زرمبادلہ کے ذخائر اور ٹیکس وصولیوں میں کمی رہی، حکومت اقتصادی نمو کیلیے جرأت مندانہ اصلاحات کرے، اسٹیٹ بینک

بزنس رپورٹر  جمعـء 14 جون 2013
بجلی کی سبسڈیزاورسودکی ادائیگیوںمیں تیزی سے اضافہ ہوا،جاری کھاتے کی صورتحال بگڑگئی،اسٹیٹ بینک کی تیسری سہ ماہی رپورٹ۔ فوٹو: فائل

بجلی کی سبسڈیزاورسودکی ادائیگیوںمیں تیزی سے اضافہ ہوا،جاری کھاتے کی صورتحال بگڑگئی،اسٹیٹ بینک کی تیسری سہ ماہی رپورٹ۔ فوٹو: فائل

کراچی: مرکزی بینک نے معیشت پراپنی تیسری سہ ماہی رپورٹ برائے مالی سال2013 جاری کر دی۔

رپورٹ میں کہا گیاہے کہ معاشی انتظام کودرپیش اہم چیلنجزکاتعلق مالیاتی نیزبیرونی شعبے سے تھا، رواں مالی سال  کی پہلی ششماہی کے برعکس تیسری سہ ماہی میں جاری کھاتے کی صورتحال بگڑگئی اور خسارہ ہواجس سے ملک کے زر مبادلہ کے ذخائر پرکچھ دباؤ آیا،ملکی محاذ پر ایف بی آر کے ٹیکس محاصل کی رفتار سست رہی جبکہ بجلی کی سبسڈیزاورسود کی ادائیگیوں میں تیزی سے اضافہ ہوا،حکومت کو اپنا مالیاتی خسارہ پورا کرنے کیلیے مرکزی بینک سے قرض لینے پر انحصارکرناپڑا۔رپورٹ میں کچھ مثبت حالات کابھی ذکرکیاگیاہے جن میں گرانی میں خاصی کمی اوربڑے پیمانے کی اشیاسازی میں بحالی کے آثارشامل ہیں۔

بڑے پیمانے کی اشیا سازی کو بینکوں کی جانب سے نجی شعبے کودیے گئے قرضوں اور شکر،پٹرولیم مصنوعات، سیمنٹ،کھاد اور سوتی دھاگے کی بلندتر پیداوار سے مدد ملی تاہم خریف کے موسم کے دوران زراعت پر موسلا دھاربارشوں اور مقامی سیلابوں سے منفی اثر مرتب ہوا اورشعبہ خدمات کی نمو بھی کم رہی، مجموعی طور پر حقیقی جی ڈی پی کی نموکاتخمینہ رواں مالی سال میں 3.6 فیصدلگایاگیاہے جبکہ پچھلے سال 4.4فیصدتھا(جو نئی بیس پر مبنی جی ڈی پی ڈیٹا کے مطابق ہے)۔رپورٹ میں کہا گیاہے کہ اگرچہ گرانی مسلسل کم ہوئی ہے، تاہم بیرونی شعبے میں بگاڑیا(سبسڈیز کم کرنے اور مالیاتی استحکام کے لیے درکار گردشی قرضے کے حجم کو قابو کرنے کیلیے) مقررہ قیمتوں میں اضافہ وسط مدت میں گرانی کیلیے اہم خطرات ہیں،ان خطرات کی عدم موجودگی میں گرانی کے کم رہنے کی توقع ہے، مالیاتی سبسڈیز اور بڑھتی ہوئی سودی ادائیگیوں کی وجہ سے صورتحال بدتر ہوئی ہے،رواں مالی سال کی پہلی تین سہ ماہیوں کے دوران ادا کردہ سبسڈیز پورے سال کے ہدف سے خاصی تجاوزکرگئیں۔

مزیدیہ کہ قرضے کی واپسی ترقیاتی اخراجات سے تجاوز کرگئی،یہ دونوں مدیں(یعنی سبسڈیز اور قرضے کی واپسی) ملا کر مجموعی جاری اخراجات کے 40 فیصد کے لگ بھگ ہیں،جہاں تک محاصل کا تعلق ہے۔مرکزی بینک کی پیش گوئی کے مطابق پورے سال کا بجٹ خسارہ 7 سے 7.5فیصد جی ڈی پی کی حدودمیں ہے جس کی وجہ سبسڈیز کے مسلسل دباؤ اور سودی ادائیگیوں کے علاوہ ایف بی آر کی جانب سے محاصل کی سست وصولی ہے۔رپورٹ میں حکومت کومالیاتی خسارے کی مالکاری میں درپیش مشکلات کاذکر بھی کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک اس حقیقت پر زور دیتا رہا ہے کہ قرضے کے اسٹاک میں اضافے کے ہمراہ قرضے کی واپسی میں اضافہ براہ راست مالیاتی خساروں کو بڑھاتا ہے جو’’قرض خسارے‘‘ کے جال میں پھنسنے کے بڑھتے ہوئے خطرے کی نشاندہی کرتاہے۔اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں مالیاتی محاذپردشواریوں کے علاوہ مالی سال2013کی پہلی ششماہی میں پاکستان کے بیرونی کھاتے پر دبائو کا بھی تذکرہ ہے ۔رپورٹ میں حکومت پر زور دیا گیاہے کہ پائیدار اور منصفانہ اقتصادی نمو حاصل کرنے کے لیے جرأت مندانہ اقتصادی اصلاحات کرے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔