نواز شریف کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس بھی حتمی مراحل میں داخل

ویب ڈیسک  جمعرات 18 اکتوبر 2018
واجد ضیا کا بیان فلیگ شپ ریفرنس میں بھی مکمل ہوگیا۔ فوٹو:فائل

واجد ضیا کا بیان فلیگ شپ ریفرنس میں بھی مکمل ہوگیا۔ فوٹو:فائل

 اسلام آباد: سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف زیر سماعت فلیگ شپ ریفرنس میں بھی پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا کا بیان مکمل ہوگیا جس کے بعد اب اس مقدمے کی سماعت بھی حتمی مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت ہوئی جس میں جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء نے 17 جولائی 2017 کا حمدبن جاسم کا خط عدالت میں پیش کر دیا، اس کے علاوہ سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کا سپریم کورٹ کو لکھا گیا خط بھی عدالت میں پیش کیا گیا، خواجہ حارث نے تہمینہ جنجوعہ کے خط پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ تہمینہ جنجوعہ اس کیس میں گواہ ہیں نہ ان کا بیان ریکارڈ کیا گیا۔

واجد ضیاء نے عدالت کو بتایا کہ ورک شیٹ میں سرمایہ کاری، اخراجات اور منافع کی تفصیل موجود ہے، 8 ملین ڈالر کی ادائیگی پر التوفیق کمپنی کا نام ورک شیٹ میں ظاہر کیا گیا، 2001 سے 2003 کے درمیان 5041 ملین ڈالر کی 3  ٹرانزکشنز حسین نواز کے نام دکھائی گئیں، ورک شیٹ میں دکھائی گئی ان ٹرانزیکشنز کی کوئی رسید نہیں دی گئی۔

واجد ضیاء نے کہا کہ 2001 سے 2004 کے دوران 4.2 ملین ڈالر کی ٹرانزیکشنز حسن نواز کے نام ظاہر کی گئی، حسین نواز نے جے آئی ٹی کے سامنے کہا کہ انہوں نے اسٹیٹمنٹ کے وقت پر دستاویزات حسن نواز کو دکھائی تھی، حسن نواز نے جے آئی ٹی کو بتایا کہ انہوں نے تو کبھی یہ ورک شیٹ دیکھی ہی نہیں۔

احتساب عدالت میں سماعت کے دوران واجد ضیاء کا بیان میں بھی مکمل ہوگیا جس کے بعد نواز شریف کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس بھی حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کو نواز شریف کے خلاف زیر سماعت ریفرنسز مکمل کرنے کے لئے 17 نومبر تک مہلت دے رکھی ہے۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلے تحت  العزیزیہ ریفرنس کا فیصلہ بھی فلیگ شپ ریفرنس کے ساتھ ہی سنایا جائے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔