اصغر خان نے کہا تھا کہ فوج اپنی غلطیاں تسلیم کرے اور اپنے جسم کے اندر سے فاسد مادے کو صاف کرے۔

سابق ائیر مارشل اصغر خان کا کہنا تھا کہ ’’آپ ہمیشہ جھوٹ پر زندہ نہیں رہ سکتے۔ آپ یہ موقف اختیار کرکے کہ کوئی جرنیل کرپٹ نہیں تھا یا اس نے کبھی کوئی غلطی نہیں کی، اپنی اخلاقی حیثیت کو برقرار نہیں رکھ سکتے۔ آپ کو اپنے اندر صفائی کرنی ہوگی تاکہ آپ کی اخلاقی طاقت برقرار رہے بہ صورت دیگر آپ کی حیثیت ایک کرایے کی فوج کی طرح رہ جائے گی۔‘‘

نور خان نے مطالبہ کیا کہ حمود الرحمن رپورٹ کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے اور ایک غیر جانبدار کمیشن بناکر فوج سے تعلق رکھنے والے تمام ذمے دار افراد کو خواہ وہ زندہ ہوں یا مرچکے ہوں ، سزائیں دی جائیں۔ نور خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نہ صرف 1965ء کی جنگ، اوجڑی کیمپ کی تباہی بلکہ کارگل کی جنگ کو بھی کمیشن کے دائرہ کار میں شامل کیا جائے تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں ۔

ان دنوں ہمارے یہاں اکتوبر 1999ء کے سورما کا پھر بار بار ذکر ہو رہا ہے۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ واپس آجائیں اور مقدمات کا سامنا کریں، ریاست ان کی حفاظت کی ذمے دار ہوگی ۔ ایسے میں یاد آتا ہے کہ 2008ء میں جب ہم اپنے سرفروش کمانڈو کو قصر صدر سے رخصت کر رہے تھے، اس وقت ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اگلے پڑاؤ پر ہماری ملاقات عمرو عیار کے ان دوستوں سے ہو گی جن کے تن بدن پر جمہوریت کی چادر ہو گی اور درحقیقت وہ طلسم ہوشربا کی گلیم عیاری اوڑھے ہوئے ہوں گے ۔

وقت آگیا ہے کہ ہم امیر حمزہ اور طلسم ہوشربا کی داستانیں کھول کر بیٹھیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ راتوں رات سیاست اور عدالت کے منظر نامے کس تیزی سے بدل رہے ہیں۔ جمشید جادو ، صرصر اور لقا جادو آج کس بھیس میں ہیں اور کل کون سا لبادہ اوڑھ کر آئیں گے۔

کلثوم نواز نے زندگی کے آخری دانوں میں شدید اذیتیں جھیلیں، وہ خوش نصیب تھیں کہ انھیں اپنے وطن کی مٹی میں آرام آیا۔ وہ جا چکی ہیں اور پاکستان میں آئین کی بالادستی کی جمہوری جدوجہد کے لیے مریم کو چھوڑ گئی ہیں۔ پاکستانی سیاست میں ایک اور عورت اپنے قدم رکھ رہی ہے۔ ہمیں مریم نواز سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔ وہ اپنی ماں اور اپنے باپ کی تربیت یافتہ ہیں، پاکستانی سیاست کے پیچ و خم جانتی ہیں اور یہ بھی کہ ان کا سامنا سفاک لوگوں سے ہے۔ ان سے امید کی جاتی ہے کہ وہ آنے والے دنوں سے سرخرو گزریں گی۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔