اب صرف عوام کی خدمت کرتی دکھائی دوں گی، کنول

قیصر افتخار  اتوار 16 جون 2013
ٹی وی فنکاروں کے معاوضے میں اضافہ ہونا چاہیے، ماضی کی اداکارہ، حال کی سیاستدان کنول کی ’’ایکسپریس‘‘ سے بات چیت۔  فوٹو : فائل

ٹی وی فنکاروں کے معاوضے میں اضافہ ہونا چاہیے، ماضی کی اداکارہ، حال کی سیاستدان کنول کی ’’ایکسپریس‘‘ سے بات چیت۔ فوٹو : فائل

زندگی کے تمام شعبوں میں ایسے کامیاب لوگ بہت کم ملتے ہیں جواچانک سے کسی بھی شعبے کی طرف آتوجاتے ہیں مگراپنی محنت ، لگن ، جستجواورصلاحیتوں کے بل پروہ ان انجان شعبوں میں اپنی نمایاں جگہ بنا لیتے ہیں۔ نا کوئی سفارش اورناہی کوئی چوررستہ ۔ حقیقت میں ایسے لوگ تعداد میں بہت کم ہونگے مگرجتنے بھی ہیں وہ باکمال ہیں۔

ایسے ہی لوگوں میں ایک نام طویل عرصہ تک فنون لطیفہ سے وابستہ رہنے والی معروف اداکارہ کنول کا بھی ہے۔ جنہوں نے ٹی وی، تھیٹراورفلم کے شعبوں میں بہت کامیاب اننگز کھیلی اوربہت سے اعلیٰ کردارادا کرتے ہوئے کئی چھکے چوکے لگائے۔ لیکن اب انھوں نے فنون لطیفہ میں اپنے بھرپورکیرئیرکوخیرباد کہتے ہوئے سیاست کے میدان میں کامیاب اننگز کھیلنے کی ٹھان لی ہے۔ انھوں نے مختصرعرصہ میں ’مسلم لیگ (ن)‘ کے پلیٹ فارم سے ایسے کام انجام دیئے کہ جماعت کی اعلیٰ قیادت نے پنجاب اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشست کیلئے ان کومنتخب کیا۔ اس طرح سے کنول کویہ اعزاز بھی حاصل ہوگیا کہ وہ پہلی فنکارہ ہیں جو پنجاب اسمبلی کی رکن بنی ہیں۔

اس موقع پرممبرپنجاب اسمبلی اورماضی کی معروف اداکارہ کنول نعمان نے ’’ایکسپریس ‘‘ سے خصوصی انٹرویو میں جہاں کامیاب فنی زندگی پربات کی ، وہیں سیاسی سفراوراپنے مقاصد کے حوالے سے بھی بھرپورگفتگوکی، جوقارئین کی نذرہے۔

کنول نعمان کہتی ہیں کہ میری فیملی میں سے کوئی شوبزمیں تھا اورنہ ہی میرا تعلق کسی سیاسی خاندان سے ہے۔ مگر میں نے 1987ء میں ثابت قدمی کے ساتھ تھیٹرسے فنی سفر کاآغازکیا اورمجھے شب وروزمحنت کا صلہ ملتا گیا۔ شوبز میں فلم، ٹی وی اورتھیٹرکیلئے بہت کام کیا جس کو لوگوں نے پسند کیا۔ منفرد کرداروں میںحقیقت کارنگ بھرنے کیلئے جہاں میںنے محنت کی ، وہیں میرے سینئرز نے بھی رہنمائی کاسلسلہ جاری رکھا جس کی بدولت شوبزمیں 23سال کب پورے ہوئے پتہ ہی نہ چل سکا۔ فنی سفر بڑی کامیابی سے گزرااب توعوام کی خدمت کرتے ہی بقیہ زندگی گزرے گی۔

سیاست میں شہرت کمانے یا تصویریں بنوانے کیلئے نہیں آئی، شوبز میں کام کرتے ہوئے بہت شہرت کمائی اورپرستاروں نے تصاویر بھی بنوائیں۔ اب صرف عوام کی خدمت کا جذبہ لے کر سیاست میں قدم رکھا ہے۔ شوبزبرادری کے ساتھ ساتھ ملک بھرمیںجہاں کہیں بھی کوئی پریشان ہوگا میں اپنی پارٹی کے قائدین میاں نوازشریف اورمیاں شہبازشریف کی طرح شب وروزان کی خدمت کرتی دکھائی دونگی۔ میری اولین ترجیحات میں سپیشل بچوں کی ملازمتوں کے کوٹہ کو بڑھا کر دوفیصد سے چار فیصدکرنا ہے۔ میں خود ایک سپیشل بچے کی ماں ہوں اورمیں سمجھ سکتی ہوں کہ سپیشل بچوںکی پرورش کرنا کتنا مشکل ہے۔

میں ایسے بہت سے سپیشل بچوںکو بھی جانتی ہوں جوبہت قابل ہیں اورملک کی ترقی میں اہم کردارادا کر سکتے ہیں لیکن ملازمت کا کوٹہ کم ہونے کی وجہ سے ان لوگوںکوملازمتیں نہیں مل پاتیں۔ خواتین کے مسائل اوران کی ملازمتوں کے درمیان پیش آنے والی دشواریوںکودورکرنا میرا مشن ہوگا۔ میں جانتی ہوںکہ ایک خاتون جب گھرسے کام کرنے کیلئے نکلتی ہے تواس کوکس طرح کی دشواریوںکا سامنا ہوتا ہے۔ دفاتر، فیکٹریوں اورخصوصاً اینٹوں کے بھٹے پرکام کرنیوالی خواتین کو بہت سے مسائل سامنا رہتا ہے۔ ایک طرف توان پرآوازیں کسی جاتی ہیں تودوسری جانب ان کومحنت کا معاوضہ بھی کم دیا جاتا ہے جبکہ کئی مرتبہ توخواتین کومعاوضہ ہی ادا نہیں کیا جاتا اورانہیں جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

تیزاب پھینک کر خواتین کے چہرے مسخ کردیئے جاتے ہیں۔ میں اس سلسلہ میں سخت قانون سازی کروانے کیلئے خواتین کی آواز بنوں گی۔ میں ہرپلیٹ فارم پران اہم مسائل کو اجاگرکروںگی اورمجھے امید ہے کہ میرے قائدین وزیراعظم پاکستان میاں نوازشریف اوروزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف اس حوالے سے پیش رفت کرینگے اوراس سلسلہ میں سخت قانون بنائے جائیں گے جس کے بعد کوئی بھی شخص خواتین کے چہروں پرتیزاب پھینکنے کا سوچ نہیں سکے گا۔

انھوں نے کہا کہ ویسے توملک میں بہت سے مسائل ہیں جس کو حل کرنا مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی اولین ترجیح ہے مگراس کے ساتھ ساتھ زندگی کے مختلف شعبوں کی طرح فنکار برادری کے لئے تین ، تین مرلہ کے گھروں سمیت پاکستان فلم انڈسٹری کی بحالی کے لئے سینئر فنکاروں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینا اورسٹیج ڈرامہ کوفیملی تھیٹرمیں تبدیل کرنے کیلئے اسکرپٹ سنسر کروانا بھی میرے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ بہت سے لوگ یہ بات بخوبی جانتے ہونگے کہ سابقہ حکومت کے دورمیں بھی میں نے سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی سے فنکاروں کے مفت علاج کیلئے سمری پاس کروائی تھی جس کے بعد ملک بھرمیں فنکاروںکا مفت علاج کیاگیا تھا اوربہت سے لوگ اس سے مستفید ہوئے۔

ایک سوال کے جواب میں کنول نعمان نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت پرپوری قوم نے جس اعتماد کا اظہارکیا ہے اس پرپورااترنے کیلئے ہمارے قائدین تیارہیں۔ مجھے امید ہے کہ ہماری جماعت 18 کروڑ عوام کی زندگی کوخوشحال بنانے کیلئے ہرممکن کوشش کرینگے۔ توانائی بحران سمیت دیگرمسائل کوبرسوں میں نہیں بلکہ مہینوں میں کم کیا جائے گا۔ اس سلسلہ میں اہم فیصلے کئے جائینگے جس کی بدولت بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں واضح کمی دکھائی دے گی۔ انھوں نے کہا کہ شوبزمیں کام کرتے ہوئے عزت، شہرت اوردولت کمائی لیکن مشرف دورمیں ایک دن ایسا آیا کہ جب مارکیٹ میںآٹا دستیاب نہیں تھا۔اس دن میں ایک اسٹورپرپہنچی جہاں پرلوگوں کو آٹا نہیں دیا جارہا تھا مگر مجھے دیکھ کرسیلزمین نے کسی کونے سے ایک آٹے کا تھیلہ خاموشی کے ساتھ میری گاڑی میں رکھوادیا۔

میں وہ لیکر گھر توپہنچ گئی لیکن سارے راستے مجھے ایک ہی خیال ستاتارہا کہ میں ایک فنکارہ تھی تومجھے آٹا مل گیا مگران غریب لوگوںکا کیا قصورہے جوکئی کئی گھنٹے لمبی قطاروں میں لگنے کے باوجودآٹا نہیں لے پائے۔ اس دن میںنے فیصلہ کیا کہ اب شوبز نہیں بلکہ عوام کی خدمت کرنا ہے۔ اس کیلئے مجھے کچھ بھی کرنا پڑے مگرمیںاپنی بقیہ زندگی اب عوام کی خدمت کرتے ہی گزاروںگی۔

میں نے اپنے دوستوںسے مشورے کئے ، کسی نے کہا ’ این جی او‘ بنا لوتوکسی نے کچھ اورمشورہ دیا۔ ایسے میں ایک بات جومیرے دل کولگی کہ مجھے کسی سیاسی جماعت سے وابستہ ہونا چاہئے۔ تاکہ میں بہتراندازسے لوگوںکی فلاح کیلئے کام کرسکوں۔ اس موقع پرکچھ دوستوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ق) یا پھر پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل ہونا چاہئے۔ مسلم لیگ ( ق ) کی ’’ کارکردگی ‘‘سے میں خوش نہ تھی اورپیپلزپارٹی نے جو کچھ کیا وہ سب کے سامنے ہے۔ میں نے جب مسلم لیگ (ن) کا نام لیا توسب لوگوںکا یہی کہنا تھا کہ عوام میں اسی جماعت کی مقبولیت ہے اوریہ جماعت لوگوں کے مسائل حل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کا عزم رکھتی ہے۔

ایسے میں، میں نے پی ٹی وی کے سابقہ پروڈیوسرسلیم طاہرسے فون پربات کی اورانھوں نے میری ملاقات مسلم لیگ ( ن )کے رہنما خواجہ سعد رفیق سے کروادی۔ پھر میں نے ایک ورکرکی حیثیت سے مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے دن رات کام کیا۔ میں نے کوشش کی اورسرکاری اسپتالوں میں فنکاروں کے مفت علاج کااعلان ہوا۔ جس سے بہت سے فنکارمستفید ہوئے۔ میں ایک فنکارہ ہونے کی حیثیت سے فنکاربرادری کے مسائل کوبخوبی جانتی تھی اوراس کیلئے میں نے بہت سی رکاوٹوں کے باوجود بھی کام کیا۔ جس کو دیکھتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے مجھ پراعتماد کااظہار کیا اورخواتین کی مخصوص نشتوں کیلئے پنجاب اسمبلی کی رکن بننے کا موقع دیا۔ یہ بھی میرے لئے کسی اعزازسے کم نہ تھا کہ پنجاب اسمبلی کی رکن بننے والی میں پہلی خاتون ہوں جس کا تعلق شوبزسے تھا۔ فنکاربرادری کوبھی اس پر فخر ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگرمیں مسلم لیگ (ن) کی کارکردگی کا تذکرہ کروں تو پاکستان کی تاریخ کا پہلا موٹروے، موبائل فون سروس ، ایٹمی قوت سمیت دیگرتاریخی کارنامے صرف اسی جماعت کے کریڈٹ پرہیں۔ اس وقت جب ہماری حکومت کواقتدارملا ہے تومسائل بہت زیادہ ہیں لیکن میرے قائد میاں نوازشریف اورمیاں شہبازشریف نے اس کے حل کیلئے پہلے سے ہی ہوم ورک کررکھا ہے جس پرعمل کرتے ہوئے جلد ازجلد ملک کوبحران سے نکالاجائے گا۔ اس سلسلہ میں عوام کا تعاون بہت ضروری ہے۔ اس کے بغیرہم لوگ کچھ نہیں کرسکیں گے۔

کنول نعمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ چونکہ میرا تعلق شوبزسے رہا ہے تومیں اس شعبے کے مسائل کوبھی بہت اچھی طرح سمجھتی ہوں۔ ہماری فلم انڈسٹری شدید بحران کا شکارہو چکی ہے۔ فلموں کی تعداد نہ ہونے کے برابرہے۔ نگارخانے اورسینما گھرویران پڑے ہیں، جبکہ ان شعبوں سے وابستہ لوگ بے روزگارہونے کے باعث مختلف امراض میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ فلم انڈسٹری کی بحالی کیلئے سینئر فنکاروں کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس کے تحت تیزی کے ساتھ بحالی کا عمل شروع کیا جائے گا۔ سٹیج ڈراموں کودیکھنے کیلئے فیملیز کا نہ آنا بھی خاصا تشویشناک ہے۔

خاص طور پر فیملی تھیٹرکیلئے سنسرپالیسی بنائی جائے گی۔ تاکہ ڈرامے کا اسکرپٹ سنسرہواوراس کے بعد سٹیج پرڈرامہ پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔ سٹیج ڈراموں میں سیچویشن کے مطابق تین گیتوں پرڈانس کرنے کی اجازت ہونی چاہئے۔ سیچویشن کے بغیر ڈرامے میں ڈانس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہم لوگوں کو انٹرٹین کرنا چاہتے ہیں جس کیلئے جو ممکن اقدامات ہوئے وہ کئے جائیں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان ٹیلی ویژن میں فنکاروں کو ایک ہزاریا پندرہ سو کے چیک کیلئے کئی کئی چکرلگانے پڑتے ہیں۔ جبکہ میگاشو کے موقع پربھاری رقوم کی نقد ادائیگی کردی جاتی ہے۔ ہم اس سلسلہ میں بھی پی ٹی وی حکام سے بھی بات کریں گے تاکہ فنکاروں کو چیک کی ادائیگی جلد ہو اورمعاوضہ میںبھی اضافہ ہوسکے۔

انٹرویو کے آخری میں کنول نے کہا کہ سیاست اورشوبز ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ دونوں کیلئے خاصا وقت درکار ہوتا ہے۔ شوبزمیں جتنا کام کرنا تھا وہ عزت کیسا تھ کیا اورابھی بھی مجھے کام کرنے کی بہت سی آفرزتھیں لیکن اب شوبز کوخیرباد کہہ دیا ہے۔ میں اب عوام کی خدمت کرنا چاہتی ہوں اورجب تک زندگی ہے میں سیاست کے ذریعے لوگوں کی فلاح کیلئے کام کرونگی جس کے مثبت نتائج اس کا ثبوت ہونگے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔