پولیس کی یہ عوام دشمنی

محمد سعید آرائیں  ہفتہ 15 جون 2013

پولیس افسران کی طرف سے اکثر عوام سے اپیل کی جاتی ہے کہ عوام پولیس سے تعاون کریں تاکہ پولیس اور عوام کے درمیان حائل خلیج کم ہوسکے۔ پولیس افسران کی طرف سے دیے گئے یہ بیان محض دکھاوا ہی ہوتے ہیں اور عملی طور پر یہ خلیج کم کرنے کی پرخلوص کوشش نہیں کی جاتی اور پھر فیصل آباد جیسا پولیس گردی کا کوئی نہ کوئی آئے دن ہونے والا واقعہ پولیس اور عوام کے درمیان نفرت اور دوری بڑھا دیتا ہے۔

ملک میں نئی حکومت آتے ہی فیصل آباد میں پولیس نے اپنی جس بربریت کا مظاہرہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے ساتھ کیا اسے وفاقی وزیر سعد رفیق اور (ن) لیگ کے رکن قومی اسمبلی عابد شیر علی نے شرمناک قرار دیا جب کہ پنجاب کے ایک سینئر وزیر نے اس بہیمانہ تشدد پر جو بیان دیا ہے اس سے ملک بھر کے عوام کو مایوسی ہوئی ہے۔

فیصل آباد پولیس کی یہ عوام دشمنی ہر ٹی وی چینل نے جس طرح نمایاں کرکے دکھائی اس سے پنجاب پولیس کے خلاف عوام کی نفرت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس واقعے سے ایک ماہ قبل تک میاں نواز شریف اور شہباز شریف خود ایسے مظاہروں کی حمایت کرتے تھے اور مظاہرین کے احتجاج کو حق بجانب قرار دیتے تھے اور خادم اعلیٰ نے تو بطور احتجاج مینار پاکستان پر لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاجی کیمپ بھی لگایا تھا۔ وزیر موصوف کا یہ کہنا کہ ہمیں خود بھی اس کی اہمیت کا احساس ہے، درست ہے، مگرانھوں نے خود اس لوڈشیڈنگ سے پہنچنے والی تکالیف برداشت نہیں کیں۔

انھوں نے اپنی حکومت کے 5 سال ٹھنڈے کمروں میں گزارے ہیں، اے سی گاڑیوں میں سفر کیا ہے ۔ وہ ایسے گھروں میں رہے ہیں جہاں بجلی جاتے ہی جنریٹر چل جاتے ہیں۔ جن غریبوں کو یہ سہولیات حاصل نہیں جو اٹھارہ بیس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ اور موسم کی سختی برداشت کرتے آرہے ہیں، جن کے کاروبار بجلی نہ ہونے سے تباہ ہوکر رہ گئے ہیں اور وہ بیروزگار کیے جارہے ہوں اور ان کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آگئی ہو، جنھیں سخت گرمی میں دن کا چین میسر ہو نہ رات کی نیند نصیب ہورہی ہو تو اپنی زندگی اور اپنے آپ سے ہی بیزار یہ لوگ جو بجلی نہ ملنے کے باوجود قرض لے کر واپڈا کے بل ادا کرنے پر بھی مجبور ہوں وہ تنگ آمد بجنگ آمد ان مظالم کے خلاف احتجاج کرنے سڑکوں پر آجائیں تو پولیس ان سے وہ سلوک کرے جو کسی مہذب تو کیا کسی غیر مہذب معاشرے میں بھی نہ ہوتا ہو کہاں کی انسانیت ہے۔

لگتا ہے ان درندہ صفت پولیس اہلکاروں کو انسانیت کے احترام کی تربیت ہی نہیں دی گئی جو مظاہرین کو اپنا ازلی دشمن سمجھ کر کچھ اس طرح ٹوٹے جیسے مظاہرین سے بڑا مجرم کوئی اور نہ ہو۔ لوڈشیڈنگ اور سخت گرمی سے متاثر تو یہ پولیس اہلکار خود بھی دیگر شہریوں کی طرح ہورہے ہیں مگر مظاہرین نے ان پولیس اہلکاروں کا کیا بگاڑ دیا تھا کہ وہ اپنے ہی بھائیوں کے دشمن بن گئے اور انھوں نے بچے دیکھے نہ خواتین، چادر اور چہار دیواری کا تقدس پامال کرتے رہے اور کلہاڑیوں سے گھروں کے دروازے تک توڑ دیے گئے۔ یہ پولیس گردی پہلی بار نہیں ہوئی بلکہ یہ عوام پر ظلم کے پہاڑ ڈھانے کا وہ تسلسل ہے جسے روکنے کی کبھی کوشش ہی نہیں کی گئی۔ پولیس کے یہ مظالم صرف پنجاب تک محدود نہیں بلکہ دیگر صوبوں میں بھی ہیں۔

کئی عشروں سے پولیس بھرتی کے وقت امیدوار کا حسب نسب دیکھنے کے بجائے رشوت دیکھی جاتی ہے یا بڑی سفارش جس کے بعد رنگروٹ کو تربیت کے لیے جس پولیس اسکول میں بھیجا جاتا ہے ان کا حال پولیس تھانوں اور پولیس لائنز سے بھی برا ہے۔ پولیس اسکولوں میں انسٹرکٹرز نئے رنگروٹوں کو تربیت کم دیتے ہیں اور ان سے غیر انسانی و غیر اخلاقی سلوک زیادہ کرتے ہیں۔ رشوت نہ دینے پر انھیں قانونی سہولت تک نہیں ملتی بلکہ انھیں فحش گالیاں دی جاتی ہیں، ان کی تذلیل کی جاتی ہے اور جب وہ یہ سب کچھ برداشت کرکے عملی طور پر پولیس اہلکار بن جاتا ہے تو پوسٹنگ کے لیے اسے اپنے اعلیٰ افسران کے سویلین اسٹاف اور پھر پولیس لائن اور تھانوں میں جس سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس کے بعد مظاہرے روکنے یا لوگوںکو منتشر کرنے وہ میدان میں لایا جاتا ہے تو وہ عوام کو ہی اپنا سب سے بڑا دشمن گردانتا ہے اور موقع ملتے ہی اپنے ساتھ ہونیوالے مظالم کا بدلہ لینا شروع کردیتا ہے اور فیصل آباد جیسی پولیس گردی میں ملوث ہوکر حکومتوں کی بدنامی کا باعث بنتا ہے۔

سعد رفیق اور رانا ثناء اللہ خود بھی سیاست کے باعث پولیس کے بہیمانہ سلوک کا نشانہ بن چکے ہیں۔ اکثر سیاسی رہنما اپوزیشن میں ہوتے ہوئے پولیس کے زخم کھائے ہوئے ہیں مگر اقتدار میں آکر وہ پولیس مظالم اس لیے بھول جاتے ہیں کہ خود انھیں بھی اپنے مخالفین کو سبق سکھانے کے لیے ایسے ہی پولیس اہلکاروں کی ضرورت ہوتی ہے، مگر مظاہرہ کرنیوالے اپوزیشن کے کارکن نہیں بلکہ لوڈشیڈنگ کے ستائے ہوئے تھے جن کے اشتعال کو مناسب طریقے سے ختم کیا جاسکتا تھا۔

1992 کے کراچی آپریشن نے بھی پولیس کی کرپشن اور بے گناہوں کے ماورائے عدالت قتل کے سنگین اور شرمناک ریکارڈ قائم کیے تھے اور ردعمل میں پولیس چھپتی پھرتی تھی اور اپنا مورال گنوا بیٹھی تھی، ایسے حالات میں پنجاب پولیس کے ایک قابل افسر رانا مقبول احمد نے آئی جی پولیس سندھ کی حیثیت سے جو اقدامات کیے تھے انھیں شہری ہی نہیں پولیس اہلکار بھی یاد کرتے ہیں۔ ان دنوں پولیس سے عوام کی نفرت ختم کرانے کے لیے آئی جی رانا مقبول نے پولیس کمیونٹی سروس شروع کرائی تھی اور پولیس اہلکاروں کو عوام کا حقیقی طور پر خادم بنانے کے لیے انھیں پابند کیا تھا کہ وہ ایمرجنسی میں شہریوں کو دودھ، دوائیں و دیگر اشیائے ضرورت لاکر دینے میں مدد دیں۔

ایمرجنسی میں ضرورت مند شہریوں کی مدد اور تعاون کریں اور چیکنگ کے دوران پہلے سلام کریں۔ یہ صرف ہدایات نہیں تھیں بلکہ ان پر عمل کرایا گیا اور خود پولیس اہلکاروں کا مورال بلند کراکر ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیاں ختم اور ان کے مسائل بھی حل کرائے تھے اور انھیں رکی ہوئی ترقیاں دلائی تھیں۔ رانا مقبول جیسے افسر اب بھی ہیں اور رانا مقبول کو اچھی منفرد اور اچھی قابلیت کے باعث وزیر اعلیٰ پنجاب کا مشیر بنایا گیا ہے جن کی صلاحیتوں سے پنجاب کی بے لگام پولیس کی اصلاح کی جاسکتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔