مخصوص ذہنیت

نصرت جاوید  بدھ 12 جون 2013
nusrat.javeed@gmail.com

[email protected]

میں لاہور سے ہوں اور مجھے اس شہر کے باسیوں اور ان کی ثقافتی روایات پر شرمندگی نہیں فخر محسوس ہوتا ہے۔ یہ بات کہنے کے بعد مجھے یہ اعتراف کرنے میں بھی کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ ایک ذہنیت ہے جسے ’’تختِ لہور‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس ذہنیت کو متعارف کروانے اور پھیلانے والے لاہور کے عام شہری ہرگز نہیں ہیں۔ پنجابی افسر شاہی کا ایک محدود طبقہ تھا۔ انگریز اس خطے سے چلا گیا تو انھوں نے مہاجر اشرافیہ کے ساتھ مل کر ’’اُردو قومی زبان‘‘ اور ابھی تک مبہم ’’نظریہ پاکستان‘‘ کے نام پر پورے ملک کو ایک مضبوط مرکز کے ذریعے اپنے کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کی۔

افسر شاہی کی اصل طاقت حکومت نہیں ریاست تھی جس کے وہ ’’پکے نوکر‘‘ ہوا کرتے تھے اور کسی بھی ریاست کی سب سے طاقتور قوت اس کی عسکری اشرافیہ ہوا کرتی ہے۔ جب عسکری اشرافیہ نے ان کی فراہم کردہ طاقت کے زور پر سی ایس پی افسروں کو من مانیاں کرتے دیکھا تو خود آگے بڑھ کر اقتدار پر قابض ہوگئے۔ 1958ء میں ایوب خان کے مارشل لاء سے اس رحجان کا آغاز ہوا مگر اس فوجی آمر کے ارسطو اور اتالیق قدرت اللہ شہاب اور الطاف گوہر جیسے ’’دانشور‘‘ بن گئے۔ دونوں حضرات نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے گناہوں کی اعترافِ گناہ مارکہ کتابیں لکھ کر تلافی کرنے کی کوشش کی۔ شہاب صاحب تو بالآخر روحانیت کی راہ پر چل نکلے۔ الطاف گوہر کو جب ذوالفقار علی بھٹو نے جیل بھیج دیا تو انھوں نے مولانا مودودی کی تفہیم القرآن کا انگریزی ترجمہ شروع کردیا۔

اس طرح اپنے تئیں افسر شاہی کے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے بعد دونوں حضرات اپنی آخری عمر میں امریکی سامراج کے کٹر دشمن ہونے کا روپ بھی دھار بیٹھے۔ قدرت اللہ شہاب یونیسکو کی معاونت سے مقبوضہ فلسطین گئے اور خود کو ایک جی دار گوریلا ثابت کرنا شروع ہوگئے اور الطاف گوہر نے آغا حسن عابدی کی فیاضی کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے لندن میں بیٹھ کر تیسری دُنیا کا چیمپئین بننے کی کوششیں شروع کردیں۔ قدرت اللہ شہاب اور الطاف گوہر جیسے لوگ ہی ایوب خان کے بعد آنے والے فوجی آمروں کے ارسطو بننے کو ہر وقت تیار رہے۔

یحییٰ خان کے وزیر اطلاعات نوابزادہ شیر علی پٹودی کو ’’محب وطن‘‘ صحافیوں کی خدمات مل گئیں۔ وہ مشرقی پاکستان کے دورے کرتے جہاں 1970ء کے انتخابات میں اس صوبے میں مکمل اکثریت حاصل کرنے والی عوامی لیگ کو اقتدار منتقل کرنے کے بجائے آپریشن کا نشانہ بنا دیا گیا تھا۔ اس آپریشن کی غضب ناکیوں کے دنوں میں ان حضرات کو ڈھاکہ میں پاکستان کے لیے محبت کے زم زم بہتے نظر آتے رہے۔ مشرقی پاکستان الگ ہوگیا تو یہی دانشور اور ان کی پشت پناہ پشتون اور بلوچ قوم پرستوں کو غدار ثابت کرنے میں مصروف ہوگئے۔ ضیاء الحق نے افغانستان کو آزاد کروانے کے نام پر امریکی ڈالروں اور سعودی ریالوں سے ’’مجاہدینِ اسلام‘‘ کا ایک اور بہت بڑا گروہ پاکستانی عوام کو دولے شاہ کے چوہے بنانے کے کام پر لگا دیا۔

ضیاء الحق کے بعد بھی یہ گروہ اپنے تئیں پاکستان کے ’’اساسی نظریے‘‘ کو مضبوط سے مضبوط تر کرتا رہا۔ اللہ نے ان کے رزق میں بڑی برکت ڈالی۔ اسی لیے جنرل مشرف کی Enlightened Moderation انھیں کسی مصیبت میں نہ ڈال سکی۔ ان کے لال ٹوپیوں والے جانشینوں نے آج کل اکبر بگٹی کے قتل کے بعد ایک اور سیزن لگالیا۔ چینل آجانے کے بعد سے تو قومی غیرت اور حمیت کے نقارچی Celebrity Anchorsبن چکے ہیں۔ لاکھوں میں تنخواہ لیتے ہیں۔ اپنے ٹیکس کے گوشوارے دکھا کر خود کو عقلِ کل اور اس ملک کا سب سے زیادہ ایماندار اور بااصول صحافی سمجھتے ہوئے سادہ لوح پاکستانیوں کے منتخب کردہ ’’چوروں اور لٹیروں‘‘ کے لتے لیتے رہتے ہیں۔

ریمنڈ ڈیوس گرفتار ہوجاتا ہے تو اسے عبرت ناک سزا دلوانے کے لیے اپنے پھیپھڑوں کو پھاڑتے ہوئے سینہ کوبی میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ مگر جب وہی شخص قصاص اور دیت ادا کرنے کے بعد اپنے ملک بھیج دیا جاتا ہے تو کبھی یہ جاننے اور ہمیں بتانے کی کوشش نہیں کرتے کہ ریمنڈ ڈیوس کی ’’اسلامی اصولوں‘‘ کے مطابق جاں بخشی کا عمل کن افراد اور اداروں کے ذریعے پایہ تکمیل تک پہنچا تھا۔ 2مئی 2011ء کو امریکی کمانڈو ایبٹ آباد کے ایک گھر میں اُترے اور اسامہ بن لادن کو مارکر چلے گئے۔ آج تک سرکاری طور پر کسی نے ہمیں یہ بتانے کا تردد ہی نہیں کیا کہ ہماری قومی خود مختاری پر اتنا واضح طور پر جارحانہ حملہ کیوں اور کیسے ہوا۔ اس کے بارے میں مجرمانہ تغافل کے باوجود ان ہی شور مچانے والوں کو آج کل امریکی ڈرون گرانے کا خبط لاحق ہوچکا ہے۔ خدا کرے وہ جلد از جلد اپنے مقصد میں کامیاب ہوں اور پاکستانی جہادیوں کو اپنی سرزمین پر امریکی فوجیوں سے دوبدو لڑائیوں کے مواقعے نصیب ہوں۔

ویسے بھی یہ کالم میں ایک معصوم سی دہائی کے بارے میں لکھنا چاہ رہا ہوں جسے مچاتے ہوئے میرے کچھ بہت ہی پیارے دوست یہ ثابت کرنا چاہ رہے ہیں کہ اپنی کابینہ بناتے ہوئے لاہور سے تیسری مرتبہ وزیر اعظم بننے والے نے وزارتوں کی ریوڑیاں ’’تختِ لہور‘‘ والوں میں بانٹ دی ہیں۔ پشتون، سندھی اور بلوچ اگر اہم وزارتیں حاصل نہ کر پائے تو شاید درگزر کیا جاسکتا تھا۔ مگر ’’سرائیکی وسیب‘‘ بھی کیوں نظر انداز کردیاگیا۔ نظر بظاہر یہ شکوہ بہت معقول ہے۔ لیکن ذرا سوچئے نواز شریف کی جگہ آپ ہوتے تو سرائیکی وسیب کو نمایندگی کس طرح دیتے۔ وہاں کے جدی پشتی حوالوں سے وزیر یا گورنر پنجاب بننے کے اہل سمجھے جانے والوں کی اکثریت نے ان کی جماعت میں شمولیت آزاد حیثیت میں قومی اسمبلی کا رکن ہوجانے کے بعد کی ہے۔

گیلانی ،مخدوم احمد محمود، حنا ربانی کھر اور مخدوم شہاب الدین تو برسوں سے پیپلز پارٹی کے ساتھ تھے۔ آصف علی زرداری نے ان کی ہر طرح سرپرستی کی۔ جمشید دستی اور قیوم جتوئی کے لاڈ نخرے تو کئی بار میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتے دیکھے۔ سرائیکی وسیب سے آنے والے ہر قابل ذکر فرد کو پیپلز پارٹی نے اپنے پانچ سالوں میں وسطی پنجاب کے قمر زمان کائرہ اور ندیم افضل چن جیسے دائمی جیالوں سے کہیں زیادہ پیار اور ریاستی سرپرستی سے نوازا۔ 11مئی کو لیکن کیا ہوا؟ پیپلز پارٹی سرائیکی وسیب میں بھی بدترین شکست سے دو چار ہوئی۔ نواز شریف فی الوقت تو وہاں سے آزاد حیثیت میں منتخب ہوکر مسلم لیگ میں شامل ہونے والے سرداروں اور مخدوموں کی ناز برادری کو تیار نہیں ہوں گے۔ ان کے رویے کی مذمت ضرور کریں مگر لاہور کو بخش دیں۔ ’’تختِ لہور‘‘ کوئی علاقہ نہیں ایک ذہنیت کا نام ہے اور یقین مانیں وسطی پنجاب اور خاص کر لاہور کے نوجوان اس ذہنیت سے شدید نفرت کرتے ہیں۔ ان سب کو نواز شریف کے کھاتے میں نہ ڈالیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔