توانائی بحران کے حل کیلیے 225ارب روپے مختص، بھاشا، تربیلا ڈیم اور تھرکول منصوبوں پر عمل ہوگا

این این آئی  جمعرات 13 جون 2013
منگلاڈیم واٹرشیڈکیلیے 7کروڑ31 لاکھ،ست پارہ ڈیم کیلیے17کروڑ50لاکھ،پٹرولیم وقدرتی وسائل کیلیے5 کروڑ روپے رکھے گئے،بجٹ تقریر فوٹو: فائل

منگلاڈیم واٹرشیڈکیلیے 7کروڑ31 لاکھ،ست پارہ ڈیم کیلیے17کروڑ50لاکھ،پٹرولیم وقدرتی وسائل کیلیے5 کروڑ روپے رکھے گئے،بجٹ تقریر فوٹو: فائل

اسلام آباد: وفاقی بجٹ برائے 2013-14میں ملک میں جاری توانائی کے بدترین بحران کے حل کیلیے 225 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

سرکاری شعبے کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں بجلی کیلیے واپڈا ہائیڈل منصوبوں اور فزیبلٹی اسٹڈیز کیلیے 82ارب 92کروڑ 10لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ 107 ارب روپے پی ایس ڈی پی  اور باقی 118ارب روپے  واپڈا، این ٹی ڈی سی، جینکوز اور ڈسکوز سمیت دیگر ذرائع سے حاصل کریںگے۔ توانائی بحران کے لیے جن منصوبوں  پر عملدر آمد کیا جائے گا ان میں  1000میگاواٹ کا  نیلم جہلم منصوبہ، 4500میگاواٹ کا بھاشاڈیم، 1410میگاواٹ کاتربیلا چوتھاتوسیعی منصوبہ، 100میگاواٹ کا تھر کول منصوبہ، 600میگاواٹ کا چشمہ نیوکلیئرمنصوبہ، چین کی امداد سے کراچی کوسٹل پاور کے  1100میگاواٹ  کے دیگر منصوبے شامل ہیں۔

انھوں نے کہاکہ مظفرگڑھ  اور جامشورو پاورپلانٹس کو کوئلے  پر منتقل  کیاجائے گا جبکہ  ٹرانسمیشن لائنز کی بہتری، گرڈاسٹیشن کی تعمیر اور تقسیم کے نظام کو مزید موثر بنایاجائے گا۔ انھوں نے کہاکہ  ملک کو تیل کی آلودگی سے بچانے  اور  سستی بجلی پیدا کر نے کے لیے  فیول مکس کے ذریعے بہتری لائی جائے گی اور مستقبل میں  بجلی کی قیمت میں استحکام پیدا ہو گا۔ پی ایس ڈی پی کے مطابق گولان گول ہائیڈروپاور پروجیکٹ کے لیے 5ارب51کروڑ، جناح ہائیڈروپاور پروجیکٹ کے لیے ایک ارب41کروڑ 10لاکھ روپے، تربیلاڈیم کے چوتھے توسیعی منصوبے کے لیے 13ارب 79کروڑ روپے رکھے گئے جبکہ پتن ہائیڈروپاور پروجیکٹ کی فزیبلٹی اسٹڈی کے لیے 30کروڑ روپے اور تھاکوٹ ہائیڈروپاور پروجیکٹ کے لیے 25کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

این ٹی ڈی سی، پیپکو اور بجلی کے شعبے کی 17نئی اسکیموں کے لیے ایک کھرب 89 ارب 16کروڑ 54 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔ جبکہ مختلف ڈیموں، بیراجوں اور دیگر آبی ذخائرکی تعمیر کے لیے مجموعی طورپر 57ارب 84کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ منگلاڈیم واٹرشیڈ منصوبے کے لیے 7کروڑ 31لاکھ روپے اور ست پارہ ڈیم کے لیے 17کروڑ 50لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔ پی ایس ڈی پی کے مطابق چشمہ رائٹ بینک کنال کے لیے 2کروڑ روپے، گریٹر تھل کنال فیز1 کے لیے 30 کروڑ روپے، سکھربیراج کی بہتری اور بحالی کیلے 25کروڑ روپے، راولپنڈی میں مجاہدڈیم کی تعمیر کے لیے 46کروڑ 21لاکھ 83ہزار، گومل زام ڈیم کے لیے 2ارب روپے، کرم تنگی ڈیم کے لیے 3ارب روپے، نئی گاج ڈیم کے لیے 3ارب روپے، دراوٹ ڈیم کے لیے 2ارب 50کروڑ روپے، نولانگ ڈیم کے لیے 2ارب 50کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ پٹرولیم وقدرتی وسائل ڈویژن کے 4جاری منصوبوں کے لیے 5کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔