جرمن بینک اہلکار نےغنودگی میں ریٹائرڈ ملازم کے اکاؤنٹ میں 62 کی جگہ 222 ملین یورو منتقل کردیئے

ویب ڈیسک  بدھ 12 جون 2013
بینک انتظامیہ نےغلطی کرنے والے ملازم کو تو کسی قسم کی سزا نہیں دی تاہم اس کی خاتون سپروائزر کو نوکری سے فارغ کردیا گیا فوٹو: فائل

بینک انتظامیہ نےغلطی کرنے والے ملازم کو تو کسی قسم کی سزا نہیں دی تاہم اس کی خاتون سپروائزر کو نوکری سے فارغ کردیا گیا فوٹو: فائل

برلن: لوگ سچ کہتے ہیں نیند تو سولی پر بھی آجاتی ہے  مگر دوران کام نیند کا آنا بہت بھاری بھی پڑ سکتا ہے، ایسا ہی کچھ ہوا جرمنی کے بینک میں جہاں ایک ملازم نے غنودگی کی حالت میں ریٹائرڈ ملازم کے اکاؤنٹ میں معمولی رقم کی جگہ خطیر رقم منتقل کردی۔

واقعہ رواں سال اپریل میں ایک جرمن بینک میں پیش آیا جہاں  کلرک کمپیوٹر پر کام کرتے کرتے غنودگی کی حالت میں چلا گیا اور اسی حالت میں اس نے ایک ریٹائرڈ ملازم کے اکاؤنٹ میں 62 یورو کی جگہ 222 ملین یورو منتقل کردیئے، خوش قسمتی سے اس کے ایک ساتھی نے یہ غلطی پکڑ لی اور اسے فوری درست کرلیا گیا، بینک انتظامیہ نےغلطی کرنے والے ملازم کو تو کسی قسم کی سزا نہیں دی تاہم اس کی خاتون سپروائزر کو نوکری سے فارغ کر دیا گیا۔

خاتون سپروائزر نے بینک انتظامیہ کے فیصلے کے خلاف فوری طورعدالت سے رجوع کیا جس پر عدالت نے اپنے فیصلے میں انتظامیہ کو فوری طور پر خاتون سپروائزر کو نوکری پر بحال کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اگر خاتون ملازم سے غلطی سرزد ہو بھی گئی تو انتظامیہ انہیں تنبیہہ بھی جاری کرسکتی تھی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔