غربت کا کھیل

اسلم خان  ہفتہ 15 جون 2013
غریب عوام ہماری کسی ترجیح میں نہیں ہیں۔ ہم غربت کے دیو کے ساتھ خرمستیاں کر رہے ہیں جس کا خراج غریبوں کو تو بہر حال ادا کرنا ہو گا۔

غریب عوام ہماری کسی ترجیح میں نہیں ہیں۔ ہم غربت کے دیو کے ساتھ خرمستیاں کر رہے ہیں جس کا خراج غریبوں کو تو بہر حال ادا کرنا ہو گا۔

’’غربت میں بڑا پیسہ ہے‘‘ اب تو مدتیں گزر گئیں‘ پاکستان کے غریبوں کے غم میں ’’نڈھال‘‘ ایک ماہر غربت اور امارت کے تال میل پر گفتگو فرما رہے تھے۔

جون جولائی کی تپتی دوپہر میں یخ بستہ ماحول میں نامہربان موسم کی سختیوں سے بے نیاز فریش لائم سے لطف اندوز ہوتے ہوئے بتا رہے تھے کہ آنے والے دنوں میں ہمارے گلی کوچوں میں غربت کا دیو برہنہ رقص کرے گا اور ہم بے بس دیکھا کریں گے کہ غربت کی پیش قدمی روکنے کے لیے ٹھوس انداز میں حکمت عملی مرتب کرنے پر توجہ نہیں دے رہے۔ غریب عوام ہماری کسی ترجیح میں نہیں ہیں۔ ہم غربت کے دیو کے ساتھ خرمستیاں کر رہے ہیں جس کا خراج غریبوں کو تو بہر حال ادا کرنا ہو گا۔

ہمارے وزیر خزانہ اسحق ڈار نے یہ بتایا ہے کہ گذشتہ پانچ سال کے دوران پاکستان میں غربت کے شکار افراد کی تعداد دو گنا ہو گئی ہے۔ انھوں نے ہمیں صدمے سے بچانے کے لیے تعداد بتانے سے گریز کیا ہے لیکن ملکی و غیر ملکی اداروں کے جاری کردہ اعداد و شمار چیخ چیخ کر ہماری غربت کا پول کھول رہے ہیں کہ پاکستان میں خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی تعداد 6 کروڑ سے بھی بڑھ چکی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر تیسرا پاکستانی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہا ہے۔

غربت کے کھیل میں بڑا پیسہ ہے۔ اس کی کہانی کچھ یوں بیان کی جاتی ہے کہ غربت کے خاتمے کے نام پر ہر سال اربوں ڈالر مختص کیے جاتے ہیں جس میں غریبوں تک صرف تلچھٹ ہی پہنچ پاتی ہے۔ اس رقم کا بڑا حصہ تعلیم و تحقیق‘ ورکشاپس اور سیمینارز کے نام پر غربت کے خلاف برسرپیکار ’’معاشی مجاہدین‘‘ ہضم کر جاتے ہیں جس کی ابتداء کچھ یوں ہوتی ہے کہ اس امدادی رقم کا ایک تہائی تو ماہرانہ مشوروں اور رپورٹوں کی تیاری اور ماہرین کی آمد و رفت میں خرچ کر دیتے ہیں جس کے لیے ہم نے پاکستان میں نئے معیارات متعارف کروائے ہیں۔ بی بی شہید کے نام پر قائم بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تشہیری بجٹ میں کروڑوں روپے کے گھپلے کی باتیں عام ہیں۔ ذرایع ابلاغ سمیت تمام لوگ غریبوں کے غم میں گھلتے رہے کہ قوم کا مال تھا ہم پر حلال تھا‘ نہ کوئی داد نہ فریاد۔

ہمارے ارب پتیوں کے لیے یہ تو پاگل پن ہو گا کہ دنیا کے چوٹی کے ارب پتی سرمایہ کاروں میں بل گیٹس کی تحریک پر اپنی جائیدادوں اور آمدنیوں کا بڑا حصہ انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے مخصوص کر کے قرآن کریم کے احکامات کی حقانیت کو نمایاں کر دیا جائے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرو جو تمہاری ضرورت سے زیادہ ہے۔ اگر ہمارے ارب پتی حکمران طبقے اپنے ان غیر مسلم بھائی بندوں کے روشن نقوش پر عمل کرتے ہوئے صرف اپنے زرمبادلہ کے ذخائر ہی واپس لے آتے تو ہم گردشی قرضوں کے منحوس چکر سے آزاد ہو جاتے۔ لوڈ شیڈنگ اور توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے بھی عالمی سود خور مہاجنوں کے در پر کاسہ گدائی لے کر نہ جانا پڑتا۔

خط غربت کا تعین کیسے کیا جاتا ہے‘ یہ بڑا اہم سوال ہے۔ ماہرین معاشیات کے مطابق خط غربت کا معیار کم از کم روزانہ ڈیڑھ ڈالر کمائی پر مقرر کیا گیا ہے جس کے مطابق کم از کم ساڑھے چار ہزار ماہانہ کمانے والے خط غربت سے نیٖچے زندگی بسر کررہے ہیں۔

غربت سروے کے تازہ ترین مستند سروے کے مطابق 20 غریب ترین اضلاع میں سے 16 بلوچستان میں ہیں۔ بلوچستان میں کل آبادی کا 52 فیصد‘ سندھ میں 33 فیصد‘ خیبر پی کے میں 32 فیصد جب کہ پنجاب کی کل آبادی کا 19 فیصد خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہا ہے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق سندھ‘ بلوچستان اور خیبر پی کے میں غربت کی آگ میں جلنے والی آبادی کا بڑا حصہ دور دراز علاقوں سے تعلق رکھتا ہے۔ پنجاب کے گرد غربت کا شکنجہ اپنی گرفت مضبوط کر رہا ہے لیکن پنجاب کا زرعی معاشرہ اور اس کی صدیوں پرانی تابندہ روایات غربت کی پیش قدمی کو روکنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

پنجاب کی 70 فیصد دیہی آبادی کے دیہاڑی دار مزدور بھی صدیوں پرانے رسم و رواج کی وجہ سے فوڈ سیکیورٹی کے غیر روایتی نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔ جو گندم کی کٹائی کے موقع پر سال بھر کی گندم کا حصہ محفوظ کر کے روٹی کے مسئلے سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ پنجاب میں آدھی دیہی آبادی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے جب کہ شہری آبادی کا 18 فیصد اس کا شکار ہے۔

اگرچہ اسحق ڈار نے گذشتہ پانچ سال میں خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی دو گنا تعداد ہونے کی وجوہات بیان نہیں کیں لیکن بدانتظامی اور لوٹ مار کے ساتھ ساتھ آفات سماوی نے بھی اس میں اہم اور بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ 2005ء کے زلزلے اور 2010ء اور 2011ء میں آنے والے سیلاب نے سسکتی ہوئی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی توڑ کر رکھ دی تھی۔ یہ تو مرے کو مارے شاہ مدار والا معاملہ تھا۔ شاید اسی لیے عالمی برادری نے ان پے در پے آنے والے سیلابوں کو تباہی کی ماں قرار دیا تھا جس نے پاکستانی معیشت کا جوڑ جوڑ ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ویسے تو ہماری بدقسمتی کا آغاز ٹوئن ٹاورز پر 9/11 کے حملوں کے ساتھ ہو گیا تھا جس کے ہماری معاشی اور سماجی زندگی پر گہرے اثرات بھی مرتب ہوئے۔ یہ تو قدرتی آفات کی دہائی تھی جس نے 6 کروڑ پاکستانیوں کو غربت کے گڑھے میں گرا دیا تھا۔

پاکستان پر غربت کی چڑھائی اپنے عروج پر ہے جب کہ سرحد کے اس پار بھارت میں غربت تیزی سے پسپاء ہو رہی ہے۔ برصغیر پاک و ہند کو سمجھنے میں اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزار دینے والے امریکی پروفیسر بروس رائیڈل نے اپنی تازہ ترین کتاب ’’قیامت صغریٰ سے بچاؤ‘‘ میں بڑے والہانہ انداز میں اقتصادی اور معاشی میدان میں بھارت کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ 1500ء صدی میں ہندوستان کو سونے کی چڑیا کہا جاتا تھا اب پانچ صدیوں بعد 2030ء میں ہندوستان دوبارہ عالمی منظر نامے پر اقتصادی طاقت بن کر نمودار ہو رہا ہے۔ کروڑوں ہندوستانی گذشتہ دہائیوں میں غربت کے شکنجے سے آزاد ہو چکے ہیں اور آنے والی دہائیوں میں مزید کروڑوں ہندوستانی غربت سے آزاد ہو کر خوشحالی کی منزل پا لیں گے۔ غربت کئی دہائیوں تک بھارتی حکمرانوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہے لیکن معاشی منظر نامہ تیزی سے بدل رہا ہے۔ 2005ء تک 41 فیصد ہندوستانی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے تھے جب کہ 2015ء تک یہ تعداد کم ہو کر صرف 7 فیصد رہ جائے گی اعداد و شمار کے جادوگر بتاتے ہیں کہ 2005ء سے 2010ء کے دوران 23کروڑ ہندوستانیوں نے غربت سے آزادی حاصل کر لی۔ ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے 2015ء تک مزید 14 کروڑ ہندوستانی غربت کے آہنی شکنجے توڑ دیں گے۔ صرف ایک دہائی میں 36 کروڑ باشندوں کا غربت کے چنگل سے نکل آنا ایسا شاندار ریکارڈ ہے جس کا مقابلہ چین جیسی عظیم اقتصادی طاقت بھی نہیں کر سکتی۔ 1999ء تک دنیا میں غریب ترین افراد کا گہوارہ بھارت تھا لیکن اس کے بعد یہ اعزاز چین کے حصے میں چلا گیا۔ 2015ء سے یہ اعزاز نائیجیریا کے پاس چلا جائے گا۔ یہ اعداد و شمار لال قلعے پر جھنڈا لہرانے والے ہمارے کاغذی مجاہدین کے علم میں ہوں گے شاید اسی لیے انھوں نے 2013 ء کے عام انتخابات اس طرح کی طوطا کہانی چلانے کے بجائے خاموشی اختیار کیے رکھی۔ اس معاشی منظر نامے کو سمجھنے کے لیے ارسطو کی عقل اور فہم و فراست کی ضرورت نہیں ہے کہ ہم کہاں اور کس پاتال میں پڑے ہیں اور سرحد پار ہمارے حریف کس مقام پر کھڑے ہیں۔ بہت دن ہوئے بزرگ سیاستدان انور عزیز چوہدری نے واہگہ سے سرحد پار کرتے ہوئے پیاز سے لدے ہوئے سیکڑوں ہزاروں بھارتی ٹرک دیکھ کر بے ساختہ کہا تھا کہ ذلت کی اس سے بڑی انتہاء کیا ہو سکتی ہے کہ ہمارے زمیندار پیاز اور ٹماٹر اگانے سے بھی معذور ہو چکے ہیں جس کے لیے حکومتی امداد یا کسی ایٹمی ٹیکنالوجی کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم کیا خاک ترقی کریں گے۔

حرف آخر یہ کہ تجزیہ نگار عدنان رحمت نے بڑا دلچسپ اور فکر انگیز سوال اٹھایا ہے کہ توقع کے عین مطابق مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے اپنے فطری ووٹ بینک‘ تاجروں‘ دکانداروں اور صنعتکاروں کو بجٹ میں ہر ممکن ریلیف دیا ہے اور غریبوں کی کوئی پروا نہیں کی۔ عدنان سوال کرتے ہیں کہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ پیپلز پارٹی اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں اپنے غریبوں کے ووٹ بینک کو ایسی سہولیات دے کر امیر پر بھاری ٹیکس کیوں نہیں لگا سکی۔ اپنے غریب ووٹروں کو لاوارث چھوڑ کر امراء کی ناز برداریاں کیوں کی جاتی ہیں۔ عدنان رحمت انگریزی میں لکھتے ہیں اسلیے اردو قارئین ان کی فہم و فراست اور دانش سے بہت زیادہ متعارف نہیں ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔