پشاور میں 11 ٹن منشیات نذر آتش، 103 ٹن ممنوعہ کیمیائی مواد تلف

ویب ڈیسک  منگل 16 اکتوبر 2018
منشیات کی کمائی سے بنائے گئے اثاثہ جات کی بھی تفتیش کررہے ہیں، اے این ایف (فوٹو: اے ایف پی)

منشیات کی کمائی سے بنائے گئے اثاثہ جات کی بھی تفتیش کررہے ہیں، اے این ایف (فوٹو: اے ایف پی)

پشاور: اینٹی نارکوٹکس فورس خیبر پختونخوا کی جانب سے پکڑی گئی 11.5 ٹن منشیات اور 103 ٹن ممنوعہ کیمیائی مواد نذر آتش کردیا گیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ریگی للمہ فائرنگ رینج میں اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) خیبرپختونخوا کی جانب سے منشیات نذر آتش کرنے کی تقریب منعقد ہوئی جس میں مہمان خصوصی انسداد منشیات کورٹ خیبرپختونخوا کی جج نصرت یاسمین  اور فورس کمانڈر اے این ایف بریگیڈئیر متین احمد فراز نے شرکت کی۔

دوران تقریب 11.5 ٹن منشیات نذرآتش کی گئی اور 103 ٹن ممنوعہ کیمیائی مواد تلف کیا گیا۔ منشیات کے خلاف گرلز فرنٹیئر کالج اور ایگریکلچر یونیورسٹی کی طالبات نے خاکے بھی پیش کیے۔

نصرت یاسمین کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ منشیات ہمارے معاشرے کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں منشیات جیسی لعنت کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ منشیات کے 340 مقدمات کی سماعت مکمل ہوئی جس میں 333 مقدمات میں ملزمان کو سزائیں ہوئیں۔

فورس کمانڈر اے این ایف بریگیڈئیر متین احمد فراز نے کہا کہ اے این ایف منشیات کی کمائی سے بنائے اثاثہ جات کی بھی تفتیش کر رہی ہے اور  رواں سال اسمگلروں کے 221.5 ملین روپے اثاثہ جات کو منجمد کردیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ منشیات کی روک تھام کے لیے اے این ایف تمام وسائل مؤثر طور پر بروئے کار لا رہی ہے۔ اسی بات کے پیش نظر صوبائی حکومت کے اشتراک سے منشیات کے عادی افراد کے مفت علاج کے لیے پشاور میں 100 بستروں کا اسپتال قائم کیا گیا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔